چین کا بھارت کو کرارا جواب

اس منصوبے سے بھارت کو معاشی‘ تجارتی اور عسکری میدان سمیت کسی بھی شعبے میں کوئی خطرہ نہیں

فوٹو:فائل

PESHAWAR:
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے بدھ کو پریس بریفنگ کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں بھارتی تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواد سے کوئی فرق نہیں پڑتا' سی پیک کی وجہ سے کشمیر پر چین کا موقف نہیں بدلے گا' یہ منصوبہ طویل المدتی تعاون کا ایک نیا فریم ورک ہے جو کہ چین اور پاکستان کے تعاون سے مختلف شعبوں میں ترقی کا ضامن ہے' اس منصوبے کے ذریعے علاقائی رابطہ سازی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ جب سے سی پیک کا منصوبہ شروع ہوا ہے بھارت کی جانب سے اس کے خلاف مسلسل بیانات آ رہے ہیں۔

اس منصوبے سے بھارت کو معاشی' تجارتی اور عسکری میدان سمیت کسی بھی شعبے میں کوئی خطرہ نہیں' مگر اس کی جانب سے مختلف فورم پر اس کی مسلسل مخالفت کی جا رہی ہے۔ سی پیک سے علاقائی رابطہ سازی' تجارت' معاشی تعاون' خطے کے امن و استحکام اور ترقی میں مدد ملے گی۔ اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر روس اس میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہے اور اب تو برطانیہ نے بھی اس منصوبے سے فوائد سمیٹنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ پاکستان بھارت کو بھی اس منصوبے میں شرکت کے اشارے دے چکا ہے۔

اگر بھارت اس منصوبے کی مخالفت چھوڑ کر اس میں شریک ہوجائے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے اسے بھی وسیع پیمانے پر تجارتی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ حیرت انگیز امر ہے چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات اور اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان وسیع پیمانے پر تجارتی تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک خطے کی ترقی اور زیادہ سے زیادہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے باہمی تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔


دوسری جانب بھارت پاکستان کے ساتھ باہمی اختلافات اور تنازعات کو بالائے طاق رکھ کر دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے آمادہ نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی فورم پر پاکستان کی مخالفت پر کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ بھارت کے اسی معاندانہ اور متعصبانہ رویے کے باعث جنوبی ایشیا کے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے بھارت کو بارہا مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے مگر بھارتی حکمران کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ کر مذاکراتی عمل سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے افغانستان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور دونوں ممالک پاکستان مخالف یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

دنیا میں بڑی تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ ملکوں کے باہمی اختلافات اور تنازعات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہٰذا انھیں بالائے طاق رکھتے ہوئے باہمی تجارت اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ اگر بھارت بھی پاکستان کی مخالفت سے صرف نظر کرتے ہوئے دوستانہ تعلقات کی جانب قدم بڑھائے تو اس سے پورے خطے میں تیز رفتار تجارتی ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے لہٰذا بھارتی حکمرانوں کو پاکستان کی مخالفت چھوڑ کر امن اور تعاون کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

 
Load Next Story