تلاش 

سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ موضوع کوئی ایسا ویسا تو ہے نہیں جس پر ہم کچھ یہاں وہاں ایران توران کی ہانک کر جان چھڑا سکیں

barq@email.com

ایک قاری نے ہمارا ناک میں دم کیا ہوا ہے ٹیلی فون پر تو اس سے ہماری جان ضیق میں تھی ہی جب ہم نے جواب دینا بند کیا تو پھر گھر پر مجبوری ہے مہمان کو کیسے ٹال سکتے ہیں لیکن مسئلہ جان لیوا ہو گیا ہے، تمام مہمان کو تو چلیے انسان کچھ دال دلیا پیش کر کے رخصت کیا جا سکتا ہے لیکن جو مہمان سوائے دماغ کے اور کوئی چیز کھانے کا شوقین ہی نہ ہو اسے کیسے مہمان بنایا جا سکتا ہے۔ جو کچھ اپنے پلے موجود ہے وہ تو پیش کر دیا لیکن اب اس کا اصرار ہے کہ ہم کالم میں بھی اس موضوع پر کچھ لکھیں ورنہ وہ روز آئیں گے اور ہمارے مغز کا ڈش تناول فرمائے بغیر نہیں جائیں گے۔

سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ موضوع کوئی ایسا ویسا تو ہے نہیں جس پر ہم کچھ یہاں وہاں ایران توران کی ہانک کر جان چھڑا سکیں، موضوع ہے، خدا کے بارے میں، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ کون ہے کہاں ہے کیسا ہے؟ چھوٹا منہ بڑی بات والا معاملہ ہے لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ ہم وہی کچھ کالم میں بھی لکھیں جو اسے زبانی بتا چکے ہیں، مجبوری ہے اپنے دماغ کو کسی نہ کسی طرح اس مہمانی اتیارچار سے بچایا ہے، سب سے پہلے تو ہم نے اس سے کہا کہ ذرا یہ توسوچو کہ ایک ذرہ آفتاب کے بارے میں کیا بتا پائے گا، ایک جنگل کے ایک پیڑ کے ایک پتے سے چمٹا ہوا کیڑا جنگل کے بارے میں کیا معلومات دے پائے گا، ایک قطرہ سمندر سے متعلق کیا بتا سکتا ہے، ایک ''جزو'' اپنے ''کل'' کا احاطہ کیسے کر سکتا ہے اور اگرجزو نے کل کا احاطہ کر لیا تو وہ ''کل'' کیسے رہ پائے گا اگر لامحدود کی حد معلوم ہوئی تو وہ لامحدود کیسے ہو سکتا ہے

ہر تخیل سے ماورا ہے تو، ہرتخیل میں ہے مگر موجود
ترا ادراک غیرممکن ہے، عقل محدود تو ہے لامحدود

ہوں گی کچھ ہستیاں ایسی جن کو خود اس نے اپنی جھلک دکھائی ہے لیکن وہ بھی صرف ایک جھلک یا جھلکیاں ہوں گی پورا ''کل'' نہیں ہو سکتا کیوں کہ وہ بھی بہرحال برگزیدہ سہی انسان یا ''جزو'' ہی ہوتے ہیں اور جزو کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو جائے ''کل'' کے مقابل ''جزو'' ہی ہوتا ہے، انسان کی اپنی عمر تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن نوع انسانی کی عمر کو بھی دیکھا جائے تو زیادہ سے زیادہ کل ملا کر دس ہزار سال فرض کر لیجیے جب کہ مذاہب اور طبیعات دونوں کی رو سے یہ کائنات اور اس کا خالق اتنے قدیم ہیں کہ انسان کا ذہن اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا یعنی ہمیشہ سے ہیں۔

طبیعاتی نظریئے کے مطابق موجودہ کائنات یا زمان و مکان اس بگ بینگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے جو اندازاً سولہ ارب سال پہلے ہوا تھا تب سے یہ پھیل رہی ہے پھیلتے پھیلتے ایک دن یہ پھیلاؤ رک جائے گا اور پھر سکڑاؤ کا عمل شروع ہو جائے گا یہ سکڑاؤیا ''ارتکاز'' بھی تقریباً اتنا ہی عرصہ لے گا مرتکز ہو کر پھر ذرے میں سمٹ جائے گا ذرہ پھر پھٹے گا اور پھر نیا بگ بینگ اور انتشار ایک نئی کائنات اور سلسلہ تخلیق، یوں طبیعات کے مطابق نہ جانے کتنے زمانوں سے یہ بگ بینگوں کا سلسلہ چل رہا ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس سے پہلے کتنے بگ بینگ ہوئے ہیں، کائناتیں بنتی اور مٹتی رہی ہیں اور نہ جانے ہماری اس موجودہ کائنات کے بغیر کتنے بگ بینگ ہوں گے، کتنی کائناتیں بنیں گی اور مٹیں گی۔

اب انسان کے مبلغ ''علم'' اس کے ''وجود'' اور اس کی ''عمر'' کو مدنظر رکھ کر اندازہ لگایئے کہ اس تمام سلسلے کا خالق اس کی رسائی اس کے تصور اور اس کی نصباعت سے کتنا بڑا کتنا بلند اور کتنا وسیع ہو گا چناں چہ انسان کسی بھی لحاظ سے یہ تو نہیں جان سکتا کہ وہ کون ہے؟ کہاں ہے؟ کیسا ہے؟ البتہ جتنا بھی جس بھی ذریعے یا راستے سے طبیعات یا مابعد الطبیعات کسی رخ سے جتنا جان گیا اتنا ہی اس کے لیے کافی ہے، جیسا کہ چار اندھوں نے ہاتھی کے بارے میں جانا تھا چاروں نے ہاتھی کے جس جس حصے کو ٹٹولا وہی سمجھا اور وہ حصہ ہاتھی تھا بھی لیکن پورا ہاتھی بالکل بھی نہیں تھا اور یہ ان کے لیے کافی تھا، اس کے برعکس ایک اور اندھا بھی تھا جس نے کھیر کے بارے میں جاننا چاہا تھا کہ کھیر کیسی ہوتی ہے حالاں کہ اندھا ہونے کے باعث اسے اپنی بے بضاعتی پر صبر کر کے کھیر کو کھا لینا چاہیے تھا اور اپنی قوت ذائقہ جو اس کے پاس تھی اس پر اکتفا کرنا چاہیے تھا لیکن اس نے پوچھنا شروع کیا تو آخر میں ''ٹیڑھی کھیر'' تک پہنچ کر انکاری اور کھیر سے محروم رہ گیا۔


اس سلسلے میں سب سے بہترین رہنمائی ہمیں مولانائے روم کی اس حکایت سے ملی ہے جو موسیٰ اور سبان کے نام سے ہر کسی کو معلوم ہے کہ موسیٰ ؑ کہیں جارہے تھے انھوں نے صحرا میں ایک گڈریئے کو خداکو پکارتے اور یوں باتیں کرتے سنا جیسے وہ اس کے قریب ہو پر موسیٰ ؑ نے اسے بری طرح ڈانٹا کہ یہ تم کیا اناپ شناب بکے جارہے ہو تم نے تو خدا کی توہین کر دی ہے۔ گڈریئے نے یہ سنا تو مارے ندامت کے چیخنے لگا اپنے بال نوچنے لگا کہ یہ میں نے کیا کیا اپنے محبوب کی توہین کر دی اور اسی طرح بال نوچتا ہوا دیوانہ وار ایک طرف کو بھاگ گیا، اس پر خدا کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ پر وحی اتری کہ اے موسیٰ ؑ آج تم نے ہم سے اپنے ایک سچے عاشق کو جدا کر دیا ، اسی مقام پر وہ مشہور شعر ہے کہ

تو برائے ''وصل'' کردن آمدی
نے برائے ''فصل'' کردن آمدی

یعنی تم جوڑنے اور ملانے کے لیے آیا ہے نہ کہ توڑنے اور جدا کرنے کے لیے، میں اس کے لیے وہی ہوں جو وہ سمجھ رہا ہے اور تمہارے لیے وہ ہوں جو تم سمجھ رہے ہو

سندیاں را اصطلاح سند مرح
ہندیاں را اصطلاح ہند مرح

اور اصل چیز بھی یہی ہے وہ جتنا اور جیسا کسی کی سمجھ میں آگیا ۔ یہ ویسا ہے جب وہ چاروں اندھے آپس میں سر پھٹول کر ایک دوسرے پر اپنی جانکاری منوانے میں لگ جائیں، دونوں صرف اپنی جانکاری کو مکمل ہاتھی سمجھیں، بہت بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ انسانوں کی اکثریت اسے ''باہر'' ڈھونڈ رہی ہے لیکن ''باہر'' تو اس کی رسائی سے بہت بڑا ہے کہاں کہاں ڈھونڈے گا اگر کوئی روشنی کی رفتار سے چلے تو کائنات کے فاصلے پندرہ کھرب نوری سال کے ہیں، ہمارے اس نظام شمسی کی طرح سو ارب نظام ہائے شمسی تو صرف ہماری اپنی اس سامنے والی کہکشاں میں ہیں اور ایسی ہی لگ بھگ سو ارب کہکشائیں اور بھی ہیں بلکہ تازہ ترین معلومات کے مطابق یہ تعداد دس گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہیں جب کہ انسان کی نہ تو اتنی عمر ہے نہ اتنی رفتار اور نہ اتنا وجود، ابھی تو اس نے پورا کرہ ارض بھی نہیں دیکھا ہے نظام شمسی کے سیارے مریخ تک بھی نہیں پہنچا ہے۔

دراصل اس کی یہ کھوج ہی غلط ہے کہ اسے باہر ڈھونڈ رہا ہے اسے اپنے اندر اسے ڈھونڈنا چاہیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آہوئے ختن کی طرح نافہ اور مشک کی خوشبو کا منبع اس کے اپنے اندر ہوں اور وہ بیکار میں یہاں وہاں دوڑ دوڑ کر اسے تلاش کر رہا ہو، اب تو طبیعات دان بھی باہر کے بجائے اسے ''اندر'' ڈھونڈنے میں لگ گئے ہیں، سوئٹزر لینڈ میں ایک دیو ہیکل مشین زمین کے اندر 27 کلو میٹر کی گہرائی میں بنائی گئی، مقصد اس میں بگ بینگ جیسے حالات بنا کر اس اولین ذرے کو ڈھونڈنا تھا جو بگ بینگ کے فوراً بعد پیدا ہوئے۔

تجربے کے بعد اعلان تو کیا گیا کہ خدائی ذرہ یا گاڈپارٹیکل ڈھونڈ لیا گیا لیکن یہ صحیح نہیں ہے ابھی خدائی ذرہ ان کی پہنچ سے بہت دور ہے کیوں کہ معاملہ ملی سیکنڈ (سیکنڈ کا ہزاروں حصہ) مائیکرو سیکنڈ (سکینڈ کا دس لاکھواں حصہ) اور نینو سیکنڈ (سیکنڈ کے دس اربواں حصہ) تک پہنچنے کا ہے جو نہایت ہی مشکل بلکہ ناممکن کام ہے لیکن یہ تو طے ہے کہ اسے باہر نہیں بلکہ اندر ڈھونڈنا زیادہ سہل ہے جب کہ اس کے لیے کوئی شرط بھی نہیں کہ کتنا ملا؟ جتنا مل گیا وہی ہے۔
Load Next Story