عدالت نے حکم امتناع جاری کرکے پولیس اہلکاروں کا تقرر روک دیا

امتحان میں نمایاں نمبر حاصل کیے لیکن ناکام امیدوار اور سفارشی بھرتی ہوگئے،درخواست گزار.

سندھ ہائیکورٹ کا مدعا علیہان کو نوٹس،حتمی تقرری کو عدالتی فیصلے سے مشروط کردیا۔ فوٹو: فائل

محکمہ پولیس میں بھرتیوں کا عمل جاری رکھا جائے تاہم عدالت عالیہ کے فیصلے سے قبل امیدواروں کا حتمی تقرر نہ کیا جائے۔


پولیس کانسٹیبل گریڈ 5 کی اسامیوں پر تقرریوںکا معاملہ عدالت کے فیصلے سے مشروط ہوگا، یہ ہدایات سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے وسیم احمد سمیت22 درخواست گزاروں کی مشترکہ آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیں،درخواست گزاروں نے ہوم سیکریٹری سندھ،آئی جی پولیس سندھ،سی سی پی او ، ڈی آئی جی ایڈمن ،ایس پی پولیس ہیڈ کوارٹر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ درخواست گزار وسیم احمد نے امتحان میں84 نمبرز حاصل کیے جبکہ سب سے کم نمبر درخواست گزار ابراہیم کے63 تھے جوکہ پاسنگ نمبروں سے زیادہ تھے۔

اسکے باوجود درخواست گزاروں کو بھرتی نہیں کیاگیا بلکہ ناکام اور سفارشی غیر متعلقہ افراد کو تقررنامے جاری کردیے گئے اور نتائج کا اعلان بھی نہیں کیا گیا، بعدازاں 9 دسمبر کو دوبارہ پولیس کانسٹیبل کی اسامیوں کا اشتہار جاری کیا گیا،درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ مدعا علیہان کے اقدامات کو غیرقانونی وکالعدم قراردیاجائے، امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا جائے اور دوبارہ ہونیوالی بھرتیوں کا عمل روکا جائے ، فاضل بینچ نے مدعا علیہان کو18جنوری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ بھرتی کا عمل جاری رکھیں لیکن حتمی تقرری کا فیصلہ عدالتی فیصلے سے مشروط ہوگا۔
Load Next Story