طیبہ تشدد کیس میں پیش رفت
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کے از خود نوٹس نے طیبہ کیس کو تاریخ ساز بنادیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کے از خود نوٹس نے طیبہ کیس کو تاریخ ساز بنادیا ہے ۔ فوٹو : فائل
RAWALPINDI CANTT:
کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کے سماجی اور نفسیاتی اثرات و مضمرات نے نہ صرف ملک کے سنجیدہ طبقات کو صدمہ سے دوچار کردیا ہے بلکہ اس کے سیاق وسباق میں انتظامی اقدامات بھی اٹھائے گئے جس کے تحت تشدد کیس میں نامزد ڈسٹرکٹ سیشن جج راجہ خرم علی خان کو عدالتی فرائض کی انجام دہی سے روک کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور اوایس ڈی کام کرنیکا حکم دیا گیا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رجسٹرار ہائیکورٹ نے جج راجہ خرم علی کو جوڈیشل ورک سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کے از خود نوٹس نے طیبہ کیس کو تاریخ ساز بنادیا ہے جو بنیادی طور پر ایک بچی کی عزت نفس اور معصومیت کو دہشت زدہ کرنے کا واقعہ ہے، کیس کو شہرت اس لیے بھی ملی کہ عدالت عظمیٰ نے اس کا از خود نوٹس لیا ورنہ کتنی ہی طیباؤں کی طرح اس کیس کو بھی داخل دفتر کردیا جاتا۔ قانونی حلقوں کے مطابق طیبہ کیس اس پیغام کے ساتھ ایک سنگ میل ثابت ہوسکے گا کہ آئندہ بچوں پر ظلم وستم روا رکھنے کی سخت حوصلہ شکنی ہوگی اور چائلڈ لیبر قوانین کو بھی نئے عملی اطلاقات کے ساتھ بروئے کار لایا جائے گا۔ یہ مقدمہ ٹرینڈ سیٹر اور سماجی و نفسیاتی اعتبار سے تادیب و سزا کا ایک معیار بھی قائم کرنے کا سبب بن سکتا ہے چونکہ عوام کی اس کیس سے غیر معمولی دلچسپی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ عدالتی وقار اور ججز کے بے داغ کردار و نجی زندگی کی قابل تقلید روایات کو عزیز رکھتے ہیں۔
طیبہ کیس نے غصہ و غضبناکی ، معاشرتی گراوٹ اور منافقت کو بھی بے نقاب کیا ہے، مثلاً سانحہ کے بعد کئی دعویدار خاندان سامنے آگئے، طیبہ کو غائب کردیا گیا، پھر سپریم کورٹ کے حکم پر اسے پیش کیا گیا۔ دوسری طرف آئی جی اسلام آباد پولیس طارق یاسین نے طیبہ کیس کی تفتیش میرٹ پر اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مکمل کرنیکی ہدایت کی ہے ۔
آئی جی نے طیبہ تشدد کیس اور قتل کے مقدمات کی تفتیش میں ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کی غفلت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے بچی پر بے رحمانہ تشدد کے الزام میں جج کی اہلیہ کو باقاعدہ گرفتارکر کے شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔تاہم صائب مشورہ یہی ہے کہ میڈیا کے غیرمعمولی ایکسپوژر کے باعث اسے جوڈیشل سسٹم میں مضمر کسی خرابی سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ یہ انسانی رحم دلی اور بچوں سے شفقت و محبت کے عدم اظہار اور ممتا کے لازوال رشتے کی توہین کا مظہر ایک چشم کشا کیس ہے۔
کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کے سماجی اور نفسیاتی اثرات و مضمرات نے نہ صرف ملک کے سنجیدہ طبقات کو صدمہ سے دوچار کردیا ہے بلکہ اس کے سیاق وسباق میں انتظامی اقدامات بھی اٹھائے گئے جس کے تحت تشدد کیس میں نامزد ڈسٹرکٹ سیشن جج راجہ خرم علی خان کو عدالتی فرائض کی انجام دہی سے روک کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور اوایس ڈی کام کرنیکا حکم دیا گیا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رجسٹرار ہائیکورٹ نے جج راجہ خرم علی کو جوڈیشل ورک سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کے از خود نوٹس نے طیبہ کیس کو تاریخ ساز بنادیا ہے جو بنیادی طور پر ایک بچی کی عزت نفس اور معصومیت کو دہشت زدہ کرنے کا واقعہ ہے، کیس کو شہرت اس لیے بھی ملی کہ عدالت عظمیٰ نے اس کا از خود نوٹس لیا ورنہ کتنی ہی طیباؤں کی طرح اس کیس کو بھی داخل دفتر کردیا جاتا۔ قانونی حلقوں کے مطابق طیبہ کیس اس پیغام کے ساتھ ایک سنگ میل ثابت ہوسکے گا کہ آئندہ بچوں پر ظلم وستم روا رکھنے کی سخت حوصلہ شکنی ہوگی اور چائلڈ لیبر قوانین کو بھی نئے عملی اطلاقات کے ساتھ بروئے کار لایا جائے گا۔ یہ مقدمہ ٹرینڈ سیٹر اور سماجی و نفسیاتی اعتبار سے تادیب و سزا کا ایک معیار بھی قائم کرنے کا سبب بن سکتا ہے چونکہ عوام کی اس کیس سے غیر معمولی دلچسپی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ عدالتی وقار اور ججز کے بے داغ کردار و نجی زندگی کی قابل تقلید روایات کو عزیز رکھتے ہیں۔
طیبہ کیس نے غصہ و غضبناکی ، معاشرتی گراوٹ اور منافقت کو بھی بے نقاب کیا ہے، مثلاً سانحہ کے بعد کئی دعویدار خاندان سامنے آگئے، طیبہ کو غائب کردیا گیا، پھر سپریم کورٹ کے حکم پر اسے پیش کیا گیا۔ دوسری طرف آئی جی اسلام آباد پولیس طارق یاسین نے طیبہ کیس کی تفتیش میرٹ پر اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مکمل کرنیکی ہدایت کی ہے ۔
آئی جی نے طیبہ تشدد کیس اور قتل کے مقدمات کی تفتیش میں ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کی غفلت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے بچی پر بے رحمانہ تشدد کے الزام میں جج کی اہلیہ کو باقاعدہ گرفتارکر کے شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔تاہم صائب مشورہ یہی ہے کہ میڈیا کے غیرمعمولی ایکسپوژر کے باعث اسے جوڈیشل سسٹم میں مضمر کسی خرابی سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ یہ انسانی رحم دلی اور بچوں سے شفقت و محبت کے عدم اظہار اور ممتا کے لازوال رشتے کی توہین کا مظہر ایک چشم کشا کیس ہے۔