نئی حلقہ بندیاں کراچی کے عوام کے مفاد میں ناگزیر ہیں مقررین
جے یو پی کی اے پی سی سے صدیق راٹھور، قاری عثمان،برجیس احمدودیگر کا خطاب.
جے یو پی کی اے پی سی سے صدیق راٹھور، قاری عثمان،برجیس احمدودیگر کا خطاب. فوٹو: فائل
جمعیت علمائے پاکستان کے تحت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیاں کراچی کے عوام کے مفاد میں ناگزیر ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کے بیان سے ابہام پیدا ہوا ہے نوگوایریاز کو ختم کیے بغیر پرامن جماعتوں کا پورے شہر میں انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں،جے یو پی کے تحت پیر کو مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے جے یو پی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹرمحمد صدیق راٹھور، جے یو آئی(ف) کے قاری محمد عثمان، جماعت اسلامی کے برجیس احمد، مسلم لیگ (ن) کے سید نثارشاہ، جے یو آئی (س) کے مفتی عثمان یارخان، تحریک انصاف کے سبحان علی ساحل، مسلم لیگ فنکشنل کے انورخان، نیشنل پیپلزپارٹی کے سید ضیا عباس، سنی تحریک کے مطلوب اعوان، پی ڈی پی کے بشارت مرزا، سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے خواجہ نوید امین کے علاوہ جے یو پی کے مفتی محمد غوث صابری، محمد مستقیم نورانی، حلیم خان غوری و دیگر نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ کراچی میں ہر پولنگ اسٹیشن حساس ہے لہٰذا چیف الیکشن کمشنر کو اپنے بیان سے پیدا ہونے والے تمام ابہام کو ختم کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ کھرے اور صاف کردار کے حامل جسٹس(ر) فخرالدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری اور ان کی قیادت میں سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دیگر ارکان کا نہایت عزم اور جذبے کے ساتھ صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات کیلیے موثر اقدامات کیلیے کوششیں قابل ستائش ہیں جبکہ منصفانہ انتخابات کے ذریعے قوم کی حقیقی مینڈیٹ کے انتخاب پر یقین رکھنے والی تمام محب وطن جماعتوں کو آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام پر اعتماد قائم ہوا ہے ایسے میں کسی بھی ابہام سے اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچ سکتا ہے، رہنمائوں نے کہا کہ جو بھی جماعتیں مسلح اور عدم برداشت کی سیاست کرتی ہیں ان کی رجسٹریشن ختم کردی جائے، کراچی کے عوام کے مفاد میں نئی حلقہ بندیاں صرف پاکستانیت کی بنیاد پر ہونی چاہیں نہ کہ لسانیت یا قومیت کی بنیاد پر، اس موقع پر اے پی سی میں شریک جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل الیکشن کمیشن کے اقدامات کا جائزہ لینے کیلیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی آئندہ چند روز میں کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا اور2جنوری کو الیکشن کمیشن کے اجلاس کا جائزہ لیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر کے بیان سے ابہام پیدا ہوا ہے نوگوایریاز کو ختم کیے بغیر پرامن جماعتوں کا پورے شہر میں انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں،جے یو پی کے تحت پیر کو مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے جے یو پی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹرمحمد صدیق راٹھور، جے یو آئی(ف) کے قاری محمد عثمان، جماعت اسلامی کے برجیس احمد، مسلم لیگ (ن) کے سید نثارشاہ، جے یو آئی (س) کے مفتی عثمان یارخان، تحریک انصاف کے سبحان علی ساحل، مسلم لیگ فنکشنل کے انورخان، نیشنل پیپلزپارٹی کے سید ضیا عباس، سنی تحریک کے مطلوب اعوان، پی ڈی پی کے بشارت مرزا، سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے خواجہ نوید امین کے علاوہ جے یو پی کے مفتی محمد غوث صابری، محمد مستقیم نورانی، حلیم خان غوری و دیگر نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ کراچی میں ہر پولنگ اسٹیشن حساس ہے لہٰذا چیف الیکشن کمشنر کو اپنے بیان سے پیدا ہونے والے تمام ابہام کو ختم کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ کھرے اور صاف کردار کے حامل جسٹس(ر) فخرالدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری اور ان کی قیادت میں سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دیگر ارکان کا نہایت عزم اور جذبے کے ساتھ صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات کیلیے موثر اقدامات کیلیے کوششیں قابل ستائش ہیں جبکہ منصفانہ انتخابات کے ذریعے قوم کی حقیقی مینڈیٹ کے انتخاب پر یقین رکھنے والی تمام محب وطن جماعتوں کو آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام پر اعتماد قائم ہوا ہے ایسے میں کسی بھی ابہام سے اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچ سکتا ہے، رہنمائوں نے کہا کہ جو بھی جماعتیں مسلح اور عدم برداشت کی سیاست کرتی ہیں ان کی رجسٹریشن ختم کردی جائے، کراچی کے عوام کے مفاد میں نئی حلقہ بندیاں صرف پاکستانیت کی بنیاد پر ہونی چاہیں نہ کہ لسانیت یا قومیت کی بنیاد پر، اس موقع پر اے پی سی میں شریک جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل الیکشن کمیشن کے اقدامات کا جائزہ لینے کیلیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی آئندہ چند روز میں کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا اور2جنوری کو الیکشن کمیشن کے اجلاس کا جائزہ لیا جائے گا۔