دنیا کا نصاب تعلیم اور تاریخ

کرہ ارض کی عمر 4 ارب سال بتائی جاتی ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

کرہ ارض کی عمر 4 ارب سال بتائی جاتی ہے، اس ناقابل یقین طویل العمری کے مقابلے میں کرہ ارض پر انسان کی معلوم تاریخ صرف دس بارہ ہزار سال پر مشتمل ہے۔ اس مختصر سی تاریخ میں انسان نے اپنا سارا وقت جنگوں، نفرتوں، مخالفتوں تعصبات ہی میں گزارا ماضی بعید کے انسان کو اس کی اس بے حمیت کی وجہ سے حیوان اورغیر مہذب کہا جاتا ہے۔ ماضی کا یہ غیر ترقی یافتہ انسان تلواروں، نیزوں، بلموں، خنجروں سے جنگیں لڑتا تھا اور تلوار لہراتا ہوا دشمن کی صفوں میں گھس جاتا تھا اور دشمن کو کھیرے ککڑی کی طرح کاٹتا تھا جو انسان سب سے زیادہ انسانوں کوکاٹتا تھا وہ سب سے زیادہ بہادر کہلاتا تھا اور تاریخ کے صفحے اس کی بہادری سے جگمگاتے رہتے تھے۔ ان خون آلود جنگوں کی وجہ مختلف حوالوں سے پیدا کی گئی نفرتیں تعصبات ملک گیری اور تاریخ میں بہادر اور جہانگیر کی حیثیت سے اپنا نام لکھوانے کا شوق تھا۔

انسان کی معلوم تاریخ انسانوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ ماضی کا غیر مہذب انسان تلواروں، خنجروں اور تیروں سے ایک دوسرے کی جان لیتا تھا اور جدید دنیا کا مہذب اور تعلیم یافتہ انسان ٹینکوں، جنگی جہازوں، میزائلوں، راکٹوں حتیٰ کہ ایٹمی ہتھیاروں سے جنگیں لڑتا ہے اور پلک جھپکتے میں لاکھوں جیتے جاگتے انسانوں کو سوختہ لاشوں میں بدل کر رکھ دیتا ہے۔

1945 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران اس مہذب انسان نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے اور پلک جھپکتے میں کروڑوں انسانوں کو جلاکر خاک کردیا۔ آج کا یہ مہذب شیطان ایک طرف ہیروشیما اور ناگاساکی کی برسی پر موم بتیاں جلاکر اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہے دوسری طرف اربوں کھربوں کے تباہ کن ہتھیاروں کی تجارت کرکے دنیا کو ہتھیاروں سے بھر دیتا ہے۔


وجہ کیا ہے اقتصادی مفادات کا تحفظ ملک و ملت دین دھرم کے اختلافات اور قومی مفادات کا تحفظ۔ اسی جلتی سلگتی دنیا میں جنگی جنونیوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی رہتے ہیں جو انسان کی اس حیوانیت کی وجوہات کو سمجھتے ہیں اور ان کی بے معنویت سے دنیا کو آگاہ کرتے رہتے ہیں لیکن حیوانوں سے بھری اس دنیا میں انسانوں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ دور تک مار کرنے والے اور ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائلوں کی تیاری کا مقابلہ جاری ہے اور ان میزائلوں کو قومی برتری کا نام دے کر معصوم انسانوں میں غیر محسوس نفرتوں کی آبیاری کی جا رہی ہے، میڈیا ان میزائلوں کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے۔

میں نے سوچا کیا چار ارب سالوں کے دوران جتنی تہذیبیں وجود میں آئی ہوں گی اور مٹ گئی ہوں گی ان تہذیبوں میں بھی جنگوں، نفرتوں، عداوتوں ہی کا کلچر رہا ہوگا یا انسان امن و آشتی پیار محبت سے بھی رہا ہوگا۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر دنیا کے درجہ حرارت میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو چند صدیوں کے دوران سمندروں کی سطح میں اس قدر اضافہ ہوجائے گا کہ کرہ ارض سمندر برد ہوجائے گا اور کرہ ارض سے جانداروں کا خاتمہ ہوجائے گا ماضی میں دنیا ان قیامتوں سے گزرتی رہی ہے اور کروڑوں سالوں کے بعد پھر زندگی نمو پاتی رہی ہے۔

وہ تعصبات وہ اقتصادی مفادات وہ انسانوں کی غیر منطقی تقسیم وہ ملک و ملت کے احمقانہ فلسفے وہ نظریاتی اختلافات جو آج کی مہذب دنیا میں جنگوں نفرتوں کی آبیاری کر رہے ہیں کیا ان کے خلاف کوئی ٹھوس اور منطقی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ دوسری خونیں اور انسان کش عالمی جنگ کے بعد دنیا کے مہذب انسان کو احساس ہوا کہ جنگیں انسان کشی کے علاوہ کچھ نہیں کرتیں ، سو اس نے جنگوں کو روکنے اور امن کی آبیاری کے کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ اقوام متحدہ بنایا لیکن طاقت کی برتری کے حیوانی فلسفے نے اس ادارے کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ دنیا میں جنگوں کو روکنے کی اور امن کو فروغ دینے کی ذمے داری ادا کرنے والا یہ ادارہ اب بڑی طاقتوں کی رکھیل بن کر رہ گیا ہے۔

دنیا کے 7 ارب سے زیادہ بے بس انسان امن چاہتے ہیں۔ معاشی انصاف چاہتے ہیں، مذہبی ہم آہنگی چاہتے ہیں نفرتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں انسان کی یہ جائز خواہشات کیسے پوری ہوسکتی ہیں دنیا میں ابتری پھیلانے نفرتوں اور جنگوں کی آبیاری کرنے میں تاریخ کا بڑا حصہ ہے، اگر دنیا کے مستقبل کو جنگوں نفرتوں سے بچانا ہو تو محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے والی تاریخ لکھو، انسانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے والا نصاب تعلیم بناؤ تاکہ موجودہ نہ سہی ہماری آنے والی نسلیں تو جنگوں ہتھیاروں کی تیاری تجارت اور ملک و ملت کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت کرنا چھوڑ دیں اور پیار و محبت سے امن کے ساتھ رہنا سیکھ سکیں۔
Load Next Story