پارا چنار کا المیہ
پختون خواہ کے ایک خوبصورت شہرکو خون میں ڈبودیا گیا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
پختون خواہ کے ایک خوبصورت شہرکو خون میں ڈبودیا گیا۔ پارا چنارکی عید گاہ مارکیٹ سے متصل سبزی منڈی میں ہونے والے بم دھماکے میں 25 افراد جاں بحق اور 60 سے زیادہ زخمی ہوگئے، سبزی منڈی میں لوگ سبزیاں خریدنے میں مصروف تھے کہ ان پر یہ قیامت ٹوٹ پڑی، دھماکے سے پھٹنے والے بارودی مواد کو فروٹ کی ایک پیٹی میں چھپایا گیا تھا جسے ٹائم ڈیوائس کے ذریعے اڑادیا گیا۔ بم دھماکا کرنے والے بھی نسل انسانی سے ہی تعلق رکھتے تھے اور بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے بھی انسان ہی تھے جب بھی جہاں بھی اس قسم کے دھماکے یا خودکش حملے ہوتے ہیں انسانی جسم ٹکڑوں اور چیتھڑوں میں بدل جاتے ہیں ۔ یہ موت کی ایک بد ترین شکل ہے جس کا سامنا آج کی مہذب دنیا کے باسیوں کو ہے۔ روایت کے مطابق صدر وزیراعظم سمیت تمام زعما نے اس دھماکے کی مذمت کی اور جاں بحق ہونے والوں کے پسماندہ گان سے تعزیت کا اظہار کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرب عضب کے ذریعے بے لگام خون آشام دہشت گردی کو لگام دی گئی اور اس عفریت پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا لیکن دہشت گرد طاقتیں جہاں انھیں موقع ملتا ہے اپنی کارروائی کر جاتی ہیں جس کو روکنا نہ ممکن ہے نہ آسان، سب سے پہلے دہشت گردی کی ایک بڑی تحریک یعنی فقہی اختلافات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہی میں نہیں بلکہ سارے عالم اسلام میں دہشت گردی کا ایک بڑا متحرک فقہی اختلافات ہیں۔ پارا چنار میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے 25 افراد میں سے 23 افراد کی نماز جنازہ مرکزی امام بارگاہ میں ادا کی گئی۔اس دھماکے کی ذمے داری ایک ایسی تنظیم نے قبول کی جو مخالف فرقے کے سخت خلاف ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھی فقہی اختلافات کار فرما ہیں۔ دہشت گردی کی حالیہ تاریخ میں فقہی اختلافات کا بڑا دخل رہا ہے۔
مسلم قوم کی یہ بد قسمتی ہے کہ مسلم ملک فقہوں کے حوالے سے نہ صرف تقسیم ہیں بلکہ ایک دوسرے سے برسر پیکار بھی ہیں۔ اس ستم ظریفی کو کیا نام دیں کہ بعض مسلم ملکوں کے حکمران اپنے اقتداری مفادات کی خاطر پسماندہ مسلم ملکوں کی مذہبی تنظیموں کو بھاری مالی امداد دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں جس کا منطقی نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ متحارب فقہوں سے تعلق رکھنے والی تنطیمیں طاقت ور بھی ہورہی ہیں اور دہشت گردی کا ارتکاب بھی کررہی ہیں۔
دنیا میں 57 مسلم ملک موجود ہیں اوران کی مختلف تنظیمیں بھی کام کررہی ہیں جن میں عرب لیگ اور او آئی سی سر فہرست ہیں۔ منطقی طور پر ان تنظیموں کا مقصد مسلم ملکوں اور مسلمانوں میں بھائی چارہ اور یکجہتی پیدا کرنا ہی ہوسکتا ہے لیکن کیا یہ تنظیمیں اپنی ذم داریاں ادا کررہی ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی ہی میں آتا ہے ور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مخصوص ملکوں کا حکمران طبقہ اپنے اقتداری مفادات کی خاطر اس تقسیم کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ اسے گہرا کرنا چاہتا ہے۔ بعض ملکوں میں تو فقہی تنظیموں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فقہی کشت و خون میں اضافہ ہوتا رہا۔
پسماندہ مسلم ملکوں میں ایسے رسم و رواج مضبوط ہیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی، فرقہ وارانہ منافرت میں اضافہ کررہے ہیں ان رسم و رواج اور روایات کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں لیکن سادہ لوح مسلمانوں کو ان روایات کو مذہب کا حصہ بناکر پیش کیا جاتا ہے اور سادہ لوح مسلمان فقہی تعصبات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بعض مسلم ملکوں میں فقہوں کے حوالے سے منافرت پھیلانے والوں کو اس قدر آزادی حاصل ہے کہ وہ عبادات کی جگہوں کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے لٹریچر کوگلی محلوں تک پہنچاکر فقہی دیوانگی میں اضافہ کرتے ہیں۔
چونکہ فرقہ وارانہ دہشت گردی مسلم ملکوں کا ناگزیر حصہ بن گئی ہے۔ اس لیے مسلم ملکوں کے اہل علم، اہل دانش، اہل قلم کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام میں اس حوالے سے بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کی رسائی گھر ،گھر تک ہوگئی ہے اگر میڈیا کے سرپرست بے سروپا پروگراموں میں سے کچھ وقت نکال کر مذہبی یکجہتی کے پروگراموں کو دیں اور مسلم قوم میں اتفاق اور یکجہتی پیدا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تو بلاشبہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ البتہ یہ ہے کہ بعض فقہوں کے سرپرست اپنی نئی نسلوں کی تربیت فقہی اختلافات پر کرتے ہیں جس کا نتیجہ فرقہ وارانہ منافرت میں اضافے کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس قسم کے بڑے اصلاحی کاموں میں وسائل کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے مسلم حکمرانوں کی یہ اخلاقی اور قومی ذمے داری ہے کہ وہ مذہبی یکجہتی پیدا کرنے والے پروگراموں کی مالی حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ بڑا کام کامیابی سے آگے بڑھ سکے۔
دیکھا یہ جارہا ہے کہ قبائلی علاقے خاص طور پر مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے شکار ہیں۔ قبائلی علاقوں میں شدید ناخواندگی کے ساتھ مذہب کے ساتھ شعوری وابستگی کے بجائے جذباتی وابستگی بھی مستحکم ہے اس کلچر کی وجہ سے مذہب کے نام پر جان دینے اور جنت میں جانے کا رجحان مضبوط ہورہاہے۔
امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خاتمے کو اولین ترجیح کہا ہے۔ ٹرمپ کے پیشروؤں کے تجربات کے مطابق مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی پر جدید ہتھیاروں کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے نہ بھاری فوجی طاقت کے ذریعے۔ امریکا کے صدر اگر واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انھیں پسماندہ ملکوں میں شعبۂ تعلیم پر بھاری رقوم خرچ کرنا چاہیے اور تعلیم کو مفت اور لازمی بنانے کے حوالے سے پسماندہ ملکوں کی بھرپور مالی مدد کرنا چاہیے۔ یہی ایک ایسا مثبت طریقہ ہے جو آنے والی نسلوں کو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لعنت سے بچاسکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرب عضب کے ذریعے بے لگام خون آشام دہشت گردی کو لگام دی گئی اور اس عفریت پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا لیکن دہشت گرد طاقتیں جہاں انھیں موقع ملتا ہے اپنی کارروائی کر جاتی ہیں جس کو روکنا نہ ممکن ہے نہ آسان، سب سے پہلے دہشت گردی کی ایک بڑی تحریک یعنی فقہی اختلافات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہی میں نہیں بلکہ سارے عالم اسلام میں دہشت گردی کا ایک بڑا متحرک فقہی اختلافات ہیں۔ پارا چنار میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے 25 افراد میں سے 23 افراد کی نماز جنازہ مرکزی امام بارگاہ میں ادا کی گئی۔اس دھماکے کی ذمے داری ایک ایسی تنظیم نے قبول کی جو مخالف فرقے کے سخت خلاف ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھی فقہی اختلافات کار فرما ہیں۔ دہشت گردی کی حالیہ تاریخ میں فقہی اختلافات کا بڑا دخل رہا ہے۔
مسلم قوم کی یہ بد قسمتی ہے کہ مسلم ملک فقہوں کے حوالے سے نہ صرف تقسیم ہیں بلکہ ایک دوسرے سے برسر پیکار بھی ہیں۔ اس ستم ظریفی کو کیا نام دیں کہ بعض مسلم ملکوں کے حکمران اپنے اقتداری مفادات کی خاطر پسماندہ مسلم ملکوں کی مذہبی تنظیموں کو بھاری مالی امداد دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں جس کا منطقی نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ متحارب فقہوں سے تعلق رکھنے والی تنطیمیں طاقت ور بھی ہورہی ہیں اور دہشت گردی کا ارتکاب بھی کررہی ہیں۔
دنیا میں 57 مسلم ملک موجود ہیں اوران کی مختلف تنظیمیں بھی کام کررہی ہیں جن میں عرب لیگ اور او آئی سی سر فہرست ہیں۔ منطقی طور پر ان تنظیموں کا مقصد مسلم ملکوں اور مسلمانوں میں بھائی چارہ اور یکجہتی پیدا کرنا ہی ہوسکتا ہے لیکن کیا یہ تنظیمیں اپنی ذم داریاں ادا کررہی ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی ہی میں آتا ہے ور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مخصوص ملکوں کا حکمران طبقہ اپنے اقتداری مفادات کی خاطر اس تقسیم کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ اسے گہرا کرنا چاہتا ہے۔ بعض ملکوں میں تو فقہی تنظیموں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فقہی کشت و خون میں اضافہ ہوتا رہا۔
پسماندہ مسلم ملکوں میں ایسے رسم و رواج مضبوط ہیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی، فرقہ وارانہ منافرت میں اضافہ کررہے ہیں ان رسم و رواج اور روایات کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں لیکن سادہ لوح مسلمانوں کو ان روایات کو مذہب کا حصہ بناکر پیش کیا جاتا ہے اور سادہ لوح مسلمان فقہی تعصبات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بعض مسلم ملکوں میں فقہوں کے حوالے سے منافرت پھیلانے والوں کو اس قدر آزادی حاصل ہے کہ وہ عبادات کی جگہوں کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے لٹریچر کوگلی محلوں تک پہنچاکر فقہی دیوانگی میں اضافہ کرتے ہیں۔
چونکہ فرقہ وارانہ دہشت گردی مسلم ملکوں کا ناگزیر حصہ بن گئی ہے۔ اس لیے مسلم ملکوں کے اہل علم، اہل دانش، اہل قلم کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام میں اس حوالے سے بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کی رسائی گھر ،گھر تک ہوگئی ہے اگر میڈیا کے سرپرست بے سروپا پروگراموں میں سے کچھ وقت نکال کر مذہبی یکجہتی کے پروگراموں کو دیں اور مسلم قوم میں اتفاق اور یکجہتی پیدا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تو بلاشبہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ البتہ یہ ہے کہ بعض فقہوں کے سرپرست اپنی نئی نسلوں کی تربیت فقہی اختلافات پر کرتے ہیں جس کا نتیجہ فرقہ وارانہ منافرت میں اضافے کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس قسم کے بڑے اصلاحی کاموں میں وسائل کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے مسلم حکمرانوں کی یہ اخلاقی اور قومی ذمے داری ہے کہ وہ مذہبی یکجہتی پیدا کرنے والے پروگراموں کی مالی حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ بڑا کام کامیابی سے آگے بڑھ سکے۔
دیکھا یہ جارہا ہے کہ قبائلی علاقے خاص طور پر مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے شکار ہیں۔ قبائلی علاقوں میں شدید ناخواندگی کے ساتھ مذہب کے ساتھ شعوری وابستگی کے بجائے جذباتی وابستگی بھی مستحکم ہے اس کلچر کی وجہ سے مذہب کے نام پر جان دینے اور جنت میں جانے کا رجحان مضبوط ہورہاہے۔
امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خاتمے کو اولین ترجیح کہا ہے۔ ٹرمپ کے پیشروؤں کے تجربات کے مطابق مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی پر جدید ہتھیاروں کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے نہ بھاری فوجی طاقت کے ذریعے۔ امریکا کے صدر اگر واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انھیں پسماندہ ملکوں میں شعبۂ تعلیم پر بھاری رقوم خرچ کرنا چاہیے اور تعلیم کو مفت اور لازمی بنانے کے حوالے سے پسماندہ ملکوں کی بھرپور مالی مدد کرنا چاہیے۔ یہی ایک ایسا مثبت طریقہ ہے جو آنے والی نسلوں کو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لعنت سے بچاسکتا ہے۔