اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر بلدیاتی بل میں ترامیم کا فیصلہ
بلدیاتی اداروں میں مختلف محکموں کے انضمام سمیت دیگر شقوں میں بھی ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے، ذرائع.
سیکریٹری بلدیات اور سیکریٹری قانون کو خصوصی ٹاسک دیدیا گیا، پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اراکین کے اجلاس میں سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا جائزہ لیا گیا. فوٹو: فائل
سندھ حکومت نے اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر ہی سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ بل 2012میں ترامیم کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس ضمن میں فنکشنل مسلم لیگ اور قوم پرست جماعتوں کے رہنمائوں کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر مشتمل ترامیم تیار کی جا رہی ہیں جبکہ سیکریٹری بلدیات لالا فضل الرحمن اور سیکریٹری قانون غلام نبی شاہ کو خصوصی ٹاسک دیدیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم کے حوالے سے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ ، وزیر بلدیات آغا سراج درانی ، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ، وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ ، وزیر قانون محمد ایاز سومرو کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
جبکہ سیکریٹری قانون اور سیکریٹری بلدیات کو ہدایت کی گئی ہے کہ میئر اور چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کے اختیارات کو کم کرنے، ٹاؤنز کے معاملات کا از سر نو جائزہ ، بلدیاتی اداروں میں مختلف محکموں کے انضمام، کراچی کے میئر کو حاصل اینٹی انکروچمنٹ سیل کے اختیارات ، سمیت دیگر شقوں میں ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے، ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اراکین کے اجلاس میں سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے عہدیداروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم ناگزیر ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس ضمن میں فنکشنل مسلم لیگ کے سربراہ پیر پگارا، اے این پی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید، نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی سمیت دیگر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیا گیا، ذرائع کے مطابق سیکریٹری قانون کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ بل کی مختلف شقوں میں ترامیم کی تیاری فوری طور پر مکمل کریں،ذرائع کے مطابق سیکریٹری قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے دو مختلف اقسام کے ڈرافٹ تیار کیے جائیں جس کے تحت آرڈیننس یا سندھ اسمبلی سے ترمیمی بل 2013 کی صورت میں تبدیلی لائی جاسکے۔
یاد رہے کہ اتحادی جماعتوں میں سے صرف متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) سے مشاورت کے بعد سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ کو پہلے آرڈیننس اور بعدازاں بل کی صورت میں منظور کرنے کے باعث سندھ حکومت کی دیگر اتحادی جماعتیں فنکشنل مسلم لیگ ، اے این پی اور این پی پی نے شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے،صدر آصف زرداری نے پارٹی رہنمائوں کو ہدایت کی ہے کہ درمیانی راستہ نکال کر تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات میں بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حصہ لیا جاسکے،ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ، وفاقی وزرائے سید خورشید شاہ ، مولا بخش چانڈیو ، صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن ، سید مراد علی شاہ ، سید علی نواز شاہ ، آغا سراج درانی کو دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
اس ضمن میں فنکشنل مسلم لیگ اور قوم پرست جماعتوں کے رہنمائوں کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر مشتمل ترامیم تیار کی جا رہی ہیں جبکہ سیکریٹری بلدیات لالا فضل الرحمن اور سیکریٹری قانون غلام نبی شاہ کو خصوصی ٹاسک دیدیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم کے حوالے سے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ ، وزیر بلدیات آغا سراج درانی ، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ، وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ ، وزیر قانون محمد ایاز سومرو کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
جبکہ سیکریٹری قانون اور سیکریٹری بلدیات کو ہدایت کی گئی ہے کہ میئر اور چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کے اختیارات کو کم کرنے، ٹاؤنز کے معاملات کا از سر نو جائزہ ، بلدیاتی اداروں میں مختلف محکموں کے انضمام، کراچی کے میئر کو حاصل اینٹی انکروچمنٹ سیل کے اختیارات ، سمیت دیگر شقوں میں ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے، ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اراکین کے اجلاس میں سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے عہدیداروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم ناگزیر ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس ضمن میں فنکشنل مسلم لیگ کے سربراہ پیر پگارا، اے این پی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید، نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی سمیت دیگر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیا گیا، ذرائع کے مطابق سیکریٹری قانون کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ بل کی مختلف شقوں میں ترامیم کی تیاری فوری طور پر مکمل کریں،ذرائع کے مطابق سیکریٹری قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے دو مختلف اقسام کے ڈرافٹ تیار کیے جائیں جس کے تحت آرڈیننس یا سندھ اسمبلی سے ترمیمی بل 2013 کی صورت میں تبدیلی لائی جاسکے۔
یاد رہے کہ اتحادی جماعتوں میں سے صرف متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) سے مشاورت کے بعد سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ کو پہلے آرڈیننس اور بعدازاں بل کی صورت میں منظور کرنے کے باعث سندھ حکومت کی دیگر اتحادی جماعتیں فنکشنل مسلم لیگ ، اے این پی اور این پی پی نے شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے،صدر آصف زرداری نے پارٹی رہنمائوں کو ہدایت کی ہے کہ درمیانی راستہ نکال کر تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات میں بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حصہ لیا جاسکے،ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ، وفاقی وزرائے سید خورشید شاہ ، مولا بخش چانڈیو ، صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن ، سید مراد علی شاہ ، سید علی نواز شاہ ، آغا سراج درانی کو دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔