ایف بی آرنے 10جنوری کوبورڈان کونسل کااجلاس طلب کرلیا
ریونیوبورڈکی جولائی تا دسمبرکارکردگی اور ٹیکس وصولیوں کا جائزہ لیا جائیگا
اجلاس میں بورڈ ان کونسل کے گزشتہ اجلاس میں اربوں روپے کے جعلی ریفنڈز کی روک تھام کیلیے منظور کیے جانے والے رسک مینجمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔ فوٹو: فائل
ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر)کے دوران ریونیو بورڈ کی کارکردگی اور ٹیکس وصولیوں کا جائزہ لینے کیلیے 10جنوری کو بورڈ ان کونسل کا اجلاس طلب کرلیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بورڈ ان کونسل کے گزشتہ اجلاس میں اربوں روپے کے جعلی ریفنڈز کی روک تھام کیلیے منظور کیے جانے والے رسک مینجمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے ملک بھر میں رسک مینجمنٹ سسٹم کی کلیئرنس کے بغیر سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی پر پابندی عائد کی ہے۔
جس کے تحت آئندہ الیکٹرانک سسٹم سے فلٹر ہونے کے بعد ٹیکس دہندگان کے ریفنڈ کلیمزکی کلیئرنس ہو سکے گی اور مذکورہ سسٹم سے کلیئرنس کے بغیر ٹیکس دہندگان کو ریفنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ بورڈ ان کونسل کے اجلاس میں رسک مینجمنٹ سسٹم کی کامیابی کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی جائے گی اور جعلی ریفنڈز کی روک تھام کیلیے اس سسٹم کے بارے میں افسران کو آگاہ کیا جائیگا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بورڈ ان کونسل کے گزشتہ اجلاس میں اربوں روپے کے جعلی ریفنڈز کی روک تھام کیلیے منظور کیے جانے والے رسک مینجمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے ملک بھر میں رسک مینجمنٹ سسٹم کی کلیئرنس کے بغیر سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی پر پابندی عائد کی ہے۔
جس کے تحت آئندہ الیکٹرانک سسٹم سے فلٹر ہونے کے بعد ٹیکس دہندگان کے ریفنڈ کلیمزکی کلیئرنس ہو سکے گی اور مذکورہ سسٹم سے کلیئرنس کے بغیر ٹیکس دہندگان کو ریفنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ بورڈ ان کونسل کے اجلاس میں رسک مینجمنٹ سسٹم کی کامیابی کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی جائے گی اور جعلی ریفنڈز کی روک تھام کیلیے اس سسٹم کے بارے میں افسران کو آگاہ کیا جائیگا۔