کراچی بم دھماکے میں 4افراد جاں بحق 50زخمی ایم کیو ایم نے آج یوم سوگ کا اعلان کردیا

متحدہ کے جلسے کے شرکاواپس جارہے تھے کہ عائشہ منزل پرموٹرسائیکل میں نصب ڈھائی کلووزنی بم پھٹ گیا

کراچی: عائشہ منزل کے قریب ہونیوالے بم دھماکے کے بعد جائے وقوع پر سیکیورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

جناح گرائونڈعزیزآبادمیں متحدہ قومی موومنٹ کے جلسے کے اختتام پرعائشہ منزل کے قریب موٹرسائیکل میں نصب بم خوفناک دھماکے سے پھٹ گیاجس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 50زخمی ہوگئے۔

بم دھماکے کے بعدشہرمیںکشیدگی پھیل گئی،دکانیں وکاروباربندہوگیا،شارع پاکستان کوٹریفک کیلیے بندکردیا گیاجس کے باعث ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا،متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے دہشت گردی کے واقعے پرآج (بدھ کو)یوم سوگ منانے کااعلان کردیاہے،دھماکے کی آوازمیلوں دورتک سنائی دی گئی ،دھماکااس قدرشدیدتھاکہ جلسے میں آئی ہوئی نصف درجن سے زائدمنی بسوں وموٹرسائیکلوںکونقصان پہنچا۔تفصیلات کے مطابق عائشہ منزل فیڈرل بی ایریابلاک6پوائنٹ سی این جی اسٹیشن کے قریب سروس روڈپرکھڑی ہوئی موٹر سائیکل میں نصب بم شام7بجے خوفناک دھماکے سے پھٹ گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں اورنگی ٹاؤن سیکٹر کے یونٹ119کی منی بس نمبر PE-6591 شدیدمتاثر ہوئی ، دہشت گردوں کی جانب سے موٹرسائیکل میں نصب اس وقت پھٹ گیاجب جناح گراؤنڈ میں متحدہ قومی موومنٹ کے جلسہ عام میں شرکت کے بعد عہدیداراورکارکنان بڑی تعدادمیں واپس اپنے گھروںکوجانے کیلیے گاڑیوںکی جانب جارہے تھے،دھماکے کے بعدجائے وقوع پرزخمیوںکی چیخ وپکارسے کان پڑی آوازسنائی نہیں دے پارہی تھی۔دھماکے سے4افراد30سالہ طیب،27 سالہ ریحان اﷲ،22سالہ طالب حسین اور30سالہ محمدہاشم جاں بحق ہوگئے جبکہ50 افرادزخمی ہوئے،جاں بحق ہونے والاطیب اورنگی ٹاؤن یونٹ 119 کاکارکن اورسیکٹر ساڑھے گیارہ محمد مصطفیٰ کالونی رحمت چوک کارہائشی تھا وہ برتن بنانے والی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ریحان اﷲ سرجانی ٹاؤن کارہائشی غیر شادی شدہ اور جنریٹر مکینک تھا۔

طالب حسین کا آبائی تعلق لاڑکانہ سے تھا جبکہ وہ سول اسپتال کے قریب راجامینشن کا رہائشی تھاجبکہ جاں بحق ہونے والامحمدہاشم ناظم آباد کے علاقے گول مارکیٹ کا رہائشی تھا۔زخمی ہونے والے 50 افرادمیں خاتون اور2نو عمر لڑکے بھی شامل ہیں،دھماکے سے قریب ہی کھڑی ہوئی منی بس نمبرJF-0339 ، JE-6368 اور کوسٹر نمبر CP-4337 سمیت نصف درجن سے زائد گاڑیوں کونقصان پہنچا جبکہ دھماکے میں 3 موٹرسائیکلیں نمبر LA-4959 ، MEH-1837 اور KEX-2890 بھی تباہ ہوگئیں،دھماکے کے بعدمتحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان بڑی تعدادمیں جائے وقوع پرجمع ہوگئے اورزخمی ہونے والوں کو خدمت خلق فاؤنڈیشن ، ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتالوں کوروانہ کیاگیا۔

کارکنان نے جائے وقوعہ کوگھیرے میں لے کر کسی دوسرے بم دھماکے کے پیش نظر وہاں سے لوگوں کودور ہٹادیااس دوران پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی اور دھماکے میں تباہ ہونے والی موٹر سائیکل کے پارٹس جمع کر کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا۔ڈی آئی جی ویسٹ آصف اعجازشیخ نے میڈیاکوبتایا کہ سیکیورٹی کے سخت اقدامات تھے تاہم جلسے میں لوگوں کی بڑی تعدادآئی ہوئی تھی ہم سے جوکوشش ہو سکتی تھی وہ ہم نے پوری کی،بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوع کا معائنہ کرنے اور شواہد جمع کرنے کے بعدبتایا کہ موٹر سائیکل میں نصب بم ریموٹ کنٹرول اوراس میں 2 کلوہائی ایکسپلوزیو دھماکاخیز مواد کے علاوہ بال بیرنگ استعمال کیے گئے تھے،مذکورہ بم دھماکا عباس ٹاؤن بم دھماکے سے مماثلت رکھتاہے جبکہ اورنگی ٹاؤن سے ملنے والا بم اسی دھماکے کی کڑی ہوسکتاہے۔




بم ڈسپوزل ذرائع کاکہناہے کہ جائے وقوع سے ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کاسرکٹ ملا ہے جبکہ بم ڈھائی کلووزنی تھا،بم موٹرسائیکل کی سیٹ کے نیچے نصب کیاگیاتھاجبکہ مذکورہ بم چائناقونصل خانے کے قریب موٹرسائیکل میں نصب بم ناکارہ بنائے جانے والے بم سے مماثلت رکھتاہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں بال بیرنگ استعمال نہیں کیے گئے تھے۔زخمیوں کی عیادت کے لیے صوبائی وزیراورایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر صغیر احمدنے اسپتال پہنچے اس موقع پرانھوں نے کہا کہ جلسے میں شرکت کے بعدکارکنان کی بڑی تعداد اپنے گھروں کو جا رہی تھی کہ دہشت گردوں کی جانب سے موٹر سائیکل میں نصب بم خوفناک دھماکے سے پھٹ گیاجو کہ سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے ۔

اس موقع پر متحدہ کے رہنماواسع جلیل نے کہاکہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے ایم کیو یم نہ گھبرانے والی ہے اور نہ ہی ہم پیچھے ہٹیںگے،14 جنوری کے لانگ مارچ میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں گے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔بم دھماکے کے بعدشہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی جبکہ عائشہ منزل اور کریم آباد سے ملحقہ دکانیں وکاروباربندہوگیا، دھماکے کے بعدشارع پاکستان کریم آبادسے عائشہ منزل جانے والی سڑک کوٹریفک کے لیے بندکردیاگیاجس کے باعث لیاقت آباداورکریم آبادسمیت ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیااور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس میں مال برادر گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ایم کیوایم رابطہ کمیٹی نے دہشتگردی کے واقعے پربدھ کویوم سوگ منانے کااعلان کیاہے۔اس بات کافیصلہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیاگیا ۔

ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین نے فیصلے کی توثیق کردی۔رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق یوم سوگ کے سلسلے میں بدھ کوملک بھرمیںایم کیوایم کی تنظیمی وسیاسی سرگرمیاں معطل رہیں گی اوربم دھماکے کے شہیدوں کیلیے ایصال ثواب کیلیے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کی جائے گی۔رابطہ کمیٹی نے واضح کیاکہ یوم سوگ کے دوران ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں معطل نہیں ہوںگی اورکاروباراور دکانیں کھلی رہیں گی۔ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے سانحے میں شہیدہونے والوںکیلیے فی کس2لاکھ روپے دینے کااعلان کیا ہے اور رابطہ کمیٹی ، تنظیمی کمیٹی اور میڈیکل ایڈکمیٹی کوہدایت کی ہے کہ دھماکے کے زخمیوں کے علاج کیلیے بھرپورمالی معاونت کی جائے اور علاج میں کسی قسم کی کوئی کسرنہ چھوڑی جائے۔انھوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیاکہ سانحے کے شہیدوزخمی ہونے والے افرادکی بھرپورمالی معاونت کی جائے۔

رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بم دھماکے میں تباہ ہونے والی موٹر سائیکل کے قریب کھڑی ہوئی مشتبہ ہنڈا70موٹر سائیکل (رجسٹریشن نمبر LA-4959 )کوپولیس نے قبضے میں لے لیا،ڈی ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ عثمان اصغرنے بتایاکہ مذکورہ موٹر سائیکل کاانجن نمبر 2014328 اور چیسز نمبر 09568 ہے جسے چیک کرانے پرمعلوم ہواہے کہ مذکورہ موٹر سائیکل کسی کرائم میں نہیں ہے جبکہ اس بات کاشبہ ہے کہ موٹر سائیکل پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی،پولیس جائے وقوعہ سے لاوارث حالت میں ملنے والی موٹرسائیکل کے بارے میں مزیدتحقیقات کررہی ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story