آخری وقت پر کسی کو جمہوری نظام لپیٹنے نہیں دینگے راجا پرویز
حکومت بنانے کی چابی عوام کے پاس ہے،جس کے حق میں فیصلہ کریں گے اسے اقتدار منتقل کردینگے
حکومت بنانے کی چابی عوام کے پاس ہے،جس کے حق میں فیصلہ کریں گے اسے اقتدار منتقل کردینگے فوٹو: فائل
وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ آخری وقت پر کسی کو جمہوری نظام لپیٹنے نہیں دیں گے۔
عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے، ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی، انتخابات کے راستے میں آنے والے عوامی غیض وغضب کا سامنا کریں گے،حکومت بنانے کی چابی عوام کے پاس ہے،جس کے حق میں فیصلہ کریں گے اسے اقتدار منتقل کردینگے، جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، جمہوریت کے بغیر ملکی نظم و نسق بہتر نہیں بنایا جاسکتا ہے، ہمیں ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے کے بجائے اپنے اپنے حصے کا کام خود کرنا ہوگا۔
کراچی چیمبرآف کامرس کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے استحکام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، اگرکسی کے دل میں خام خیالی ہے کہ وہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتار دے گا یا جمہوری نظام کے خلاف کسی سازش میں کامیاب ہوجائے گا تو میں ان عناصر کو واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ11بجکر59منٹ ہو یا ایک منٹ وہ جمہوری نظام کو ڈی ریل نہیں کرسکیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جمہوری نظام کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو عوام ازخود ناکام بنا دیں گے کیونکہ وہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔ آئندہ چند ماہ بہت اہم ہیںکیونکہ جمہوری حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے، پھر انتخابات ہونگے اور انتقال اقتدار کا مرحلہ آئے گا۔
انتخابات قوم کی امانت ہیں اورآئین میں درج طریقہ کار کے تحت جمہوری حکومت کی مدت کی تکمیل کے بعد نگران حکومت بنے گی، انتخابات میں کامیاب جماعت کو اقتدار منتقل کیا جائے گا۔ کسی بھی جماعت کو منتخب کرنا عوام کا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے، ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ ہی واحد ادارہ ہے جو ہر شہری کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو تمام ادارے اور عوام مضبوط ہونگے۔ حکومت نے ہر طرح کی تنقید خندہ پیشانی سے قبول کی تاہم حکومت کے مثبت اقدامات کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔ ہم نے کبھی ٹکرائو کی پالیسی اختیار نہیں کی کیونکہ اس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عدلیہ آزاد ہے اور ہم تمام فیصلوں پر عملدرآمد کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا اس وقت ملک کو دہشتگردی اور توانائی جیسے دو اہم چیلنجوں کا سامنا ہے،ان سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس جنگ میں کامیابی ہمیں حاصل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ توانائی کے بحران سے معیشت متاثرہورہی ہے، حکومت اس مسئلے سے آگاہ ہے، توانائی کے بحران کے خاتمے اورکراچی میں قیام امن کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے، ہم تاجروں کو ہرممکن تحفظ فراہم کریں گے اورکراچی سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب میں تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورتحال خراب ہونے اور توانائی کے بحران کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ، حکومت ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وقت پرصاف شفاف انتخابات کرائے جائیں گے ، حکومت بنانے کی چابی عوام کے پاس ہوگی ،عوام کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا، وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران چیف سیکریٹری سندھ کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ بلدیہ میں جلنے والی فیکٹری کے مالکان کے خلاف جو مقدمات درج کیے گئے ہیں ان پرنظرثانی کی جائے۔ میری ذاتی رائے میں یہ قتل کاکیس نہیں بنتا بلکہ ایک حادثہ تھا،حادثے ساری دنیا میں ہوتے ہیں۔کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیںگے۔
توانائی کا بحران 2007 سے جاری ہے۔ہم نے سسٹم میں3800 میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا ہے، افراط زر25 فیصد سے کم کرکے سنگل ڈیجٹ میں لے آئے ہیں۔ قبل ازیںگورنرہائوس میں راجہ پرویزاشرف سے امریکا میں پاکستانی سفیر شیری رحمن نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاک امریکام تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں، مستقبل میں ان تعلقات کی مضبوطی میں مزید وسعت آئے گی۔وزیراعظم سے وزیر مملکت خزانہ سلیم ایچ مانڈوی والا نے بھی ملاقات کی اور کراچی کی تاجر برادری کو درپیش مسائل سمیت دیگرامور پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔
عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے، ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی، انتخابات کے راستے میں آنے والے عوامی غیض وغضب کا سامنا کریں گے،حکومت بنانے کی چابی عوام کے پاس ہے،جس کے حق میں فیصلہ کریں گے اسے اقتدار منتقل کردینگے، جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، جمہوریت کے بغیر ملکی نظم و نسق بہتر نہیں بنایا جاسکتا ہے، ہمیں ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے کے بجائے اپنے اپنے حصے کا کام خود کرنا ہوگا۔
کراچی چیمبرآف کامرس کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے استحکام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، اگرکسی کے دل میں خام خیالی ہے کہ وہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتار دے گا یا جمہوری نظام کے خلاف کسی سازش میں کامیاب ہوجائے گا تو میں ان عناصر کو واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ11بجکر59منٹ ہو یا ایک منٹ وہ جمہوری نظام کو ڈی ریل نہیں کرسکیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جمہوری نظام کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو عوام ازخود ناکام بنا دیں گے کیونکہ وہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔ آئندہ چند ماہ بہت اہم ہیںکیونکہ جمہوری حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے، پھر انتخابات ہونگے اور انتقال اقتدار کا مرحلہ آئے گا۔
انتخابات قوم کی امانت ہیں اورآئین میں درج طریقہ کار کے تحت جمہوری حکومت کی مدت کی تکمیل کے بعد نگران حکومت بنے گی، انتخابات میں کامیاب جماعت کو اقتدار منتقل کیا جائے گا۔ کسی بھی جماعت کو منتخب کرنا عوام کا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے، ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ ہی واحد ادارہ ہے جو ہر شہری کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو تمام ادارے اور عوام مضبوط ہونگے۔ حکومت نے ہر طرح کی تنقید خندہ پیشانی سے قبول کی تاہم حکومت کے مثبت اقدامات کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔ ہم نے کبھی ٹکرائو کی پالیسی اختیار نہیں کی کیونکہ اس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عدلیہ آزاد ہے اور ہم تمام فیصلوں پر عملدرآمد کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا اس وقت ملک کو دہشتگردی اور توانائی جیسے دو اہم چیلنجوں کا سامنا ہے،ان سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس جنگ میں کامیابی ہمیں حاصل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ توانائی کے بحران سے معیشت متاثرہورہی ہے، حکومت اس مسئلے سے آگاہ ہے، توانائی کے بحران کے خاتمے اورکراچی میں قیام امن کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے، ہم تاجروں کو ہرممکن تحفظ فراہم کریں گے اورکراچی سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب میں تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورتحال خراب ہونے اور توانائی کے بحران کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ، حکومت ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وقت پرصاف شفاف انتخابات کرائے جائیں گے ، حکومت بنانے کی چابی عوام کے پاس ہوگی ،عوام کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا، وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران چیف سیکریٹری سندھ کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ بلدیہ میں جلنے والی فیکٹری کے مالکان کے خلاف جو مقدمات درج کیے گئے ہیں ان پرنظرثانی کی جائے۔ میری ذاتی رائے میں یہ قتل کاکیس نہیں بنتا بلکہ ایک حادثہ تھا،حادثے ساری دنیا میں ہوتے ہیں۔کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیںگے۔
توانائی کا بحران 2007 سے جاری ہے۔ہم نے سسٹم میں3800 میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا ہے، افراط زر25 فیصد سے کم کرکے سنگل ڈیجٹ میں لے آئے ہیں۔ قبل ازیںگورنرہائوس میں راجہ پرویزاشرف سے امریکا میں پاکستانی سفیر شیری رحمن نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاک امریکام تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں، مستقبل میں ان تعلقات کی مضبوطی میں مزید وسعت آئے گی۔وزیراعظم سے وزیر مملکت خزانہ سلیم ایچ مانڈوی والا نے بھی ملاقات کی اور کراچی کی تاجر برادری کو درپیش مسائل سمیت دیگرامور پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔