فوجی عدالتیں حکومت اور اپوزیشن جلد فیصلہ کریں
فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرنی ہے یا نہیں اس حوالے سے فوری طور پر فیصلہ کیا جانا چاہیے
فوٹو : فائل
حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں کے دوسرے اجلاس میں بھی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق نہ ہو سکا اور منگل کو ہونے والا یہ اجلاس بھی پہلے اجلاس کی مانند بے نتیجہ ختم ہو گیا، آیندہ اجلاس31 جنوری کو ہوگا۔ اپوزیشن نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے کارکردگی پر سیکیورٹی اداروں کی بریفنگ کے لیے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا۔ اجلاس میں حکومت نے تفصیلی بریفنگ دی لیکن اپوزیشن نے مزید سوالات اٹھا دیے اور وزیر داخلہ کی عدم شرکت اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ نہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ تمام جماعتوں نے فوجی عدالتوں کو ریاستی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر سیاست نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے نیشنل ایکشن پلان، مدارس و عدالتی اصلاحات اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
ادھر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے 47ویں اجلاس کے پہلے دن ''ڈیجیٹل دور میں دہشتگردی'' کے موضوع پر ہونے والے سیشن سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوجی عدالتیں وقت کی ضرورت تھیں اور ان کے قیام سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تیز تر انصاف کی فراہمی میں مدد ملی۔
فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں کے دوسرے اجلاس کا بھی کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہونا خوش آیند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک میں دہشت گردی کا عفریت امن و امان کے حوالے سے جس قدرشدت اختیار کرچکا ہے اس کے خاتمے کے لیے حکومت اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا فی الفور کسی نتیجے پر پہنچنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے' فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرنی ہے یا نہیں اس حوالے سے فوری طور پر فیصلہ کیا جانا چاہیے' اگر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں کرنی تو اس کے متبادل میکنزم کے قیام میں بھی تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیز ترین عدالتی نظام لا رہے ہیں۔ اب تک کے حالات کے تناظر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کے معنی و مفہوم کے مطابق عملدرآمد یقینی نہیں بنا سکی۔
اپوزیشن پارلیمانی رہنماؤں نے نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی کارکردگی کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں حکومت کو اس کا فی الفور جواب دینا چاہیے' اگر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تو اس کی وجوہات سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ فوجی عدالتوں کا قیام 21ویں آئینی ترمیم کے تحت دہشت گردی کے سخت ماحول میں دہشت گردوں کے مقدمات فوری طور پر نمٹانے کے لیے 7جنوری 2015ء کو عمل میں لایا گیا جس کی مدت 7جنوری 2017ء کو ختم ہو گئی۔ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث معمول کا عدالتی نظام دباؤ میں تھا' عدالتیں اور جج دہشت گردوں کا خصوصی نشانہ تھے اس لیے دہشت گردی پر موثر انداز میں قابو پانے کے لیے فوجی عدالتوں کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ جب دہشت گرد اپنی زندگیاں ختم کرنے کے لیے تیار ہوں تو اس کے جواب میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی میکنزم لانا پڑتا ہے اور غیرمعمولی دور میں غیرمعمولی انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔ لہٰذا غیرمعمولی حالات سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔ اب فوجی عدالتیں ختم ہونے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں حکومت کو ان کے جواب فی الفور دینے چاہئیں تاکہ موجودہ گو مگو کی کیفیت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس حوالے سے کسی قسم کی بھی کی جانے والی تاخیر کا فائدہ دہشت گردوں کو پہنچے گا۔ ملک کو جس قدر سنگین صورت حال اور چیلنجز درپیش ہیں ان کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور ادارے اس کا ادراک کرتے ہوئے جلد از جلد کسی مضبوط اور مستقل میکنزم پر متفق ہوں۔
اگرچہ اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں نے فوجی عدالتوں کو ریاستی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر سیاست نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جو خوش آیند ہے مگر دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور ذرایع کے مطابق حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔ حکومت کو اس معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ بلاشبہ دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس ناسور کی جڑیں ابھی تک ختم نہیں ہوئیں جو امن و امان کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ دہشت گردی پاکستان کا ذاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والے فورم میں بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے لہٰذا اپوزیشن اور حکومت کو بے یقینی کی اس کیفیت کے خاتمے اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر بنانے کے لیے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کسی واضح نتیجہ پر پہنچنا ہو گا جو ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
ادھر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے 47ویں اجلاس کے پہلے دن ''ڈیجیٹل دور میں دہشتگردی'' کے موضوع پر ہونے والے سیشن سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوجی عدالتیں وقت کی ضرورت تھیں اور ان کے قیام سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تیز تر انصاف کی فراہمی میں مدد ملی۔
فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں کے دوسرے اجلاس کا بھی کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہونا خوش آیند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک میں دہشت گردی کا عفریت امن و امان کے حوالے سے جس قدرشدت اختیار کرچکا ہے اس کے خاتمے کے لیے حکومت اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا فی الفور کسی نتیجے پر پہنچنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے' فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرنی ہے یا نہیں اس حوالے سے فوری طور پر فیصلہ کیا جانا چاہیے' اگر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں کرنی تو اس کے متبادل میکنزم کے قیام میں بھی تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی کہا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیز ترین عدالتی نظام لا رہے ہیں۔ اب تک کے حالات کے تناظر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کے معنی و مفہوم کے مطابق عملدرآمد یقینی نہیں بنا سکی۔
اپوزیشن پارلیمانی رہنماؤں نے نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی کارکردگی کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں حکومت کو اس کا فی الفور جواب دینا چاہیے' اگر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تو اس کی وجوہات سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ فوجی عدالتوں کا قیام 21ویں آئینی ترمیم کے تحت دہشت گردی کے سخت ماحول میں دہشت گردوں کے مقدمات فوری طور پر نمٹانے کے لیے 7جنوری 2015ء کو عمل میں لایا گیا جس کی مدت 7جنوری 2017ء کو ختم ہو گئی۔ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث معمول کا عدالتی نظام دباؤ میں تھا' عدالتیں اور جج دہشت گردوں کا خصوصی نشانہ تھے اس لیے دہشت گردی پر موثر انداز میں قابو پانے کے لیے فوجی عدالتوں کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ جب دہشت گرد اپنی زندگیاں ختم کرنے کے لیے تیار ہوں تو اس کے جواب میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی میکنزم لانا پڑتا ہے اور غیرمعمولی دور میں غیرمعمولی انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔ لہٰذا غیرمعمولی حالات سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔ اب فوجی عدالتیں ختم ہونے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں حکومت کو ان کے جواب فی الفور دینے چاہئیں تاکہ موجودہ گو مگو کی کیفیت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس حوالے سے کسی قسم کی بھی کی جانے والی تاخیر کا فائدہ دہشت گردوں کو پہنچے گا۔ ملک کو جس قدر سنگین صورت حال اور چیلنجز درپیش ہیں ان کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور ادارے اس کا ادراک کرتے ہوئے جلد از جلد کسی مضبوط اور مستقل میکنزم پر متفق ہوں۔
اگرچہ اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں نے فوجی عدالتوں کو ریاستی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر سیاست نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جو خوش آیند ہے مگر دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور ذرایع کے مطابق حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔ حکومت کو اس معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ بلاشبہ دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس ناسور کی جڑیں ابھی تک ختم نہیں ہوئیں جو امن و امان کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ دہشت گردی پاکستان کا ذاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والے فورم میں بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے لہٰذا اپوزیشن اور حکومت کو بے یقینی کی اس کیفیت کے خاتمے اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر بنانے کے لیے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کسی واضح نتیجہ پر پہنچنا ہو گا جو ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔