پارہ چنار میں دہشت گردی کی افسوسناک واردات
فاٹا کے حوالے سے پاکستان کو ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے
جن علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب کے نام سے طویل اور بھرپور آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں ان دور افتادہ دشوار گزار علاقوں میں نہ صرف دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا اور ان علاقوں کو تخریب کاروں سے تقریباً پاک کر دیا گیا لیکن ان عناصر کی باقیات کی طرف سے موقع ملنے پر کوئی نہ کوئی دھماکا کر دیا جاتا ہے جس میں ہماری خفیہ ایجنسیوں کو مزید چوکسی کا پیغام ملتا ہے۔
تازہ واقعہ ہفتے کی صبح سویرے فاٹا کی کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں عید گاہ مارکیٹ کے قریب دھماکا کی صورت میں کیا گیا جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 24 انسانی جانوں کے جاں بحق اور 87 کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے جب کہ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی گئی ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق دھماکا پرانی سبزی منڈی میں اس وقت ہوا جب وہاں پر لوگوں کا سبزی خریدنے کے لیے رش لگا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاراچنار کی اسی مارکیٹ میں تین دھماکے ہو چکے ہیں اور یہ چوتھا دھماکا ہے۔ وطن عزیز کے اکابرین نے حسب روایت دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ فاٹا کے دیگر علاقوں کی طرح کرم ایجنسی میں بھی طالبان کا اثر و نفوذ رہا ہے اور یہاں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا۔
یہ آپریشن 2011ء میں اختتام پذیر ہوا۔ اس آپریشن کے بعد اس علاقے میں امن قائم ہو گیا تھا تاہم دہشت گردوں کی باقیات کہیں نہ کہیں کوئی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ فاٹا کے حوالے سے پاکستان کو ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے اور وہ ہے پاک افغان سرحد۔ جب تک یہ سرحد محفوظ نہیں بنائی جاتی اور فاٹا میں زمینی اصلاحات نہیں لائی جاتیں، دہشت گردی پر قابو پانا خاصا مشکل رہے گا اور اس کے علاوہ ان علاقوں میں مستقل بنیادوں پر فوجی چھاؤنیاں بنائی جائیں اور یہاں اسلحہ کلچر کا خاتمہ کر کے امن و امان کی ذمے داری سرکاری اداروں کے سپرد کی جائے۔ اس طریقے سے ہی فاٹا میں امن و خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔
تازہ واقعہ ہفتے کی صبح سویرے فاٹا کی کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں عید گاہ مارکیٹ کے قریب دھماکا کی صورت میں کیا گیا جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 24 انسانی جانوں کے جاں بحق اور 87 کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے جب کہ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی گئی ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
کرم ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق دھماکا پرانی سبزی منڈی میں اس وقت ہوا جب وہاں پر لوگوں کا سبزی خریدنے کے لیے رش لگا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاراچنار کی اسی مارکیٹ میں تین دھماکے ہو چکے ہیں اور یہ چوتھا دھماکا ہے۔ وطن عزیز کے اکابرین نے حسب روایت دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ فاٹا کے دیگر علاقوں کی طرح کرم ایجنسی میں بھی طالبان کا اثر و نفوذ رہا ہے اور یہاں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا۔
یہ آپریشن 2011ء میں اختتام پذیر ہوا۔ اس آپریشن کے بعد اس علاقے میں امن قائم ہو گیا تھا تاہم دہشت گردوں کی باقیات کہیں نہ کہیں کوئی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ فاٹا کے حوالے سے پاکستان کو ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے اور وہ ہے پاک افغان سرحد۔ جب تک یہ سرحد محفوظ نہیں بنائی جاتی اور فاٹا میں زمینی اصلاحات نہیں لائی جاتیں، دہشت گردی پر قابو پانا خاصا مشکل رہے گا اور اس کے علاوہ ان علاقوں میں مستقل بنیادوں پر فوجی چھاؤنیاں بنائی جائیں اور یہاں اسلحہ کلچر کا خاتمہ کر کے امن و امان کی ذمے داری سرکاری اداروں کے سپرد کی جائے۔ اس طریقے سے ہی فاٹا میں امن و خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔