بلوچستان کا بحران حل کرنے کی ضرورت

ایف سی کور کے میجر جنرل عبیداﷲ نے سپریم کورٹ کے روبرو انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت ہورہی ہے

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں زائرین کی 3 بسوں پر مشتمل قافلے کوایک کار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں زائرین کی 3 بسوں پر مشتمل قافلے کوایک کار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس سے 4 خواتین سمیت 19 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہو گئے جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ صوبائی سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ زائرین کی 3 بسیں کوئٹہ سے ایران جا رہی تھیں، مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں ان بسوں کے راستے میں ایک سوزوکی گاڑی میں بم نصب کیا گیا تھا، ایک بس بم دھماکے کی زد میں آئی اور مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

لاشیں کوئٹہ منتقل کر دی گئیں، 9 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ یہ الم ناک حقیقت ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا ابتدائی دائرہ عمومی سیاسی محرومی، صوبائی وسائل کے استعمال، ان تک عدم رسائی اور صوبائی خود مختاری کی فراہمی کی ضمانت سے منسلک تھا جب کہ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کا گریٹر بلوچستان کے علمبرداروں اور شدت پسندوں سے قطع نظر یہ اصرار تھا کہ وفاق صوبہ بلوچستان کو اس کے حقوق دے دے تو سیاسی بحران کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے، لیکن یہ وقت جس میں اسلام آباد اور بلوچستان کے شراکت داروں کے مابین ایک نتیجہ خیز مکالمے کے باعث صورتحال میں بنیادی تبدیلی آسکتی تھی بدقسمتی سے بد گمانی، شکوک وشبہات، الزام تراشی کی نذر ہوتا رہا اور حالات بالآخر درد انگیز تصادم پر منتج ہوگئے، ظلم یہ ہوا کہ برس ہا برس سے بلوچستان کی سماجی اور معاشی زندگی میں اپنا غیر سیاسی کردار ادا کرنے والے نوآبادکاروں جن میں ہزارہ منگول برادری، پنجابی،اردو بولنے والوں سمیت دیگر برادریاں شامل تھیں ، پیداشدہ شورش کا نوالہ بنتی چلی گئیں اور کسی نے اس آگ کو بجھانے کی کوشش نہیں کی ۔

چنانچہ مستونگ سانحہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا زیادہ تر تعلق پنجاب کے علاقے گوجرانوالہ، گجرات، سرگودھا، لالہ موسیٰ، چنیوٹ جھنگ اور لاہور سے بتایا جاتا ہے۔ جیش الاسلام نامی ایک تنظیم نے بس کو بم سے اڑانے کی ذمے دار ی قبول کر لی ہے، ترجمان نے ٹیلیفون پر بتایا کہ مجاہدین نے کوئٹہ اور کراچی میں علماء اہلسنت کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کے ردعمل میں درینگڑھ میںزائرین کی بس کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنالیا۔بلوچستان میں جند اﷲ سمیت دیگر گروپ بھی سرگرم ہیں۔

متعدد متحارب بلوچ گروپ ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے ایف سی کور کے میجر جنرل عبیداﷲ نے سپریم کورٹ کے روبرو انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت ہورہی ہے،20 ملکوں کی ایجنسیاں سرگرم ہیں،جب کہ 121 مزاحمت کاروں اور سرمچاروں کے کیمپ قائم ہیں ،10 ایسے کیمپ افغانستان میں ہیں، میڈیا میں یہ بات بھی اجاگر کی گئی کہ بلوچستان میں بدامنی،ٹارگٹ کلنگ اور فورسز پر حملوں کے واقعات کی اکثر ذمے داری کالعدم مذہبی ، فرقہ وارانہ اور گوریلا تنظیموں نے قبول کی اور یہ جانتے ہوئے کہ بلوچستان میں فوجی حل سے معاملہ مزید سنگین ہوسکتا ہے ارباب اختیار نے روز بروز بگڑتی صورتحال کا ادراک نہیں کیا، اور افغانستان کو اس سارے ملکی بحران میں اہم فیکٹر کے طور پر پیش نظر نہیں رکھا۔ صرف زبانی جمع خرچ کا سلسلہ جاری رہا۔


جب کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے مختلف کیسز کی شکل میں در اصل ''بلوچستان کا مقدمہ '' زیر سماعت ہے اور اس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے قوم آج بھی بے چینی سے اس کی منتظر ہے ، آج صورتحال اس نہج کو پہنچ چکی ہے کہ عدالت عظمیٰ کی نگاہ میں صوبہ میں سیاسی عمل اور حکومتی نظام معروف جمہوری معنوں میں معطل ہی ہے، داخلی تنازعات مسلسل شدت پزیر ہیں، صحافیوں کے لیے بلوچستان موت کا کنواں بن چکا ہے۔ صوبہ میں سیاسی بحران اعصاب شکن ہے جس کا سیاسی حل تلاش کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔ایک گمبھیر سیاسی خلا پیدا ہونے کا سخت خطرہ ہے جس میں فرقہ واریت کو عوام کی جانوں کا نذرانہ لینے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔

غیر ملکی مداخلت کی جو سطح ایف سی کے اعلیٰ عملدار نے بتائی ہے تو اس کے ہولناک نتائج سے بچنے کے لیے ارباب اختیار آج راست اقدام نہیں کریں گے تو کل کس طرح تاریخ کے احتساب سے بچ سکیں گے ۔ایک کثیر جہتی بھنور ہے جس میں سیاست دان آپس میں دست و گریبان ہیں اور اس گھنائونے چکر سے نکلنے کا کوئی راستہ کسی سیاسی رہنما کا ایجنڈا ہی شاید نہیں رہا ۔اسی عدم سمتی سے کالعدم تنظیموں ، فرقہ وارانہ جماعتوں اور دہشت گردوں کو شہ مل رہی ہے اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس موج خوں کو روکنا کس کی ذمے داری ہے ؟بلوچستان میں مفاہمت اور بات چیت کا عمل کب سنجیدگی اختیار کرے گا، سیاسی کشیدگی ختم نہ ہوئی تو خاکم بہ دہن عالمی گدھ بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت کی من مانی تقسیم میں خود کو کلی آزاد سمجھیں گے اس وقت پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ایک ممتاز دفاعی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت پاکستان سے مذاکرات کی شرائط انتہائی خطرناک ہیں، یہ مذاکرات کبھی نتیجہ خیز اور کامیاب نہیں ہو سکتے جب کہ ایک سابق سفیر اور امور خارجہ کے ماہر نے کہا کہ پاکستان کو طالبان کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنی چاہیے۔ مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں، جنگ سے نہیں۔ یہ درست ہے کہ طالبان جمہوریت اور آئین کو نہیں مانتے۔ ان کی شرائط قابل قبول نہیں ہوسکتیں تاہم مذاکرات سے راہ فرار نہیں اختیار کرنا چاہیے۔

امریکا طالبان سے مذاکرات کررہا ہے، پاکستان کو بھی کرنے چاہئیں۔عدم اتفاق کا یہ عالم ہے۔ادھرشمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پربم حملے میں2 اہلکار شہید اور2زخمی ہو گئے ۔ اتوار کو شدت پسندوں نے میرانشاہ دتہ خیل روڈ پر ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے گاڑی کو نشانہ بنایا، علاقے میں پہلے سے ہی کرفیو نافذ تھا اورفورسز کا قافلہ غرنامئی کیمپ سے جا رہا تھا ۔زخمیوں کو سی ایم ایچ بنوں منتقل کردیا گیا، واقعے کے بعدفورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیاجب کہ ایجنسی کے مختلف علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا جب کہ باڑہ ملک دین خیل سے دو مقامی افراد کی نعشیں ملی ہیں جن کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے جب کہ فورسز نے ملک دین خیل اور سپاہ میں چار مشتبہ شدت پسندوں کے گھروں کو مسمار کردیا ،سرکاری حکام کے مطابق اتوار کو فورسز نے ملک دین خیل اور سپاہ میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا اس دوران انھوں نے مبینہ شدت پسندوں کے چار مکانات کو مسمار کر دیا ،کئی خاندان علاقے سے نقل مکانی کر گئے ، باڑہ کے علاقے سپاہ میں دو مکانات پر مارٹر گولے گرنے سے دو خواتین جاں بحق اور چار بچے شدید زخمی ہوگئے ، حیات آباد کمپلیکس میں دو بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دریں اثناء دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے21 لیویزاہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جب کہ بچ جانے والا زخمی اہلکار جو لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج تھا اتوار کو چل بسا،اہلکاروں کو 21 دسمبر کی شب شدت پسندوں نے پشاور کے ایف آرعلاقے میں قائم چیک پوسٹوں پر حملہ کرکے اغوا کرلیا تھا اور ہفتہ کی شب قتل کر دیا تھا۔کتنی ہولناک صورتحال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمراں دہشت گردی کے خاتمہ پر متفق ہوں ،ٹھوس پالیسی وضع کریں ۔ داخلی شورش، بد امنی، لوٹ مار، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ کا عالمی حقائق اور تبدیل ہوتی ملک گیر صورتحال کے گہرے اور غیر جانبدارانہ تجزیے کی روشنی میں بلوچستان کے مسئلے کا کوئی پائیدار حل ڈھونڈا جائے جس کے لیے انتظامی ، سیاسی اور عدالتی سطح پر بڑے اقدامات ناگزیرہیں ۔
Load Next Story