سندھ دشمن بلدیاتی نظام کو قبول نہیں کرینگےصفدر سرکی
امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے،اگلا مرحلہ جی ایم سید کی سالگرہ پر شروع ہوگا۔
جئے سندھ تحریک کی ریلی کے شرکا سے شارع فیصل پر ڈاکٹر صفدر سرکی خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
KARACHI:
سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف جئے سندھ تحریک کا جیکب آباد سے شروع ہونے والا پیدل مارچ 31 ویں دن اتوار کوکراچی پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا ہے۔
مارچ کو سیکیورٹی کی بنیاد پر پریس کلب آنے کی اجازت نہیں دی گئی،جس کے باعث ریجنٹ پلازہ ہوٹل صدر پر جلسہ عام منعقد کیا گیا، جلسہ عام میں جئے سندھ تحریک کے سربراہ ڈاکٹر صفدر سرکی نے مارچ کے اختتام کا اعلان کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام سمیت کسی بھی سندھ دشمن منصوبے کو کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے، انھوں نے کہا کہ مارچ کا آج پہلا مرحلہ ختم ہوا ہے، اگلا مرحلہ سائیں جی ایم سید کی سالگرہ کے دن شروع کریں گے،ڈاکٹر صفدر سرکی نے کہا کہ کسی بھی سندھ دشمن منصوبے کے خلاف اب خاموش نہیں رہیں گے۔
انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ سے اپیل کی کہ وہ نئے بلدیاتی نظام کی مخالفت کرے اور اس کو مسترد کردے، ایم کیو ایم کے رہنما سندھیوں کو اپنا بھائی سمجھیں اور ہماری جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں،31 دن کے سفر میں کروڑوں سندھیوں سے مل کر جئے سندھ تحریک کا پیغام پہنچایا، انھوں نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے حامی ہیں اس لیے ہاتھوں میں بندوق نہیں لال جھنڈے ہیں، لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، واضح رہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے خلاف جئے سندھ تحریک نے 29 نومبر 2012 کو جیکب آباد سے کراچی پیدل مارچ شروع کیا تھا جو کہ جیکب آباد سے شکارپور، سکھر، خیرپور، نوشہرہ فیروز، شہید بے نظیر آباد، مٹیاری، حیدرآباد، ٹھٹھہ اضلاع سے گزر کر ہفتہ کو کراچی کی حدود میں داخل ہوا تھا ،۔
سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف جئے سندھ تحریک کا جیکب آباد سے شروع ہونے والا پیدل مارچ 31 ویں دن اتوار کوکراچی پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا ہے۔
مارچ کو سیکیورٹی کی بنیاد پر پریس کلب آنے کی اجازت نہیں دی گئی،جس کے باعث ریجنٹ پلازہ ہوٹل صدر پر جلسہ عام منعقد کیا گیا، جلسہ عام میں جئے سندھ تحریک کے سربراہ ڈاکٹر صفدر سرکی نے مارچ کے اختتام کا اعلان کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام سمیت کسی بھی سندھ دشمن منصوبے کو کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے، انھوں نے کہا کہ مارچ کا آج پہلا مرحلہ ختم ہوا ہے، اگلا مرحلہ سائیں جی ایم سید کی سالگرہ کے دن شروع کریں گے،ڈاکٹر صفدر سرکی نے کہا کہ کسی بھی سندھ دشمن منصوبے کے خلاف اب خاموش نہیں رہیں گے۔
انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ سے اپیل کی کہ وہ نئے بلدیاتی نظام کی مخالفت کرے اور اس کو مسترد کردے، ایم کیو ایم کے رہنما سندھیوں کو اپنا بھائی سمجھیں اور ہماری جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں،31 دن کے سفر میں کروڑوں سندھیوں سے مل کر جئے سندھ تحریک کا پیغام پہنچایا، انھوں نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے حامی ہیں اس لیے ہاتھوں میں بندوق نہیں لال جھنڈے ہیں، لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، واضح رہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے خلاف جئے سندھ تحریک نے 29 نومبر 2012 کو جیکب آباد سے کراچی پیدل مارچ شروع کیا تھا جو کہ جیکب آباد سے شکارپور، سکھر، خیرپور، نوشہرہ فیروز، شہید بے نظیر آباد، مٹیاری، حیدرآباد، ٹھٹھہ اضلاع سے گزر کر ہفتہ کو کراچی کی حدود میں داخل ہوا تھا ،۔