ملک میں 60 فیصد امراض پانی کی وجہ سے ہوتے ہیں ماہرین آب
صنعتی انقلاب سے فطرت ختم ہورہی ہے،جاوید جبار،ماہرین آب تیار نہیں ہورہے،ڈاکٹر شاہد.
صنعتی انقلاب سے فطرت ختم ہورہی ہے،جاوید جبار، ماہرین آب تیار نہیں ہورہے،ڈاکٹر شاہد. فوٹو : فائل
پاکستان میں پانی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہے اور اگر اسٹیک ہولڈرز میں اعتماد کی کمی ہوگی تو آئندہ یہ مسائل مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار آبی ماہرین نے آئی یو سی این پاکستان کے تحت ''پاکستان واٹر پروگرام سندھ'' کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پانی ، زمین اور ڈرینج کے ممتاز ماہر ڈاکٹر شاہد احمد نے کہا کہ پانی کے شعبے میں متعدد این جی اوز کام کررہی ہیں لیکن پورے ملک میں کوئی ایسا وسیع فورم نہیںہے جہاں تمام اسٹیک ہولڈرز مشترکہ کام کرسکیں ، پاکستان میں60فیصد امراض پانی کی وجہ سے ہوتے ہیں،جب تک ہماری جامعات میں اس حوالے سے ماسٹرز اورپی ایچ ڈی کے ماہرین تیار نہیں کیے جائیں گے ہمیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملیںگی۔
انھوں نے اس امر پربھی افسوس کا اظہار کیا کہ پانی سے متعلق قومی پالیسی گزشتہ 6 سال سے منظوری کے مرحلے میں التوا کا شکار ہے، آئی یو سی این کے سابق نائب عالمی صدر جاوید جبار نے کہا کہ پاکستان میں شہروں کی جانب تبدیلی کا سفر جنوبی ایشیامیں سب سے تیز ہے ، یہ شرح بھارت سے بھی زیادہ ہے ،صنعتی انقلاب سے فطرت آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے،اب انسانیت اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں کسی بھی منفی عمل سے پوری دنیا کا مستقبل متاثر ہوسکتا ہے،محمود اخترچیمہ نے کہا کہ پانی کے ذرائع کی کمی اس وقت قومی ، علاقائی اور اہم عالمی مسئلہ ہے، پاکستان کے لیے پانی زندگی ،معیشت اور دیگر امور کے لیے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار آبی ماہرین نے آئی یو سی این پاکستان کے تحت ''پاکستان واٹر پروگرام سندھ'' کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پانی ، زمین اور ڈرینج کے ممتاز ماہر ڈاکٹر شاہد احمد نے کہا کہ پانی کے شعبے میں متعدد این جی اوز کام کررہی ہیں لیکن پورے ملک میں کوئی ایسا وسیع فورم نہیںہے جہاں تمام اسٹیک ہولڈرز مشترکہ کام کرسکیں ، پاکستان میں60فیصد امراض پانی کی وجہ سے ہوتے ہیں،جب تک ہماری جامعات میں اس حوالے سے ماسٹرز اورپی ایچ ڈی کے ماہرین تیار نہیں کیے جائیں گے ہمیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملیںگی۔
انھوں نے اس امر پربھی افسوس کا اظہار کیا کہ پانی سے متعلق قومی پالیسی گزشتہ 6 سال سے منظوری کے مرحلے میں التوا کا شکار ہے، آئی یو سی این کے سابق نائب عالمی صدر جاوید جبار نے کہا کہ پاکستان میں شہروں کی جانب تبدیلی کا سفر جنوبی ایشیامیں سب سے تیز ہے ، یہ شرح بھارت سے بھی زیادہ ہے ،صنعتی انقلاب سے فطرت آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے،اب انسانیت اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں کسی بھی منفی عمل سے پوری دنیا کا مستقبل متاثر ہوسکتا ہے،محمود اخترچیمہ نے کہا کہ پانی کے ذرائع کی کمی اس وقت قومی ، علاقائی اور اہم عالمی مسئلہ ہے، پاکستان کے لیے پانی زندگی ،معیشت اور دیگر امور کے لیے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔