80 فیصد غیرفعال ٹیوب ویلوں کی شکایت ملی ہےوزیراعلیٰ سندھ
ذمے داروں کاپتہ لگا رہے ہیں، فروری تک مزید ٹیوب ویلوں کوفعال کیا جائے، حکام کوہدایت
ضلع جیکب آباد اوردیگرعلاقوں سے جمع شدہ بارش کا پانی جلد خارج کیا جائے،قائم علی شاہ ۔ فوٹو: فائل
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیرصدارت سیم اور تھورکی مصیبت اوراسکارپ اسکیم کے تحت چلنے والے ٹیوب ویلوں کے حوالے سے متعلق محکمہ آبپاشی کا ایک اہم اجلاس پیرکووزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
جس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ 80 فیصد غیرفعال ٹیوب ویلوں کی شکایت ملی ہے ۔ تحقیقات کر کے ذمے دار افراد کاپتہ لگارہے ہیںتاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔انھوں نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ فروری کی آخر تک دوماہ کے اندرزیادہ سے زیادہ ٹیوب ویلوں کی مرمت کرکے انھیں کام کے لیے فنکشنل کیاجائے۔انھوں نے مزید ہدایت دی کہ ضلع جیکب آباد اور دیگر علاقوں سے حالیہ سخت بارشوں کی وجہ سے جمع ہونے والے پانی کا جلد اخراج کیا جائے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ " اسکارپ ٹیوب ویل ڈویژن " کا متعلقہ سیکشن مؤثرطریقے سے کام نہیں کررہا اور ٹیوب ویلوں کی دیکھ بھال اور استعمال پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
عوامی نمائندوں سے بھی ٹیوب ویلوں کے غیرفعال ہونے کی شکایات ملیہیں۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت مجموعی طور پر3657 ٹیوب ویلوں میں سے 1401 ٹیوب ویل بند ہیں جبکہ کل 2256 ٹیوب ویل آپریشن میں ہیں جوکہ38 فیصد ٹیوب ویل بنداور 62 فیصد ٹیوب ویل چل رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ایسے لوگوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے جوٹیوب ویلوں کی چوری یا انھیں نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ اس موقع پراجلاس کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں ملوث افراد کے خلاف 100 سے زائد ایف آئی آرز درج کرائی گئی ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ ٹیوب ویلوں کی مرمت اور مینٹیننس کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے ۔
جس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ 80 فیصد غیرفعال ٹیوب ویلوں کی شکایت ملی ہے ۔ تحقیقات کر کے ذمے دار افراد کاپتہ لگارہے ہیںتاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔انھوں نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ فروری کی آخر تک دوماہ کے اندرزیادہ سے زیادہ ٹیوب ویلوں کی مرمت کرکے انھیں کام کے لیے فنکشنل کیاجائے۔انھوں نے مزید ہدایت دی کہ ضلع جیکب آباد اور دیگر علاقوں سے حالیہ سخت بارشوں کی وجہ سے جمع ہونے والے پانی کا جلد اخراج کیا جائے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ " اسکارپ ٹیوب ویل ڈویژن " کا متعلقہ سیکشن مؤثرطریقے سے کام نہیں کررہا اور ٹیوب ویلوں کی دیکھ بھال اور استعمال پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
عوامی نمائندوں سے بھی ٹیوب ویلوں کے غیرفعال ہونے کی شکایات ملیہیں۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت مجموعی طور پر3657 ٹیوب ویلوں میں سے 1401 ٹیوب ویل بند ہیں جبکہ کل 2256 ٹیوب ویل آپریشن میں ہیں جوکہ38 فیصد ٹیوب ویل بنداور 62 فیصد ٹیوب ویل چل رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ایسے لوگوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے جوٹیوب ویلوں کی چوری یا انھیں نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ اس موقع پراجلاس کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں ملوث افراد کے خلاف 100 سے زائد ایف آئی آرز درج کرائی گئی ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ ٹیوب ویلوں کی مرمت اور مینٹیننس کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے ۔