سوئی گیس کے کم پریشر کیخلاف خواتین کا نمائش چورنگی اور ایکسپریس وے پر دھرنا

غیر اعلانیہ گیس پریشر میں کمی پرآئندہ سوئی گیس کے دفتروں کے سامنے احتجاج کا انتباہ

مظاہرین نے بتایا کہ دوپہر3 بجے سوئی گیس کا پریشر کچھ بہتر ہوتا ہے اس کے بعد شام6بجے دوبارہ پریشر ختم ہوجاتا ہے. فوٹو: رائٹرز/ فائل

لائنز ایریا اور منظور کالونی میں سوئی گیس کے کم پریشر کے خلاف خواتین نے نمائش چورنگی اور ایکسپریس وے پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک معطل کرا دیا جس کے بعد بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق لائنز ایریا، محمود آباداور منظور کالونی میں سوئی گیس کے کم پریشر کے باعث خواتین کی بڑی تعداد نے نمائش چورنگی اور ایکسپریس وے پر بلوچ کالونی پل کے قریب احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک معطل کرا دیا ،خواتین نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر زنجیر بنائی اور نمائش چورنگی پر تبت سینٹر جانے والی سڑک اور ایکسپریس وے پر قیوم آباد جانے والی سڑک بلاک کردی۔

احتجاج کرنے والی خواتین نے نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت کو ناکام ترین حکومت قرار دیا ، مظاہرے میں شریک خواتین کی گودوں میں ان کے شیر خوار بچے اور خشک دودھ کے ڈبے تھے ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے صبح سے ہی سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع کردی جاتی ہے جس علاقے میں گیس ہوتی ہے وہاں پریشر اتنا کم ہوتا ہے کئی کئی گھنٹوں میں بھی ایک روٹی نہیں بنتی،سوئی گیس نہ ہونے کے باعث وہ بچوں کا دودھ گرم نہیں کرسکتیں جس سے ان کے بچے بھوک سے روتے رہتے ہیں جبکہ بچے صبح کا ناشتہ کرے بغیر اسکول جاتے ہیں۔




گھر کے مرد نہ صرف ناشتہ کرے بغیر اسکول جاتے ہیں بلکہ دوپہر کا کھانے کا ٹفن بھی نہیں لے جاتے ہیں ، مظاہرین نے بتایا کہ دوپہر3 بجے سوئی گیس کا پریشر کچھ بہتر ہوتا ہے اس کے بعد شام6بجے دوبارہ پریشر ختم ہوجاتا ہے ، گذشتہ کئی مہینوں سے روٹی اور سالن بازار سے لا رہے ہیں جس کی وجہ سے گھر کا بجٹ آؤٹ ہو گیا ہے ،متعدد بار متعلقہ سوئی گیس کے دفتروں میں شکایت کی تاہم ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

مظاہرے کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ آئندہ سوئی گیس کے دفتروں کے سامنے مظاہرے کریں گے، وہ احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں گی جب تک انہیں اس بات کی یقین دہانی نہ کرائی جائے کہ آئندہ سوئی گیس کا پریشر بغیر اعلان کے کم نہیں کیا جائے گا ، احتجاج کے باعث ایم اے جناح روڈ ، شاہراہ لیاقت ، اولڈ سٹی ایریا ، ایکسپریس وے ، قیوم آباد اور شارع فیصل پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا ، گاڑیوں کی لمبی لمی قطاریں لگ گئیں ۔
Load Next Story