سی این جی کی بندش پبلک ٹرانسپورٹ میں زائد کرایوں کی وصولی
منگل کو پبلک ٹرانسپورٹ کی اکثریت ا یندھن کی فراہمی نہ ہونے کے باعث آپریشنل نہ ہوسکی
پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث مسافروں کو بسوں کی چھتوں پر چڑھ کر منزل مقصود پر پہنچنا پڑا۔ فوٹو: ایکسپریس
کراچی میں منگل کو سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے باعث شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت رہی اور ٹرانسپورٹرزنے مسافروں سے زائد کرایے وصول کیے۔
تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کی ہدایت پر سی این جی اسٹیشنز منگل کی صبح 8بجے سے 72گھنٹوں کیلیے بند کردیے گئے جس کے باعث منگل کو شہر میں بس، منی بس اور کوچز قلیل تعداد دیکھنے میں آئیں، منگل کی صبح سے بس اسٹاپوں اور سڑکوں پر مسافروں کا اژدہام نظرآیا جو اپنے دفاتر وکاروباری مراکز جانے کیلیے بسوں کا انتظار کررہے تھے، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث مسافروں کو بسوں کی چھتوں پر چڑھ کر منزل مقصود پر پہنچنا پڑا۔
واضح رہے کہ 90 فیصد سے زائد پبلک ٹرانسپورٹ ڈیزل سسٹم سے سی این جی سسٹم میں تبدیل ہوچکی ہے،منگل کو پبلک ٹرانسپورٹ کی اکثریت ا یندھن کی فراہمی نہ ہونے کے باعث آپریشنل نہ ہوسکی، دستیاب گاڑیوں نے ایل پی جی سلنڈر خواتین کمپارٹمنٹ میں رکھ کر گاڑیاں چلائیں اور مسافروں سے زائد کرایے وصول کیے، رکشہ وٹیکسی مالکان نے بھی ایل پی جی سسٹم کے تحت گاڑیاں آپریشنل کٰیں اور مسافروں سے کئی گنا کرایہ وصول کیا۔
تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کی ہدایت پر سی این جی اسٹیشنز منگل کی صبح 8بجے سے 72گھنٹوں کیلیے بند کردیے گئے جس کے باعث منگل کو شہر میں بس، منی بس اور کوچز قلیل تعداد دیکھنے میں آئیں، منگل کی صبح سے بس اسٹاپوں اور سڑکوں پر مسافروں کا اژدہام نظرآیا جو اپنے دفاتر وکاروباری مراکز جانے کیلیے بسوں کا انتظار کررہے تھے، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث مسافروں کو بسوں کی چھتوں پر چڑھ کر منزل مقصود پر پہنچنا پڑا۔
واضح رہے کہ 90 فیصد سے زائد پبلک ٹرانسپورٹ ڈیزل سسٹم سے سی این جی سسٹم میں تبدیل ہوچکی ہے،منگل کو پبلک ٹرانسپورٹ کی اکثریت ا یندھن کی فراہمی نہ ہونے کے باعث آپریشنل نہ ہوسکی، دستیاب گاڑیوں نے ایل پی جی سلنڈر خواتین کمپارٹمنٹ میں رکھ کر گاڑیاں چلائیں اور مسافروں سے زائد کرایے وصول کیے، رکشہ وٹیکسی مالکان نے بھی ایل پی جی سسٹم کے تحت گاڑیاں آپریشنل کٰیں اور مسافروں سے کئی گنا کرایہ وصول کیا۔