پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا ضروری ہے

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا اور مختلف مقامات پر گیٹ لگانا.........

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا اور مختلف مقامات پر گیٹ لگانا. فوٹو: اے ایف پی

ISLAMABAD:
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن کے درمیان پیر کو جی ایچ کیوراولپنڈی میںاہم ملاقات ہوئی ہے ۔دونوں شخصیات نے شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ بھی کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل نکلسن کے ساتھ ملاقات میں انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) اور ریزولوٹ سپورٹ مشن (آرایس ایم) کی افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا۔ انھوں نے افغانستان میں سیکیورٹی چیلنجز سے خود نمٹنے کے لیے افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق ریزولوٹ سپورٹ مشن کے مستقل تعاون کی تعریف کی۔پاک فوج کے سربراہ نے زور دیا کہ ریزولوٹ سپورٹ مشن دوطرفہ پاک افغان سرحدی انتظام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اس سے قبل امریکی کمانڈر جنرل نکلسن اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کا دورہ خاصا اہم ہے ۔جہاں پر انھیں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب اور سماجی ترقی کی سرگرمیوں بشمول عارضی طور پر نقل مکانی کرنیوالے افراد کی واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ جنرل نکلسن نے میرانشاہ بازار کا بھی دورہ کیا جہاں پر پاک فوج کی زیرنگرانی ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کیا۔ امریکی کمانڈر جنرل نکلسن نے پاک فوج کے کامیاب آپریشن کی تعریف کی۔ مہمان شخصیت نے دوطرفہ بارڈر سیکیورٹی سے متعلق کوآرڈی نیشن کی ضرورت کا اعتراف کیا۔


جنرل نکلسن کا شمالی وزیرستان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے 'اس سے انھیں اس علاقے میں پاکستان نے جو کچھ کیا ہے اس کے بارے میں خاصی آگاہی حاصل ہوگی۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کا نیٹ ورک بھی ٹوٹ گیا ہے۔ یہاں دہشت گردوں کی ایک طرح سے حکومت قائم تھی جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔ ضرب عضب کی وجہ سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں خاصی کمی آئی ہے تاہم اصل معاملہ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا ہے۔

پاکستان اپنی جانب سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہا ہے لیکن افغانستان اس حوالے سے ایسے اقدامات نہیں کر رہا جو دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں جس کے نتیجے میں وہاں چھپے ہوئے دہشت گرد پاک افغان سرحد کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان میں چونکہ نیٹو فورسز تعینات ہیں لہٰذا اس فورس کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس صورت حال کا ادراک کرے لیکن افغانستان کی حکومت چونکہ پاکستان کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کرتی ہے 'افغان نیشنل آرمی کی صلاحیت بھی خاصی کم ہے۔ افغان نیشنل آرمی کی تربیت ایسی نہیں ہے کہ وہ دہشت گردوں کی کسی بڑی کارروائی کا مقابلہ کر سکے۔ اسی لیے پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گرد بھی باآسانی وہاں چھپ جاتے ہیں اور وہاں سے پاکستان چلے آتے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان بھی افغانستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس صورت حال میں پاکستان اور افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے درمیان موثر رابطہ کاری انتہائی ضروری ہے۔اس کے لیے ایسے میکنزم کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے کو اطلاعات کی فراہمی سرعت سے ہو تاکہ دہشت گردوں کے خلاف برق رفتاری سے کارروائی ممکن ہو سکے۔ اس کے لیے پاک افغان سرحد کا محفوظ ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ پاک افغان سرحد جتنی زیادہ محفوظ ہو گی 'دہشت گردوں کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچے گا۔ اس حوالے سے افغانستان کی حکومت کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور پاک افغان سرحد کے حوالے سے اپنے روایتی موقف پر ڈٹے رہنے کے بجائے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لچک پیدا کرے۔یہ بات سب پر عیاں ہے کہ پاک افغان سرحد کے آر پار آنا جانا خاصا آسان ہے ' اس کا فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔

اب چونکہ غیرمعمولی حالات ہیں اس لیے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانا اور مختلف مقامات پر گیٹ لگانا 'ویزے کی پابندی عائد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کے لیے قانونی دستاویزات تیار کرائیں اور قانون کے مطابق ہی آنے جانے والوں کو مناسب سہولتیں دی جائیں لیکن بلا روک ٹوک آنے جانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور ممکن ہو تو دونوں حکومتوں کو کچھ وقت کے لیے سرحد پر پیدل کراسنگ بند کر دینی چاہیے۔ جب دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے تو پیدل کراسنگ بھی کھول دی جائے۔
Load Next Story