نئی دہلی ریپ کیس خواتین میں خوف و ہراس اسلحہ لائسنسوں کیلیے درخواستیں

برطانوی وزیراعظم کی بھارت پر کڑی تنقید، اگرچہ واقعہ انتہائی خوفناک ہے تاہم سزائے موت اسکا جواب نہیں ہے، اقوام متحدہ

نئی دہلی: اجتماعی آبروریزی کا شکار ہونے والی طالبہ کی موت پر شرکا خاموش احتجاج میں شریک ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 23سالہ میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد خواتین کی بڑی تعداد نے اسلحہ لائسنس کیلیے درخواستیں جمع کرادیں۔

آئی این پی کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ اب تک300 سے زائد خواتین نے لائسنس کی درخواستیں دی ہیں ،1200 سے زائد خواتین نے اسلحے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلیے کالزکی ہیں ،ٹیلی فون کرنیوالی بیشترخواتین نوکری پیشہ اور طالبات ہیں۔منگل کوبھارتی میڈیاکی رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ متعدد طالبات کے والدین نے کہا کہ ہماری بیٹیاں دوردراز کالجز میں زیر تعلیم ہیں چونکہ اب دہلی میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی خواتین اور لڑکیوں کے لیے محفوظ نہیں لہٰذا ہماری بیٹیوں کوجلد اسلحہ فراہم کیاجائے۔

آن لائن کے مطابق بھارتی پولیس نے راوی داس کیمپ کے قریب سے37سالہ شخص گرفتارکرلیاجوطالبہ سے اجتماعی زیادتی اور قتل کے مقدمے کے ایک ملزم کے گھر کے قریب بم نصب کرنیکی کوشش کر رہا تھا۔ یہاں6 میں سے4 ملزمان رہتے ہیں۔ دیگر 2مزید ملزمان دہلی سے باہر سے آئے تھے۔ بعض ملزمان پر جیل میں مبینہ طور پرحملہ بھی ہوچکا ہے۔جمعرات کو زیادتی اور قتل کی فردجرم عائد ہونا ہے۔وزیرداخلہ سشیل کمار شندے کاکہنا ہے کہ ملزمان پرجرم ثابت ہوا توانہیں سزائے موت ہوسکتی ہے۔




آن لائن نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی پولیس نے کہا ہے کہ اجتماعی زیادتی کے بعد خودکشی کرنیوالی لڑکی کے مقدمے میں ملوث 5 ملزما ن پر فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے چھٹے ملزم کی عمر 18 سال سے کم ہونے کا شبہ ہے،عمر کی تصدیق کیلیے ملزم کی ہڈیوں کے ٹیسٹ کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔این این آئی کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون نے نئی دہلی میں مسافر بس میں زیادتی کا شکارہونیوالی طالبہ کی ہلاکت پر خودکو جمہوریت کا دعویدار کہنے والے ملک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی مائیں،بہنیں ،بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگومیں ان کا کہناتھا کہ پاکستان اوربھارت میں خواتین پر تشدداوراس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں جنہیں روکنے کے اقدامات انتہائی ناگزیرہوچکے ہیں۔آن لائن کے مطابق انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر ناوی پلے نے کہاکہ اگرچہ یہ واقعہ انتہائی خوفناک ہے تاہم سزائے موت اس کا جواب نہیں ہے۔ انھوں نے آبروریزی کے کلنک کے ٹیکے سے چھٹکارے میں بھارت کی مدد کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاہم انھوں نے اجتماعی آبروریزی کے اور قتل کے الزامات میں ملوث 6 افراد کو سزائے موت دینے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔
Load Next Story