اسلام آباد کو تحریر اسکوائر نہیں بننے دیں گے قمرکائرہ
طاہر القادری تجاویز الیکشن کمیشن کو دیں، الیکشن کمیشن، میڈیا اور عدالتیں آزاد ہیں
فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ طاہر القادری لانگ مارچ کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو تجاویز دیں وہ کیسی انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں۔
خوشی کی بات ہے کہ عالم دین آئین کی بات کر رہے ہیں' طاہر القادری پرامن رہیں اور آئین کے مطابق کام اور لانگ مارچ کریں تو کسی کو خطرہ نہیں' طاہر القادری کے مارچ میںشرکت ایم کیو ایم کا اپنا فیصلہ ہے، ایم کیو ایم پیپلزپارٹی میں ضم نہیں ہوئی۔ کالا باغ ڈیم جبر کے نظام میں نہیں بن سکا تو اب کیسے بنے گا، کوئی بھی اپنی مقبولیت کم ہونے کے خوف سے متنازع مسائل نہیں چھیڑتا' ایسا کمیشن بنایا جائے جو تعین کرے کہ پاور سیکٹر پر کام کیوں نہیں ہوسکا'سیاست دانوں پر تنقید ہوتی ہے۔
لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ ان کو عرصہ کتنا ملا ہے' حکومت ملی تو ملک سر کے بل کھڑا تھا اب ہم نے ملک کو اصلاحات کر کے پا ئوں کے بل کھڑا کر دیا۔ وہ پاکستان انجینئرنگ کانگریس کی صد سالہ تقریبات کے افتتاحی سیشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا پیپلزپارٹی کو ڈاکٹر طاہرالقادری یا ان کی جماعت سے کوئی خطرہ نہیں، ایم کیو ایم ہماری اتحادی ضرور ہے لیکن وہ ہر کام دائرہ اختیار میں رہ کر کررہے ہیں۔
طاہر القادری جو اصلاحات چاہتے ہیں اپنی تجاویز دیں لیکن آئین سے باہر کوئی کام نہ کریں۔ پیپلزپارٹی تحریر اسکوائر بنانے والوں کیلیے رول ماڈل ہے'یہاں تحریر اسکوائر بنانے کی کوشش نہ کی جائے'ملک میں الیکشن کمیشن'میڈیا اور عدالتیں آزاد ہیں۔ موجودہ حکومت نے ساڑھے3 سالوں میں بھاشا ڈیم پر کام کیا اور اب اس منصوبے کا ٹینڈر ہونا باقی ہے۔ پہلی دفعہ حکومت نے این ایف سی کا فارمولا دیا پہلے صوبے مرکز کی طرف دیکھتے تھے لیکن اب مرکز صوبوں کی طرف دیکھتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ طاہر القادری لانگ مارچ کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو تجاویز دیں وہ کیسی انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں۔
خوشی کی بات ہے کہ عالم دین آئین کی بات کر رہے ہیں' طاہر القادری پرامن رہیں اور آئین کے مطابق کام اور لانگ مارچ کریں تو کسی کو خطرہ نہیں' طاہر القادری کے مارچ میںشرکت ایم کیو ایم کا اپنا فیصلہ ہے، ایم کیو ایم پیپلزپارٹی میں ضم نہیں ہوئی۔ کالا باغ ڈیم جبر کے نظام میں نہیں بن سکا تو اب کیسے بنے گا، کوئی بھی اپنی مقبولیت کم ہونے کے خوف سے متنازع مسائل نہیں چھیڑتا' ایسا کمیشن بنایا جائے جو تعین کرے کہ پاور سیکٹر پر کام کیوں نہیں ہوسکا'سیاست دانوں پر تنقید ہوتی ہے۔
لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ ان کو عرصہ کتنا ملا ہے' حکومت ملی تو ملک سر کے بل کھڑا تھا اب ہم نے ملک کو اصلاحات کر کے پا ئوں کے بل کھڑا کر دیا۔ وہ پاکستان انجینئرنگ کانگریس کی صد سالہ تقریبات کے افتتاحی سیشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا پیپلزپارٹی کو ڈاکٹر طاہرالقادری یا ان کی جماعت سے کوئی خطرہ نہیں، ایم کیو ایم ہماری اتحادی ضرور ہے لیکن وہ ہر کام دائرہ اختیار میں رہ کر کررہے ہیں۔
طاہر القادری جو اصلاحات چاہتے ہیں اپنی تجاویز دیں لیکن آئین سے باہر کوئی کام نہ کریں۔ پیپلزپارٹی تحریر اسکوائر بنانے والوں کیلیے رول ماڈل ہے'یہاں تحریر اسکوائر بنانے کی کوشش نہ کی جائے'ملک میں الیکشن کمیشن'میڈیا اور عدالتیں آزاد ہیں۔ موجودہ حکومت نے ساڑھے3 سالوں میں بھاشا ڈیم پر کام کیا اور اب اس منصوبے کا ٹینڈر ہونا باقی ہے۔ پہلی دفعہ حکومت نے این ایف سی کا فارمولا دیا پہلے صوبے مرکز کی طرف دیکھتے تھے لیکن اب مرکز صوبوں کی طرف دیکھتا ہے۔