پہلا ون ڈے پلیئرز کے ارمان بارش میں بہنے کا امکان
پاکستان نے ٹی 20 میں عمدہ کارکردگی کا انعام شعیب ملک اور محمد عرفان کو ون ڈے اسکواڈ میں شمولیت کی صورت میں دیا۔
چنئی: پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق بھارتی ہم منصب مہندرا سنگھ دھونی کے ہمراہ ون ڈے سیریز کی ٹرافی تھامے پوز دے رہے ہیں ۔ فوٹو : اے ایف پی
اعصاب شکن ٹوئنٹی20 میچز کے بعد اب ون ڈے میں بھی پاک بھارت معرکے کیلیے میدان سج گیا۔تین میچز کی سیریز کا آغاز آج سے ہورہا ہے۔
چنئی میں گذشتہ روز سے بارش کا سلسلہ جاری اور اتوار کیلیے بھی پیشگوئی کی گئی ہے، یوں پلیئرزکے ارمان بارش میں بہنے کا امکان موجود ہے، البتہ اگر موسم نے ساتھ دیا تو ایک اور اعصاب شکن مقابلہ شائقین کا منتظر ہو گا. پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ کارکردگی کا انعام شعیب ملک اور محمد عرفان کو ون ڈے اسکواڈ میں شمولیت کی صورت میں دیا، یونس خان بھی ٹیم میں شامل ہیں، ان کا بھارت کیخلاف ریکارڈ خاصا متاثر کن اور وہ33 میچز میں3 سنچریوں و 6 ففٹیز کی مدد سے1171 رنز بنا چکے ہیں۔
کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ مثبت کرکٹ کھیلتے ہوئے فتح کی کوشش کریں گے، انھوں نے یونس کی موجودگی کو باعث تقویت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جونیئرز کی رہنمائی کا کام بھی انجام دیں گے۔ دوسری جانب بھارتی قائد مہندرا سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بولنگ اٹیک مکمل اور زیادہ مضبوط ہے، ان کے مطابق جس ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل رہا اس کی فتح کا امکان زیادہ ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق چنئی میں ہفتے سے بارش کا سلسلہ جاری اور اتوار کیلیے بھی پیشگوئی کی گئی ہے، اس سے میچ کے بغیر کوئی گیند پھینکے اختتام کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ہفتے کو بارش نے دونوں ٹیموں کو نیٹ پریکٹس کی بھی اجازت نہیں دی،اگر موسم اچھا رہا تو ٹی ٹوئنٹی کی طرح ون ڈے میں بھی دونوں ٹیموں کی جانب سے بہترین کھیل پیش کیا جائے گا۔
چدم برم اسٹیڈیم کی پچ یکساں بائونس کی حامل اور اسے ون ڈے میچ کیلیے بہترین قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم نئے کپتان مصباح الحق کے ساتھ سیریز میں شریک ہو گی،اوپنرز محمدحفیظ اور ناصر جمشید ماضی میں اپنی جوڑی کو کامیاب ثابت کر چکے، آل رائونڈر نے ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ کھیل کی بدولت پلیئر آف دی سیریز ایوارڈ بھی حاصل کیا جس سے ان کے حوصلے مزید توانا ہو گئے،مصباح الحق اور یونس خان جیسے سینئرز کی واپسی سے بیٹنگ کو تقویت حاصل ہوگئی، کامران اکمل اور عمر اکمل کی صورت میں مزید اچھے پلیئرز بھی موجود ہیں۔ بولنگ کے شعبے میں گرین شرٹس کو حریف پر واضح برتری حاصل ہے، عمر گل اہم پیسر ہوں گے جبکہ اسپنرسعید اجمل کا سامنا بھی میزبان بیٹسمینوں کیلیے آسان ٹاسک نہیں۔
کپتان مصباح الحق نے کہاکہ کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی جیسی کارکردگی برقرار رکھنا ہوگی، پہلی بار ٹیم بغیر کسی دبائو کے اچھی کرکٹ کھیل رہی ہے،جب ہم بھارت کیلیے روانہ ہوئے تھے تو یہی ہمارا اصل مقصد تھا، ون ڈے میں بھی ہم آزادانہ انداز سے اپنا اصل کھیل پیش کریں گے، انھوں نے کہا کہ مختصر طرز کے دونوں میچز میں نصف سنچری بنانے والے حفیظ اب اپنی اصل اوپننگ پوزیشن پر کھیلیں گے، مجھے امید ہے کہ وہ ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کریں گے، ان کی کارکردگی ٹیم کیلیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، وہ سیریز میں ہمارے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاک بھارت میچز زیادہ دبائو کے حامل ہوتے ہیں، یونس خان کئی برس سے روایتی حریف کیخلاف اچھا کھیل پیش کرتے چلے آئے ہیں۔
نوجوان پلیئرز کو بھی ان کے تجربے سے فائدہ ہو گا۔ مصباح نے کہا کہ ہماری ٹیم مثبت کرکٹ کھیلتے ہوئے فتح کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب بھارت کیلیے سب سے مثبت بات یوراج سنگھ کی عمدہ فارم ہے، انھوں نے روایتی حریف سے مختصر طرز کے دوسرے میچ میں صرف 36 گیندوں پر 72 کی برق رفتار اننگز کھیلی تھی، گذشتہ برس ورلڈکپ کے بہترین پلیئر قرار پانے والے لیفٹ ہینڈر حالیہ سیریز کیلیے بھی ایسے ہی عزائم رکھتے ہیں۔میزبان ٹیم کیلیے بڑا مسئلہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ ہو گی، وریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر حالیہ عرصے کے دوران اچھی فارم میںدکھائی نہیں دیے، ون ڈائون پر ویرت کوہلی کی کارکردگی بھی شایان شان نہیں، اگر بھارت کو سیریز جیتنی ہے تو ان تینوں کو بہترین پرفارم کرنا ہوگا۔
مڈل آرڈر میں جگہ کیلیے اجنکیا راہنے اور روہت شرما میں مقابلہ ہے، یوراج سنگھ اور سریش رائنا کا انتخاب یقینی ہو گا۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 3 وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر بھونیشور کمار کا ون ڈے ڈیبیو متوقع ہے، ان کے ساتھ اشوک ڈینڈا اور ایشانت شرما موجود ہوں گے۔ اسپن اٹیک کی ذمہ داری روی چندرایشون سنبھالیں گے، اگر کپتان نے دوسرے اسپنر امیت مشرا کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا تو ایشانت یا بھونیشور کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا دھونی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کا بولنگ اٹیک مکمل اور زیادہ مضبوط ہے، ان کے مطابق جس ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل رہا اس کی فتح کا امکان زیادہ ہو گا، میڈیا سے بات چیت میں بھارتی قائد نے مزید کہا کہ مہمان ٹیم کے پاس تجربہ کار بیٹسمین بھی موجود جو کسی بھی کنڈیشنز میں اچھا پرفارم کر سکتے ہیں۔
چنئی میں گذشتہ روز سے بارش کا سلسلہ جاری اور اتوار کیلیے بھی پیشگوئی کی گئی ہے، یوں پلیئرزکے ارمان بارش میں بہنے کا امکان موجود ہے، البتہ اگر موسم نے ساتھ دیا تو ایک اور اعصاب شکن مقابلہ شائقین کا منتظر ہو گا. پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ کارکردگی کا انعام شعیب ملک اور محمد عرفان کو ون ڈے اسکواڈ میں شمولیت کی صورت میں دیا، یونس خان بھی ٹیم میں شامل ہیں، ان کا بھارت کیخلاف ریکارڈ خاصا متاثر کن اور وہ33 میچز میں3 سنچریوں و 6 ففٹیز کی مدد سے1171 رنز بنا چکے ہیں۔
کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ مثبت کرکٹ کھیلتے ہوئے فتح کی کوشش کریں گے، انھوں نے یونس کی موجودگی کو باعث تقویت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جونیئرز کی رہنمائی کا کام بھی انجام دیں گے۔ دوسری جانب بھارتی قائد مہندرا سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بولنگ اٹیک مکمل اور زیادہ مضبوط ہے، ان کے مطابق جس ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل رہا اس کی فتح کا امکان زیادہ ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق چنئی میں ہفتے سے بارش کا سلسلہ جاری اور اتوار کیلیے بھی پیشگوئی کی گئی ہے، اس سے میچ کے بغیر کوئی گیند پھینکے اختتام کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ہفتے کو بارش نے دونوں ٹیموں کو نیٹ پریکٹس کی بھی اجازت نہیں دی،اگر موسم اچھا رہا تو ٹی ٹوئنٹی کی طرح ون ڈے میں بھی دونوں ٹیموں کی جانب سے بہترین کھیل پیش کیا جائے گا۔
چدم برم اسٹیڈیم کی پچ یکساں بائونس کی حامل اور اسے ون ڈے میچ کیلیے بہترین قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم نئے کپتان مصباح الحق کے ساتھ سیریز میں شریک ہو گی،اوپنرز محمدحفیظ اور ناصر جمشید ماضی میں اپنی جوڑی کو کامیاب ثابت کر چکے، آل رائونڈر نے ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ کھیل کی بدولت پلیئر آف دی سیریز ایوارڈ بھی حاصل کیا جس سے ان کے حوصلے مزید توانا ہو گئے،مصباح الحق اور یونس خان جیسے سینئرز کی واپسی سے بیٹنگ کو تقویت حاصل ہوگئی، کامران اکمل اور عمر اکمل کی صورت میں مزید اچھے پلیئرز بھی موجود ہیں۔ بولنگ کے شعبے میں گرین شرٹس کو حریف پر واضح برتری حاصل ہے، عمر گل اہم پیسر ہوں گے جبکہ اسپنرسعید اجمل کا سامنا بھی میزبان بیٹسمینوں کیلیے آسان ٹاسک نہیں۔
کپتان مصباح الحق نے کہاکہ کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی جیسی کارکردگی برقرار رکھنا ہوگی، پہلی بار ٹیم بغیر کسی دبائو کے اچھی کرکٹ کھیل رہی ہے،جب ہم بھارت کیلیے روانہ ہوئے تھے تو یہی ہمارا اصل مقصد تھا، ون ڈے میں بھی ہم آزادانہ انداز سے اپنا اصل کھیل پیش کریں گے، انھوں نے کہا کہ مختصر طرز کے دونوں میچز میں نصف سنچری بنانے والے حفیظ اب اپنی اصل اوپننگ پوزیشن پر کھیلیں گے، مجھے امید ہے کہ وہ ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کریں گے، ان کی کارکردگی ٹیم کیلیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، وہ سیریز میں ہمارے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاک بھارت میچز زیادہ دبائو کے حامل ہوتے ہیں، یونس خان کئی برس سے روایتی حریف کیخلاف اچھا کھیل پیش کرتے چلے آئے ہیں۔
نوجوان پلیئرز کو بھی ان کے تجربے سے فائدہ ہو گا۔ مصباح نے کہا کہ ہماری ٹیم مثبت کرکٹ کھیلتے ہوئے فتح کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب بھارت کیلیے سب سے مثبت بات یوراج سنگھ کی عمدہ فارم ہے، انھوں نے روایتی حریف سے مختصر طرز کے دوسرے میچ میں صرف 36 گیندوں پر 72 کی برق رفتار اننگز کھیلی تھی، گذشتہ برس ورلڈکپ کے بہترین پلیئر قرار پانے والے لیفٹ ہینڈر حالیہ سیریز کیلیے بھی ایسے ہی عزائم رکھتے ہیں۔میزبان ٹیم کیلیے بڑا مسئلہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ ہو گی، وریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر حالیہ عرصے کے دوران اچھی فارم میںدکھائی نہیں دیے، ون ڈائون پر ویرت کوہلی کی کارکردگی بھی شایان شان نہیں، اگر بھارت کو سیریز جیتنی ہے تو ان تینوں کو بہترین پرفارم کرنا ہوگا۔
مڈل آرڈر میں جگہ کیلیے اجنکیا راہنے اور روہت شرما میں مقابلہ ہے، یوراج سنگھ اور سریش رائنا کا انتخاب یقینی ہو گا۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 3 وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر بھونیشور کمار کا ون ڈے ڈیبیو متوقع ہے، ان کے ساتھ اشوک ڈینڈا اور ایشانت شرما موجود ہوں گے۔ اسپن اٹیک کی ذمہ داری روی چندرایشون سنبھالیں گے، اگر کپتان نے دوسرے اسپنر امیت مشرا کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا تو ایشانت یا بھونیشور کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا دھونی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کا بولنگ اٹیک مکمل اور زیادہ مضبوط ہے، ان کے مطابق جس ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل رہا اس کی فتح کا امکان زیادہ ہو گا، میڈیا سے بات چیت میں بھارتی قائد نے مزید کہا کہ مہمان ٹیم کے پاس تجربہ کار بیٹسمین بھی موجود جو کسی بھی کنڈیشنز میں اچھا پرفارم کر سکتے ہیں۔