نئی امریکی انتظامیہ کو حقائق سے آگاہ کرنے کیلیے لابنگ کی ضرورت
پاکستان کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔
پاکستان کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ فوٹو: فائل
امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل جیمز میٹس کو وزیر دفاع کے لیے نامزد کر رکھا ہے'کانگریس سے منظوری ہونا باقی ہے، پاکستان' افغانستان اور دہشت گردی کے حوالے سے ان کے خیالات خاصے سخت اور قدامت پسندانہ ہیں۔ بی بی سی کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں آنے والی اطلاع کے مطابق امریکی کانگریس میں اپنی تقرری کی منظوری کے حوالے سے سوالات کے تحریری جواب میں جنرل جیمز میٹس کہا ہے کہ پاکستان کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوجی امداد پر شرائط لگانے کا ملاجلا اثر رہا ہے اور ہم تمام پہلوؤں پر غور کریں گے۔ طالبان افغانستان میں کارروائیوں کیلیے اب بھی پاکستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں لہٰذا اسلام آباد پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مزید اقدامات کرے۔
پاکستانی حدود میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور انھیں میسر نقل و حرکت کی آزادی افغان سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ امریکی اور پاکستانی افواج کا بہت پرانا تعلق ہے جسے دوبارہ استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے پاکستان کی دہشتگرد عناصر سے جاری جنگ کو بھی سراہا ، انھوں نے ان دہشت گردوں کے خاتمے کیلیے پاکستان کو مدد کی پیشکش بھی کی۔ان باتوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پاکستان، افغانستان کے بارے میں پالیسی کن خطوط پر استوار ہوگی۔
پاکستان کو امریکا میں بہت کام کی ضرورت ہے، نئے وزیر دفاع کا دہشت گردی کے حوالے سے موقف افغانستان سے متاثر نظر آرہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ افغان فوج اس قابل ہی نہیں کہ وہ طالبان یا دیگر جنگجو گروپوں کا مقابلہ کرسکے ، اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے وہ پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہیں، بہرحال ان حالات میں ہی امریکا میں مقیم پاکستان کے سفیر کے حوالے سے یہ خبر امیدا افزا ہے جس میں ا مریکہ کی نئی انتظامیہ سے جب بھی ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کے معاملے پر غور کیا جائے گا تو فیصلہ پاکستان کے حق میں آئے گا۔انھیں ٹرمپ انتظامیہ سے اچھی امید ہے۔ پاکستان اگر ڈونلڈ ٹرمپ ، ان کے وزرا اور کانگریس کے اراکین کو اصل صورتحال سے آگاہ کرے اور انھیں اپنے موقف پر قائل کرلے تو پاکستان اور امریکا کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں اور پاکستان اس خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرسکتا ہے۔
پاکستانی حدود میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور انھیں میسر نقل و حرکت کی آزادی افغان سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ امریکی اور پاکستانی افواج کا بہت پرانا تعلق ہے جسے دوبارہ استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے پاکستان کی دہشتگرد عناصر سے جاری جنگ کو بھی سراہا ، انھوں نے ان دہشت گردوں کے خاتمے کیلیے پاکستان کو مدد کی پیشکش بھی کی۔ان باتوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پاکستان، افغانستان کے بارے میں پالیسی کن خطوط پر استوار ہوگی۔
پاکستان کو امریکا میں بہت کام کی ضرورت ہے، نئے وزیر دفاع کا دہشت گردی کے حوالے سے موقف افغانستان سے متاثر نظر آرہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ افغان فوج اس قابل ہی نہیں کہ وہ طالبان یا دیگر جنگجو گروپوں کا مقابلہ کرسکے ، اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے وہ پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہیں، بہرحال ان حالات میں ہی امریکا میں مقیم پاکستان کے سفیر کے حوالے سے یہ خبر امیدا افزا ہے جس میں ا مریکہ کی نئی انتظامیہ سے جب بھی ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کے معاملے پر غور کیا جائے گا تو فیصلہ پاکستان کے حق میں آئے گا۔انھیں ٹرمپ انتظامیہ سے اچھی امید ہے۔ پاکستان اگر ڈونلڈ ٹرمپ ، ان کے وزرا اور کانگریس کے اراکین کو اصل صورتحال سے آگاہ کرے اور انھیں اپنے موقف پر قائل کرلے تو پاکستان اور امریکا کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں اور پاکستان اس خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرسکتا ہے۔