الیکشن کا التوا ہر گز برداشت نہیں کریں گے قادر مگسی

موجودہ حکومت نے5 سال سیاسی موقع پرستی، لوٹ مار، اقربا پروری میں گزار دیے

قادر مگسی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اورشریک چیئرمین آصف زرداری نے27 دسمبر کو جو خطاب کیا اس میں سندھ بحیثیت ایجنڈہ موجود نہیں تھا۔ فوٹو: فائل

سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ علامہ طاہر القادری کے لانگ مارچ کی حمایت نہیںکرتے، معلوم نہیں کہ ان کا آصف علی زرداری سے کیا مک مکا ہوا ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ ہم آہنگی سے ان کا مستقبل کا منصوبہ واضح ہوجاتا ہے لیکن عوام الیکشن کا التوا کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

حیدرآباد کے مقامی ہوٹل میں پارٹی کی سندھ کونسل کے اجلاس کے بعد وائس چیئرمین حیدر شاہانی، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر رجب میمن ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علامہ طاہر القادری کی بحیثیت اسکالر ہم قدر کرتے ہیں، سیاست اور ریاست الگ الگ نہیں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اورشریک چیئرمین آصف زرداری نے27 دسمبر کو جو خطاب کیا اس میں سندھ بحیثیت ایجنڈہ موجود نہیں تھا، دونوں کاخطاب پرانی کیسٹ تھا جس میں کوئی نئی بات نہیں کی گئی جوکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنائے۔


سندھ اس وقت دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کا شکار ہے، دہشت گردی کے خوف سے موبائل سروس بند کردی جاتی ہے جبکہ سیلاب زدگان کا کوئی پرسان حال نہیں، موجودہ حکومت نے5 سال سیاسی موقع پرستی، لوٹ مار، اقربا پروری اور دیگرمنفی رجحانات کی سرپرستی میں گزار دیے اور ملک کو کھربوں روپے کامقروض بنادیا، پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ ایسا کوئی سانحہ رونما کرادیا جائے کہ اس کا اقتدار جاری رہے یا پھر عام انتخابات ملتوی کراکر ملک کو کسی فوجی آمر کے حوالے کر دیا جائے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پیپلزپارٹی فوری طور عام انتخابات کی تاریخ کااعلان کرے۔اگر انتخابات کے التواء کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے تو ایس ٹی پی مخالفت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے کے لیے بے نظیر بھٹو کیس کے حوالے سے لفظی دباؤ ڈالا جارہاہے، حکمرانوں کی حکمت عملی یہ ہے کہ عدالت میں اتنے سیاسی مقدمات لے کرجایا جائے کہ وہ دیگرمقدمات پر توجہ نہ دے سکے۔ ایس ٹی پی عام انتخابات سپنا کے باہمی مشورے سے لڑے گی، ان انتخابات میں ن لیگ، فنکنشل لیگ، جے یوآئی اور اے این پی کے ساتھ علاقائی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ دریں اثناء سندھ کونسل کے اجلاس میں سندھ بھر سے نوے وفودشریک ہوئے، اجلاس میں متعدد قراردادیں متفقہ طورپر منظور کی گئیں۔

حیدرآباد (نمائندہ ایکسپریس) سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ علامہ طاہر القادری کے لانگ مارچ کی حمایت نہیںکرتے، معلوم نہیں کہ ان کا آصف علی زرداری سے کیا مک مکا ہوا ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ ہم آہنگی سے ان کا مستقبل کا منصوبہ واضح ہوجاتا ہے لیکن عوام الیکشن کا التوا کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ حیدرآباد کے مقامی ہوٹل میں پارٹی کی سندھ کونسل کے اجلاس کے بعد وائس چیئرمین حیدر شاہانی، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر رجب میمن ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علامہ طاہر القادریکی بحیثیت اسکالر ہم قدر کرتے ہیں، سیاست اور ریاست الگ الگ نہیں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اورشریک چیئرمین آصف زرداری نے27 دسمبر کو جو خطاب کیا اس میں سندھ بحیثیت ایجنڈہ موجود نہیں تھا، دونوں کاخطاب پرانی کیسٹ تھا جس میں کوئی نئی بات نہیں کی گئی جوکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنائے، سندھ اس وقت دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کا شکار ہے، دہشت گردی کے خوف سے موبائل سروس بند کردی جاتی ہے جبکہ سیلاب زدگان کا کوئی پرسان حال نہیں، موجودہ حکومت نے5 سال سیاسی موقع پرستی، لوٹ مار، اقربا پروری اور دیگرمنفی رجحانات کی سرپرستی میں گزار دیے اور ملک کو کھربوں روپے کامقروض بنادیا، پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ ایسا کوئی سانحہ رونما کرادیا جائے کہ اس کا اقتدار جاری رہے یا پھر عام انتخابات ملتوی کراکر ملک کو کسی فوجی آمر کے حوالے کر دیا جائے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پیپلزپارٹی فوری طور عام انتخابات کی تاریخ کااعلان کرے۔اگر انتخابات کے التواء کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے تو ایس ٹی پی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے کے لیے بے نظیر بھٹو کیس کے حوالے سے لفظی دباؤ ڈالا جارہاہے، حکمرانوں کی حکمت عملی یہ ہے کہ عدالت میں اتنے سیاسی مقدمات لے کرجایا جائے کہ وہ دیگرمقدمات پر توجہ نہ دے سکے۔ ایس ٹی پی عام انتخابات سپنا کے باہمی مشورے سے لڑے گی، ان انتخابات میں ن لیگ، فنکنشل لیگ، جے یوآئی اور اے این پی کے ساتھ علاقائی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ دریں اثناء سندھ کونسل کے اجلاس میں سندھ بھر سے نوے وفودشریک ہوئے، اجلاس میں متعدد قراردادیں متفقہ طورپر منظور کی گئیں۔
Load Next Story