ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت خدشات و توقعات
امریکی میڈیا میں ٹرمپ کی موافقت و مخالفت میں دلچسپ اور چشم کشا تبصرے ہو رہے ہیں
فوٹو: بشکریہ سی این این
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 45 ویں صدر کے عہدہ کا حلف اٹھا لیا۔ بصد سامان رسوائی سر بازار می رقصم کا ایسا تندوتیز سیاسی منظرنامہ امریکی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ عالمی میڈیا اور سیاسی ایوانوں سے متعلق ممتاز شخصیات کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایک بزنس مین امریکا کے جمے جمائے نظام سیاست و حکومت میں اتنا بڑا شگاف ڈال دیگا، یوں مخالفین کے اٹھائے ہوئے طوفان اور ہلیری کلنٹن کے اکثریتی ووٹوں کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ بازی لے گیا اور ذرائع ابلاغ کے مستند و مسلمہ پنڈتوں کو بنیادی سیاسی اسرار و رموز سے ناآشنا رنگ باز مات دے گیا۔
امریکی میڈیا میں ٹرمپ کی موافقت و مخالفت میں دلچسپ اور چشم کشا تبصرے ہو رہے ہیں۔ جمعہ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت کا حلف اٹھا کر امریکا میں بے یقینی، خدشات و توقعات اور داخلی و خارجی تحفظات کے بے سمت سیاسی سفر کا جو غیر معمولی عندیہ دیا وہ ان کے افتتاحی خطاب سے واضح ہوا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم پرانے اتحادیوں کو مضبوط اور نئے اتحاد تشکیل دیکر بنیاد پرست اسلامی دہشتگردی کے خلاف دنیا کو متحد کرینگے۔ ہم زمین سے بنیادپرست اسلامی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرینگے۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ''سب سے پہلے امریکا'' کا نعرہ لگاتے ہوئے بند فیکٹریوں کو کھولنے کا اعلان بھی کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے معیشت اور روزگار کی بہتری کے لیے 2 نعرے 'امریکی مصنوعات خریدو' اور 'امریکیوں کو نوکری دو' بھی لگائے۔ انھوں نے صدارتی مہم کے دوران اپنے وعدے کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ تمام عوام کو روزگار فراہم کرینگے۔ ٹرمپ نے مداحوں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو کسی قیمت پر جھکنے نہ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے آخری سانس تک مقابلہ کیا جائے گا اور وہ عوام کو مایوس نہیں کرینگے۔
ٹرمپ نے امریکی اداروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنا تحفظ کیا، امریکیوں کا تحفظ نہیں کیا، مگر اب نئی سوچ امریکا پر حکمرانی کرے گی۔ ہماری نظریں اب صرف مستقبل پر ہیں۔ دوسروں کے دفاع پر امریکا کے اربوں ڈالر خرچ نہیں کر سکتے۔ منشیات سے ہونے والا قتل عام آج کے بعد نہیں ہو گا۔ اپنی سرزمین کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ آج کے دن عوام امریکا کے اصل حکمران بن گئے۔ تبدیلی کا عمل اسی لمحے سے شروع ہو گیا، قوم سے کیے گئے تمام وعدے نبھائیں گے۔ ہمیں بے انتہا چیلنجز کا سامنا ہے، مگر امریکا کی تعمیر نو کے لیے دن رات ایک کردیں گے۔
ادھر امریکی ریاستوں سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ واشنگٹن میدان جنگ بنا رہا۔ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئیں جب کہ سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ خطاب سے پہلے اقتدار منتقل کرنے کی تقریب ہوئی جس میں سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباما نے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار منتقل کیا۔ نومنتخب صدر سے کیپٹل ہِل میں امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے حلف لیا۔ حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ کو 21 توپوں کو سلامی دی گئی اور ان کے صدر ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔
ٹرمپ سے قبل نائب صدر مائیک پنس نے حلف اٹھایا۔ حلف برداری تقریب کے موقع پر ممکنہ احتجاج اور دھرنوں کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کیے گئے تھے۔ تقریب حلف برداری میں ہلیری کلنٹن، بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، جمی کارٹر، مشیل اوباما اور ٹرمپ کی نومنتخب ٹیم سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس تقریب کو دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر لائیو دیکھا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی فسطائی مزاج کے خمیر میں گندھی ہوئی ہے، وہ فتح گر صدر ضرور ہیں مگر ان کی بدنصیبی یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے عہد صدارت کی ابتدا ہی مختلف النوع الزامات، اندیشوں اور ہولناک قیاس آرائیوں کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ ایک بااثر امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کی بدترین کابینہ تشکیل دی ہے، اسی اخبار کے ایک کالم میں بتایا گیا کہ ڈیموکریٹس مزاحمت اور مخالفت کی انتہا تک جائیں گے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کی حلف برداری ایک نئے عہد میں قدم رکھنے کی نوید ہے، جس سے ایک نئی ڈرامائی شفٹ کا آغاز ہو گا، ٹرمپ اس حوالہ سے اپنے بانیان قوم اور پیشروؤں سے قطعی مختلف ہیں کہ موصوف کے مواخذہ کی باتیں ان کے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی میڈیا کے پرشور پیکیجز کا حصہ بنی ہوئی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما ہیلتھ کیئر کو حقارت سے ٹھکرانے اور اس کے متبادل منصوبہ کی تیاری کی ہدایات کی ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے کئی نظریاتی، معاہداتی، عسکری، معاشی اور تزویراتی اہداف پر تابڑ توڑ حملے کیے جو ان کی انتخابی مہم کے دوران جاری تھے، ٹرمپ پر سب سے بڑا الزام خود امریکی اہل سیاست عائد کرتے ہیں وہ امریکی قوم کو قوم پرستانہ، نسلی اور تنگ نظرانہ مفادات کا جھانسہ دینا ہے، ان کے مخالفین کو یقین ہے کہ انھوں نے جو ہمالیائی وعدے اور دعوے کیے ہیں، بڑھکیں ماری ہیں، ان اہداف کا پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ نے یورپی چھتے میں بھی ہاتھ ڈالا ہے، انھیں نیٹو پسند نہیں، روس کے مرد آہن ولادی میر پوتن کی یاری انہیں ہر چیز پر بھاری نظر آتی ہے، یورپی رہنما ان کے بیانات اور طے پانے والی پالیسیوں سے ششدر ہیں، ایران سے ایٹمی معاہدہ پر نظرثانی کی خبروں پر ایرانی حکام مضطرب ہیں اور کسی قسم کی بات چیت کے دوبارہ حق میں نہیں۔ مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، پیسیفک معاہدات اور افریقہ کے سیاسی سیاق و سباق میں ٹرمپ دو طرفہ تعلقات میں تبدیلیوں اور جن جارحانہ اقتصادی و عسکری اقدامات کا اعلان کر چکے ہیں وہ مبصرین کے نزدیک امریکا سے دنیا کے دیگر ممالک کو بدظن کرنے کے لیے کافی ہونگے۔
نئے امریکی صدر کا ''پہلے امریکا America first'' کا نعرہ بطور خاص موضوع بحث بن گیا ہے، لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق پہلے امریکا کا نعرہ فسطائی، صیہونی مخالف اور قوم پرستانہ ہونے کے ساتھ ساتھ الگ تھلگ رہنے کا ہے جو جنگ عظیم میں شمولیت سے گریز پر مبنی تھا، اسی طرح ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا اپنی اقدار اور حکم آج کے بعد کسی پر مسلط نہیں کریگا اور اب امریکا دنیا سے اسلامی دہشتگردی ختم کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے تو اس مسئلہ کا حل وہ جنگ کے عالمی شعلے بھڑکائے اور عسکری مداخلت کے بغیر کس طرح نکالیں گے؟
یہی وہ نکتہ ہے جس کے بطن سے ٹرمپ کی دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کا جن باہر آئیگا بہرکیف جنگ کے بغیر اگر دنیا امن سے رہنے کے قابل ہو جاتی ہے تو اس سے بڑا تحفہ نوع انسانی کو اور کیا چاہیے۔ نوم چومسکی سمیت تقریبا تمام جنگ مخالف فلسفی، دانشور، مفکرین اور سیاسی زعما اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کو امریکی پالیسیوں نے غیر محفوظ کیا ہے چنانچہ ''پہلے امریکا'' کا نعرہ امریکی عالمی حاکمیت اور پراکسی وار سمیت گن بوٹ ڈپلومیسی اور جنگجویانہ پالیسی سے پیچھے ہٹنے کا صرف بہانہ ہے، ٹرمپ کو دنیا سے رشتہ جوڑنے کے لیے تدبر، تحمل، تعقل اور عملیت پسندی کے گنج ہائے گراں مایہ سے استفادہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کے عہد صدارت کے تناظر میں پاک امریکا تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، بلاشبہ اوباما کا 8 سالہ دور پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کے لیے ڈزاسٹرز تھا، امریکی ذرائع نئے پاک امریکا تعلقات کے حوالہ سے خوش گمانی کے پیغامات دے رہے ہیں لیکن چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سے تعلقات میں سردمہری کے خاتمہ کے لیے غیر معمولی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔
پاک بھارت کشیدگی ٹرمپ کے سیاسی وژن کا سب سے بڑا امتحان ہو گا، نواز حکومت کو مستحکم و خوشگوار پاک امریکا روابط کے لیے بریک تھرو کرنا ہو گا جب کہ عالم اسلام پر کیا گزرتی ہے اور اسرائیل پر ٹرمپ حکومت کی مہربانیوں کا کیا عالم ہو گا، بھارت، سعودی عرب، یمن، لیبیا، سوڈان، شام و عراق، ترکی اور ایشیا و افریقہ ٹرمپ کے تدبر کو کیسے آزمائیں گے اور دنیا امریکی مفاد کو اولیت دینے والے صدر ٹرمپ سے خیر کی جتنی امید رکھتی ہے اسے بدلے میں امن، خیر سگالی، توقیر اور صلح دائمی کی سوغات کب ملے گی اس کا دنیا کو انتطار کرنا ہو گا لیکن ایک بات نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ضرور پیش نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان کو امریکا نظر انداز نہیں کر سکتا۔
امریکی میڈیا میں ٹرمپ کی موافقت و مخالفت میں دلچسپ اور چشم کشا تبصرے ہو رہے ہیں۔ جمعہ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت کا حلف اٹھا کر امریکا میں بے یقینی، خدشات و توقعات اور داخلی و خارجی تحفظات کے بے سمت سیاسی سفر کا جو غیر معمولی عندیہ دیا وہ ان کے افتتاحی خطاب سے واضح ہوا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم پرانے اتحادیوں کو مضبوط اور نئے اتحاد تشکیل دیکر بنیاد پرست اسلامی دہشتگردی کے خلاف دنیا کو متحد کرینگے۔ ہم زمین سے بنیادپرست اسلامی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرینگے۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ''سب سے پہلے امریکا'' کا نعرہ لگاتے ہوئے بند فیکٹریوں کو کھولنے کا اعلان بھی کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے معیشت اور روزگار کی بہتری کے لیے 2 نعرے 'امریکی مصنوعات خریدو' اور 'امریکیوں کو نوکری دو' بھی لگائے۔ انھوں نے صدارتی مہم کے دوران اپنے وعدے کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ تمام عوام کو روزگار فراہم کرینگے۔ ٹرمپ نے مداحوں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو کسی قیمت پر جھکنے نہ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے آخری سانس تک مقابلہ کیا جائے گا اور وہ عوام کو مایوس نہیں کرینگے۔
ٹرمپ نے امریکی اداروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنا تحفظ کیا، امریکیوں کا تحفظ نہیں کیا، مگر اب نئی سوچ امریکا پر حکمرانی کرے گی۔ ہماری نظریں اب صرف مستقبل پر ہیں۔ دوسروں کے دفاع پر امریکا کے اربوں ڈالر خرچ نہیں کر سکتے۔ منشیات سے ہونے والا قتل عام آج کے بعد نہیں ہو گا۔ اپنی سرزمین کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ آج کے دن عوام امریکا کے اصل حکمران بن گئے۔ تبدیلی کا عمل اسی لمحے سے شروع ہو گیا، قوم سے کیے گئے تمام وعدے نبھائیں گے۔ ہمیں بے انتہا چیلنجز کا سامنا ہے، مگر امریکا کی تعمیر نو کے لیے دن رات ایک کردیں گے۔
ادھر امریکی ریاستوں سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ واشنگٹن میدان جنگ بنا رہا۔ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئیں جب کہ سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ خطاب سے پہلے اقتدار منتقل کرنے کی تقریب ہوئی جس میں سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباما نے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار منتقل کیا۔ نومنتخب صدر سے کیپٹل ہِل میں امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے حلف لیا۔ حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ کو 21 توپوں کو سلامی دی گئی اور ان کے صدر ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔
ٹرمپ سے قبل نائب صدر مائیک پنس نے حلف اٹھایا۔ حلف برداری تقریب کے موقع پر ممکنہ احتجاج اور دھرنوں کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کیے گئے تھے۔ تقریب حلف برداری میں ہلیری کلنٹن، بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، جمی کارٹر، مشیل اوباما اور ٹرمپ کی نومنتخب ٹیم سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس تقریب کو دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر لائیو دیکھا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی فسطائی مزاج کے خمیر میں گندھی ہوئی ہے، وہ فتح گر صدر ضرور ہیں مگر ان کی بدنصیبی یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے عہد صدارت کی ابتدا ہی مختلف النوع الزامات، اندیشوں اور ہولناک قیاس آرائیوں کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ ایک بااثر امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کی بدترین کابینہ تشکیل دی ہے، اسی اخبار کے ایک کالم میں بتایا گیا کہ ڈیموکریٹس مزاحمت اور مخالفت کی انتہا تک جائیں گے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کی حلف برداری ایک نئے عہد میں قدم رکھنے کی نوید ہے، جس سے ایک نئی ڈرامائی شفٹ کا آغاز ہو گا، ٹرمپ اس حوالہ سے اپنے بانیان قوم اور پیشروؤں سے قطعی مختلف ہیں کہ موصوف کے مواخذہ کی باتیں ان کے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی میڈیا کے پرشور پیکیجز کا حصہ بنی ہوئی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما ہیلتھ کیئر کو حقارت سے ٹھکرانے اور اس کے متبادل منصوبہ کی تیاری کی ہدایات کی ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے کئی نظریاتی، معاہداتی، عسکری، معاشی اور تزویراتی اہداف پر تابڑ توڑ حملے کیے جو ان کی انتخابی مہم کے دوران جاری تھے، ٹرمپ پر سب سے بڑا الزام خود امریکی اہل سیاست عائد کرتے ہیں وہ امریکی قوم کو قوم پرستانہ، نسلی اور تنگ نظرانہ مفادات کا جھانسہ دینا ہے، ان کے مخالفین کو یقین ہے کہ انھوں نے جو ہمالیائی وعدے اور دعوے کیے ہیں، بڑھکیں ماری ہیں، ان اہداف کا پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ نے یورپی چھتے میں بھی ہاتھ ڈالا ہے، انھیں نیٹو پسند نہیں، روس کے مرد آہن ولادی میر پوتن کی یاری انہیں ہر چیز پر بھاری نظر آتی ہے، یورپی رہنما ان کے بیانات اور طے پانے والی پالیسیوں سے ششدر ہیں، ایران سے ایٹمی معاہدہ پر نظرثانی کی خبروں پر ایرانی حکام مضطرب ہیں اور کسی قسم کی بات چیت کے دوبارہ حق میں نہیں۔ مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، پیسیفک معاہدات اور افریقہ کے سیاسی سیاق و سباق میں ٹرمپ دو طرفہ تعلقات میں تبدیلیوں اور جن جارحانہ اقتصادی و عسکری اقدامات کا اعلان کر چکے ہیں وہ مبصرین کے نزدیک امریکا سے دنیا کے دیگر ممالک کو بدظن کرنے کے لیے کافی ہونگے۔
نئے امریکی صدر کا ''پہلے امریکا America first'' کا نعرہ بطور خاص موضوع بحث بن گیا ہے، لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق پہلے امریکا کا نعرہ فسطائی، صیہونی مخالف اور قوم پرستانہ ہونے کے ساتھ ساتھ الگ تھلگ رہنے کا ہے جو جنگ عظیم میں شمولیت سے گریز پر مبنی تھا، اسی طرح ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا اپنی اقدار اور حکم آج کے بعد کسی پر مسلط نہیں کریگا اور اب امریکا دنیا سے اسلامی دہشتگردی ختم کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے تو اس مسئلہ کا حل وہ جنگ کے عالمی شعلے بھڑکائے اور عسکری مداخلت کے بغیر کس طرح نکالیں گے؟
یہی وہ نکتہ ہے جس کے بطن سے ٹرمپ کی دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کا جن باہر آئیگا بہرکیف جنگ کے بغیر اگر دنیا امن سے رہنے کے قابل ہو جاتی ہے تو اس سے بڑا تحفہ نوع انسانی کو اور کیا چاہیے۔ نوم چومسکی سمیت تقریبا تمام جنگ مخالف فلسفی، دانشور، مفکرین اور سیاسی زعما اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کو امریکی پالیسیوں نے غیر محفوظ کیا ہے چنانچہ ''پہلے امریکا'' کا نعرہ امریکی عالمی حاکمیت اور پراکسی وار سمیت گن بوٹ ڈپلومیسی اور جنگجویانہ پالیسی سے پیچھے ہٹنے کا صرف بہانہ ہے، ٹرمپ کو دنیا سے رشتہ جوڑنے کے لیے تدبر، تحمل، تعقل اور عملیت پسندی کے گنج ہائے گراں مایہ سے استفادہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کے عہد صدارت کے تناظر میں پاک امریکا تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، بلاشبہ اوباما کا 8 سالہ دور پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کے لیے ڈزاسٹرز تھا، امریکی ذرائع نئے پاک امریکا تعلقات کے حوالہ سے خوش گمانی کے پیغامات دے رہے ہیں لیکن چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سے تعلقات میں سردمہری کے خاتمہ کے لیے غیر معمولی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔
پاک بھارت کشیدگی ٹرمپ کے سیاسی وژن کا سب سے بڑا امتحان ہو گا، نواز حکومت کو مستحکم و خوشگوار پاک امریکا روابط کے لیے بریک تھرو کرنا ہو گا جب کہ عالم اسلام پر کیا گزرتی ہے اور اسرائیل پر ٹرمپ حکومت کی مہربانیوں کا کیا عالم ہو گا، بھارت، سعودی عرب، یمن، لیبیا، سوڈان، شام و عراق، ترکی اور ایشیا و افریقہ ٹرمپ کے تدبر کو کیسے آزمائیں گے اور دنیا امریکی مفاد کو اولیت دینے والے صدر ٹرمپ سے خیر کی جتنی امید رکھتی ہے اسے بدلے میں امن، خیر سگالی، توقیر اور صلح دائمی کی سوغات کب ملے گی اس کا دنیا کو انتطار کرنا ہو گا لیکن ایک بات نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ضرور پیش نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان کو امریکا نظر انداز نہیں کر سکتا۔