منقسم کپتانی بھارت میں موثر نہیں تھیدھونی
ٹیم کیلیے ایک ہی لیڈر ہونا چاہیے ، ہر فارمیٹ کیلیے الگ کپتان کا تقرر بھارت کیلیے موثر نہیں ہے،دھونی
ٹیم کیلیے ایک ہی لیڈر ہونا چاہیے،ہر فارمیٹ کیلیے الگ کپتان کا تقرر بھارت کیلیے موثر نہیں ہے،دھونی ۔ فوٹو فائل
WASHINGTON:
بھارتی بیٹسمین مہندرا سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ کوہلی کو تینوں فارمیٹ میں ملکی ٹیم کی باگ ڈور سونپنے کا یہ مناسب وقت تھا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں :دھونی بھارتی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کی قیادت سے دستبردار ہو گئے
مہندرا سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ منقسم کپتانی موثر ثابت نہیں ہورہی تھی میں اسے ملکی کرکٹ کیلیے درست خیال نہیں کرتا اسی لیے گذشتہ دنوں ون ڈے ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا، 35 سالہ دھونی کی زیرقیادت بھارت ٹی 20 اور ون ڈے میں عالمی چیمپئن بنا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں :بھارت نے کوہلی کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کپتان بنادیا
انھوں نے کہا کہ کوہلی کو تینوں فارمیٹ میں ملکی ٹیم کی باگ ڈور سونپنے کا یہ مناسب وقت تھا، میں منقسم کپتانی پر یقین نہیں رکھتا، ٹیم کیلیے ایک ہی لیڈر ہونا چاہیے ، ہر فارمیٹ کیلیے الگ کپتان کا تقرر بھارت کیلیے موثر نہیں ہے۔
بھارتی بیٹسمین مہندرا سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ کوہلی کو تینوں فارمیٹ میں ملکی ٹیم کی باگ ڈور سونپنے کا یہ مناسب وقت تھا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں :دھونی بھارتی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کی قیادت سے دستبردار ہو گئے
مہندرا سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ منقسم کپتانی موثر ثابت نہیں ہورہی تھی میں اسے ملکی کرکٹ کیلیے درست خیال نہیں کرتا اسی لیے گذشتہ دنوں ون ڈے ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا، 35 سالہ دھونی کی زیرقیادت بھارت ٹی 20 اور ون ڈے میں عالمی چیمپئن بنا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں :بھارت نے کوہلی کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کپتان بنادیا
انھوں نے کہا کہ کوہلی کو تینوں فارمیٹ میں ملکی ٹیم کی باگ ڈور سونپنے کا یہ مناسب وقت تھا، میں منقسم کپتانی پر یقین نہیں رکھتا، ٹیم کیلیے ایک ہی لیڈر ہونا چاہیے ، ہر فارمیٹ کیلیے الگ کپتان کا تقرر بھارت کیلیے موثر نہیں ہے۔