ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں
ہمارے ملک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ہمارے ملک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، فوٹو ایکسپریس
آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد تیزی سے پھیلتی ہوئی اس بیماری کے بارے میں عوامی سطح پر آگہی بڑھانا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر بارہ افراد میں سے ایک شخص اس بیماری کا شکار ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو یہ شرح آٹھ سے دس فیصد تک ہے۔ ہمارے ملک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی کئی وجوہ ہیں۔ یہاں خون کے انتقال اور دانتوں کے علاج میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا' جنسی تعلقات میں حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں'
حجام کی دکانوں پر نئے بلیڈوں اور جراثیم سے پاک اوزاروں کے استعمال کے بارے میں اگرچہ آگہی بڑھی ہے تاہم یہ آگہی شہری علاقوں تک محدود ہے اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں اب بھی حجامت یا شیو کے لیے ایک ایک اوزار کئی کئی ماہ تک استعمال کیا جاتا ہے اور ان اوزاروں کو کبھی جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں آلودہ پانی' ناقص غذائیں اور بند ماحول بھی ہیپاٹائٹس سمیت متعدد بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔
ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق غیرمحفوظ طریقے سے انجیکشن لگوانا بھی ہیپاٹائٹس پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بیماری کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات عمل میں لائے جائیں' ضروری ہے کہ عوام تک صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس بیماری کے پھیلائو کا باعث بننے والے دیگر عوامل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے۔
حکومت کو کھانے پینے کی چیزوں میں کی جانے والی ملاوٹ روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ اس سے بھی لوگوں کے یرقان میں مبتلا ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس حوالے سے ساری ذمے داری حکومت پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کو خود بھی اپنی صحت کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے
کیونکہ اس بیماری کا علاج مشکل اور مہنگا تاہم حفاظتی تدابیر اختیار کر کے اس سے بچنا آسان ہے۔ زندگی گزارنے کے صحت مندانہ طریقے اپنائے جائیں تو بیماریاں خود بخود دور رہتی ہیں۔
پاکستان کی بات کی جائے تو یہ شرح آٹھ سے دس فیصد تک ہے۔ ہمارے ملک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی کئی وجوہ ہیں۔ یہاں خون کے انتقال اور دانتوں کے علاج میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا' جنسی تعلقات میں حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں'
حجام کی دکانوں پر نئے بلیڈوں اور جراثیم سے پاک اوزاروں کے استعمال کے بارے میں اگرچہ آگہی بڑھی ہے تاہم یہ آگہی شہری علاقوں تک محدود ہے اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں اب بھی حجامت یا شیو کے لیے ایک ایک اوزار کئی کئی ماہ تک استعمال کیا جاتا ہے اور ان اوزاروں کو کبھی جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں آلودہ پانی' ناقص غذائیں اور بند ماحول بھی ہیپاٹائٹس سمیت متعدد بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔
ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق غیرمحفوظ طریقے سے انجیکشن لگوانا بھی ہیپاٹائٹس پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بیماری کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات عمل میں لائے جائیں' ضروری ہے کہ عوام تک صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس بیماری کے پھیلائو کا باعث بننے والے دیگر عوامل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے۔
حکومت کو کھانے پینے کی چیزوں میں کی جانے والی ملاوٹ روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ اس سے بھی لوگوں کے یرقان میں مبتلا ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس حوالے سے ساری ذمے داری حکومت پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کو خود بھی اپنی صحت کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے
کیونکہ اس بیماری کا علاج مشکل اور مہنگا تاہم حفاظتی تدابیر اختیار کر کے اس سے بچنا آسان ہے۔ زندگی گزارنے کے صحت مندانہ طریقے اپنائے جائیں تو بیماریاں خود بخود دور رہتی ہیں۔