شاہ زیب قتل کیس ڈی آئی جی کی سربراہی میں کمیٹی قائم
3 رکنی کمیٹی کو تمام اختیارات تفویض،ملزمان کا گھیرا تنگ کردیا ہے،پولیس ترجمان.
3 رکنی کمیٹی کو تمام اختیارات تفویض،ملزمان کا گھیرا تنگ کردیا ہے،پولیس ترجمان. فوٹو: فائل
لاہور:
ڈی ایس پی اورنگزیب کے بیٹے شاہ زیب کے قتل کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سائوتھ شاہد حیات کی سر براہی میں 3 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق6 روز قبل ڈیفنس فیز5 میں مبارک مسجد کے قریب فائرنگ کے واقعے میں قتل کیے جانے والے ڈی ایس پی اورنگزیب کے جواں سال بیٹے شاہ زیب کے قتل کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سائوتھ شاہد حیات کی سر براہی میں 3 رکنی کمیٹی کو تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔
ترجمان سندھ پولیس ایس ایس پی عمران شوکت نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے اور کمیٹی میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن سائوتھ زون ، ڈویژنل ایس ایس پی کلفٹن ٹائون شامل ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود نے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ ایس آئی یو کو بھی مقدمے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتاری خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے ، پولیس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی،اس سلسلے میں پولیس کی ٹیمیں اند رون سندھ میں بھی موجود ہیں جس نے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کیا ہوا ہے۔
ڈی ایس پی اورنگزیب کے بیٹے شاہ زیب کے قتل کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سائوتھ شاہد حیات کی سر براہی میں 3 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق6 روز قبل ڈیفنس فیز5 میں مبارک مسجد کے قریب فائرنگ کے واقعے میں قتل کیے جانے والے ڈی ایس پی اورنگزیب کے جواں سال بیٹے شاہ زیب کے قتل کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سائوتھ شاہد حیات کی سر براہی میں 3 رکنی کمیٹی کو تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔
ترجمان سندھ پولیس ایس ایس پی عمران شوکت نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے اور کمیٹی میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن سائوتھ زون ، ڈویژنل ایس ایس پی کلفٹن ٹائون شامل ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود نے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ ایس آئی یو کو بھی مقدمے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتاری خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے ، پولیس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی،اس سلسلے میں پولیس کی ٹیمیں اند رون سندھ میں بھی موجود ہیں جس نے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کیا ہوا ہے۔