برما کے مسلمانوں کی سفارتی مدد کی جائے
اس خاموشی اور بے حسی کی وجہ سے ہی پوری دنیا میں مسلمانوں کو مطعون کیا جا رہا ہے
اس خاموشی اور بے حسی کی وجہ سے ہی پوری دنیا میں مسلمانوں کو مطعون کیا جا رہا ہے, رائٹرز
KARACHI:
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران برما میں مسلمانوں کے قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کرنا کہ برما (میانمار) کی حکومت حالات پر قابو پا لے گی دراصل ایک رسمی بیان ہے جس میں برما میں تشدد آمیز سلوک کے شکار روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار تو کیا گیا ہے لیکن اس مسلم کیونٹی کے ساتھ بہیمانہ سلوک پر میانمار حکومت کی بالکل کوئی مذمت نہیں کی گئی نہ ہی اس مسلم کمیونٹی کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میانمار میں روہنگیا مسلم کمیونٹی کے قتل عام کی شدید مذمت اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ اس انداز میں کسی مخصوص کمیونٹی پر ظلم و ستم ڈھانا بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری پر برمی حکومت کی خاموشی پریشان کن ہے۔ عمران خان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی ممکنہ نسل کشی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کرے۔
ہمارے خیال میں یہ ایک مناسب مطالبہ یا تجویز ہے جس پر حکومت کو توجہ دینا چاہیے۔ اکیلا پاکستان ہی کیا پورا عام اسلام برمی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک پر خاموشی کی تصویر بنا ہوا ہے' کہیں سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی ہے۔ عالم اسلام اور امت مسلمہ کا دم بھرنے اور دعوے کرنے والی مذہبی جماعتیں بھی نہ جانے کیوں مہربلب ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی کانفرنس تنظیم مسلسل چُپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے۔
تیونس' مصر' لیبیا' افغانستان اور عراق کی صورتحال سب کے سامنے ہے' شام میں جو حالات چل رہے ہیں وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور برما و آسام میں مسلمانوں کے حقوق جس طرح پامال کیے جا رہے ہیں وہ بالکل سامنے کی بات ہے لیکن مسلمانوں کی اس سب سے بڑی تنظیم کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا کسی مشورے سے نہیں نوازا گیا کہ کس طرح ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ غالباً اسی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی یا تخریب کاری کی کوئی واردات ہو جائے تو اس کا ذمے دار کسی نہ کسی مسلم ملک کو ٹھہرایا جاتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس خاموشی اور بے حسی کی وجہ سے ہی پوری دنیا میں مسلمانوں کو مطعون کیا جا رہا ہے اور ان پر طرح طرح کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ برما کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی نہ صرف مذمت کی جائے بلکہ برما کی حکومت سے سفارتی سطح پر یہ جانب دارانہ طرز عمل روکنے کے لیے بات بھی کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ اس سلوک کی مذمت نہ کی گئی تو یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ برما کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی بھی وہاں روہنگیا مسلم کمیونٹی کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک پر خاموش ہیں' ان سے یہ توقع نہیں تھی۔ بہرحال یہ طے ہے کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا سے آواز بلند کی جائے گی تو ہی اس ظلم و ستم کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران برما میں مسلمانوں کے قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کرنا کہ برما (میانمار) کی حکومت حالات پر قابو پا لے گی دراصل ایک رسمی بیان ہے جس میں برما میں تشدد آمیز سلوک کے شکار روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار تو کیا گیا ہے لیکن اس مسلم کیونٹی کے ساتھ بہیمانہ سلوک پر میانمار حکومت کی بالکل کوئی مذمت نہیں کی گئی نہ ہی اس مسلم کمیونٹی کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میانمار میں روہنگیا مسلم کمیونٹی کے قتل عام کی شدید مذمت اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ اس انداز میں کسی مخصوص کمیونٹی پر ظلم و ستم ڈھانا بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری پر برمی حکومت کی خاموشی پریشان کن ہے۔ عمران خان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی ممکنہ نسل کشی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کرے۔
ہمارے خیال میں یہ ایک مناسب مطالبہ یا تجویز ہے جس پر حکومت کو توجہ دینا چاہیے۔ اکیلا پاکستان ہی کیا پورا عام اسلام برمی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک پر خاموشی کی تصویر بنا ہوا ہے' کہیں سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی ہے۔ عالم اسلام اور امت مسلمہ کا دم بھرنے اور دعوے کرنے والی مذہبی جماعتیں بھی نہ جانے کیوں مہربلب ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی کانفرنس تنظیم مسلسل چُپ کا روزہ رکھے ہوئے ہے۔
تیونس' مصر' لیبیا' افغانستان اور عراق کی صورتحال سب کے سامنے ہے' شام میں جو حالات چل رہے ہیں وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور برما و آسام میں مسلمانوں کے حقوق جس طرح پامال کیے جا رہے ہیں وہ بالکل سامنے کی بات ہے لیکن مسلمانوں کی اس سب سے بڑی تنظیم کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا کسی مشورے سے نہیں نوازا گیا کہ کس طرح ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ غالباً اسی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی یا تخریب کاری کی کوئی واردات ہو جائے تو اس کا ذمے دار کسی نہ کسی مسلم ملک کو ٹھہرایا جاتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس خاموشی اور بے حسی کی وجہ سے ہی پوری دنیا میں مسلمانوں کو مطعون کیا جا رہا ہے اور ان پر طرح طرح کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ برما کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی نہ صرف مذمت کی جائے بلکہ برما کی حکومت سے سفارتی سطح پر یہ جانب دارانہ طرز عمل روکنے کے لیے بات بھی کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ اس سلوک کی مذمت نہ کی گئی تو یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ برما کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی بھی وہاں روہنگیا مسلم کمیونٹی کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک پر خاموش ہیں' ان سے یہ توقع نہیں تھی۔ بہرحال یہ طے ہے کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا سے آواز بلند کی جائے گی تو ہی اس ظلم و ستم کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔