سال2012صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کا حل نہیں مل سکا

بجلی گیس کے بحران، پیداواری لاگت میں اضافہ اور دیگر مسائل کا بھی سامنا رہا.

بجلی گیس کے بحران، پیداواری لاگت میں اضافہ اور دیگر مسائل کا بھی سامنا رہا. فوٹو فائل

DUBAI:
2012 کے دوران بھی پاکستان کے صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کا حل نہیں مل سکا۔

صنعتوں کو بجلی گیس کے بحران ، انفرااسٹرکچر اورامن وامان کے مسائل، بلند شرح سود، پیداواری لاگت میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا رہا، اس ضمن میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہارون اگر نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ تاجروصنعتکاروں کے لیے سال2012 بھی مایوس کن رہا ہے، اس سال پرانے مسائل تو برقراررہے لیکن نت نئے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔




انھوں نے بتایا کہ کراچی میں امن وامان کی سنگین صورتحال، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوابرائے تاوان اور خام مال سے لدے ٹرکوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث تجارتی مراکز کے چھوٹے تاجروں کے ساتھ تمام صنعتی زونز کے صنعتکاربھی خوفزدہ رہے لیکن اسکے باوجود تاجربرادری نے اپنے ملازمین کو باقاعدگی کے ساتھ اجرتیں اداکیں، انھوں نے بتایا کہ سال2012 میں روپے کی نسبت ڈالر کی قدربڑھنے سے کاروباروپیداواری لاگت میں12 فیصد کا اضافہ ہوا۔

سال میں متعدد ہڑتالوں، احتجاجوں کے باعث صنعتی سرگرمیاں متاثر رہیں جس کے نتیجے میں برآمدی شعبے کو اپنے بیرونی آرڈرز کی مقررہ مدت تک تکمیل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور ان ہی منفی عوامل کے سبب ملکی برآمدات کے حجم میں کمی واقع ہوئی، کراچی انڈسٹریل الائنس کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ سال2012 میں تاجربرادری نے دلبرداشتہ ہوکر ہڑتال کی کال بھی دی۔

کیونکہ تاجروصنعتکاروں کو انفرااسٹرکچرل مسائل، مختلف نوعیت کے سنگین بحرانوں کے علاوہ امن وامان کی بدترین صورتحال کا سامنا رہا لیکن حکومتی وعدوں اور دعوئوں کے باوجود سال2012 میں بھی امن وامان کی صورتحال بہتر نہ ہوسکی، انہوں نے کہا کہ سال2012 میں یومیہ ٹارگٹ کلنگ5 سے بڑھکر12 تک پہنچ گئی جبکہ بھتہ نہ دینے پر دکانوں مارکیٹوں میں ہینڈ گرنیڈ پھینکنے کی نئی روایت سامنے آئی، اس سال توانائی کے بحران میں مزید اضافہ ہوا بجلی کے بعد قدرتی گیس کی لوڈشیڈنگ دورانیے میں بھی ریکارڈ نوعیت کا اضافہ ہوا۔
Load Next Story