اسٹیٹ لائف کو کرایے کی مد میں ہونے والی آمدنی میں مسلسل کمی
ادارے کی ملکیت کثیرالمنزلہ عمارتوں کاکرایہ آناکم ہوگیا،کالی بھیڑیں دیمک کی طرح چاٹنے لگیں
مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ حاصل کرنے کے بجائے عمارتوں کوجان بوجھ کرخالی رکھاجارہاہے فوٹو: فائل
BEIJING:
پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پراپرٹی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کے باوجوداسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کی ملکیت کثیرالمنزلہ عمارتوں ودیگراملاک سے کرایے کی مدمیں ہونے والی آمدنی مسلسل کم ہورہی ہے۔
ذرائع کا کہناہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس میں شامل کالی بھیڑیں ادارے کودیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں اور جان بوجھ کر اسٹیٹ لائف جیسے اہم قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا جارہاہے، انتہائی اہم کمرشل مقامات پرتعمیر شدہ اسٹیٹ لائف انشورنس کی عمارتوں کی تزئین و آرائش کرکے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ حاصل کرنے کے بجائے ان عمارتوں کو جان بوجھ کر خالی رکھا جارہا ہے۔
کراچی میں اسٹیٹ لائف انشورنس کی ملکیت عمارتیں انتہائی اہم کمرشل علاقوں میں قائم ہیں ان علاقوں میں نجی سرمایہ کار نئی عمارتیں اور پروجیکٹس تعمیر کررہے ہیں، معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی وجہ سے ان نجی عمارتوں میں ایک دفتر بھی دستیاب نہیں۔دوسری جانب اسٹیٹ لائف کی انتظامیہ کارپوریشن کی ملکیت عمارتوں کی کمرشل ویلیوازخودختم کررہی ہے جو قومی ادارے کے خلاف سنگین سازش ہے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ 2014-15میں اسٹیٹ لائف انشورنس کے مالی امور میں سنگین بے قاعدگیوں کے ساتھ اسٹیٹ لائف انشورنس کی ملکیت عمارتوں کے انتظام اور ان عمارتوں سے ہونے والی آمدنی میں بھی کروڑوں روپے مالیت کے بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیاہے۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیٹ لائف انشورنس کی املاک سے کرایے کی مدمیں ہونے والی آمدن 2012کے مقابلے میں 2014تک 8کروڑر روپے سالانہ کی کمی ہوچکی ہے، سال 2012میں اسٹیٹ لائف انشورنس کی عمارتوں سے 35 کروڑ 68لاکھ روپے کا کرایہ حاصل ہوا، یہ آمدن 2013میں کم ہوکر 30کروڑ 16لاکھ روپے جبکہ سال 2014میں مزید کم ہوکر 27کروڑ 58لاکھ روپے رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ لائف انشورنس کی انتظامیہ اربوں روپے مالیت کی 19عمارتوں کی دستاویزی ملکیت کا عمل 4دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی مکمل نہ کر سکی، یہ عمارتیں نیشنلائزیشن کے وقت انشورنس آرڈر1972 میں اسٹیٹ لائف کارپوریشن کا حصہ بنادی گئیں تاہم انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ان عمارتوں کی ٹائٹل ڈیڈ اب بھی کالعدم بیمہ کمپنیوں کے نام پر ہے۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کی انتظامیہ اور اعلیٰ افسران کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اسٹیٹ لائف کی عمارتیں بروقت کرایے پرنہیں اٹھائی جاتیں۔ اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کیا، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن بلڈنگ کراچی میں مختلف 13حصے جن کا مجموعی رقبہ 3لاکھ 21ہزار مربع فٹ سے زائد ہے کرایے پر نہیں دیے گئے جس سے کارپوریشن کو 16کروڑ 11لاکھ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی انتظامیہ اپنی عمارتوں کے کرایے، یوٹیلٹی چارجز، پارکنگ اور دیگر سہولتوں کے عوض ماہانہ و سالانہ آمدن وصول کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتی جس کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کی پراپرٹی خسارے میں چل رہی ہے۔
اسٹیٹ لائف کے2014میں کیے گئے آڈٹ میںانکشاف ہواکہ انتظامیہ نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرائے اور یوٹیلٹی چارجز کی مد میں 33کروڑ 35لاکھ روپے کی وصولیاں نہیں کیں، اس معاملے کی اطلاع انتظامیہ کو اکتوبر 2015میں ہوئی۔ اس ضمن میں فروری2016 کو ہونے والے اجلاس میں انتظامیہ نے کروڑوں روپے واجبات کی عدم وصولی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 33کروڑ میں سے اب بھی 21کروڑ 14لاکھ روپے کی وصولیاں باقی ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پراپرٹی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کے باوجوداسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کی ملکیت کثیرالمنزلہ عمارتوں ودیگراملاک سے کرایے کی مدمیں ہونے والی آمدنی مسلسل کم ہورہی ہے۔
ذرائع کا کہناہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس میں شامل کالی بھیڑیں ادارے کودیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں اور جان بوجھ کر اسٹیٹ لائف جیسے اہم قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا جارہاہے، انتہائی اہم کمرشل مقامات پرتعمیر شدہ اسٹیٹ لائف انشورنس کی عمارتوں کی تزئین و آرائش کرکے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ حاصل کرنے کے بجائے ان عمارتوں کو جان بوجھ کر خالی رکھا جارہا ہے۔
کراچی میں اسٹیٹ لائف انشورنس کی ملکیت عمارتیں انتہائی اہم کمرشل علاقوں میں قائم ہیں ان علاقوں میں نجی سرمایہ کار نئی عمارتیں اور پروجیکٹس تعمیر کررہے ہیں، معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی وجہ سے ان نجی عمارتوں میں ایک دفتر بھی دستیاب نہیں۔دوسری جانب اسٹیٹ لائف کی انتظامیہ کارپوریشن کی ملکیت عمارتوں کی کمرشل ویلیوازخودختم کررہی ہے جو قومی ادارے کے خلاف سنگین سازش ہے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ 2014-15میں اسٹیٹ لائف انشورنس کے مالی امور میں سنگین بے قاعدگیوں کے ساتھ اسٹیٹ لائف انشورنس کی ملکیت عمارتوں کے انتظام اور ان عمارتوں سے ہونے والی آمدنی میں بھی کروڑوں روپے مالیت کے بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیاہے۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیٹ لائف انشورنس کی املاک سے کرایے کی مدمیں ہونے والی آمدن 2012کے مقابلے میں 2014تک 8کروڑر روپے سالانہ کی کمی ہوچکی ہے، سال 2012میں اسٹیٹ لائف انشورنس کی عمارتوں سے 35 کروڑ 68لاکھ روپے کا کرایہ حاصل ہوا، یہ آمدن 2013میں کم ہوکر 30کروڑ 16لاکھ روپے جبکہ سال 2014میں مزید کم ہوکر 27کروڑ 58لاکھ روپے رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ لائف انشورنس کی انتظامیہ اربوں روپے مالیت کی 19عمارتوں کی دستاویزی ملکیت کا عمل 4دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی مکمل نہ کر سکی، یہ عمارتیں نیشنلائزیشن کے وقت انشورنس آرڈر1972 میں اسٹیٹ لائف کارپوریشن کا حصہ بنادی گئیں تاہم انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ان عمارتوں کی ٹائٹل ڈیڈ اب بھی کالعدم بیمہ کمپنیوں کے نام پر ہے۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کی انتظامیہ اور اعلیٰ افسران کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اسٹیٹ لائف کی عمارتیں بروقت کرایے پرنہیں اٹھائی جاتیں۔ اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کیا، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن بلڈنگ کراچی میں مختلف 13حصے جن کا مجموعی رقبہ 3لاکھ 21ہزار مربع فٹ سے زائد ہے کرایے پر نہیں دیے گئے جس سے کارپوریشن کو 16کروڑ 11لاکھ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی انتظامیہ اپنی عمارتوں کے کرایے، یوٹیلٹی چارجز، پارکنگ اور دیگر سہولتوں کے عوض ماہانہ و سالانہ آمدن وصول کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتی جس کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کی پراپرٹی خسارے میں چل رہی ہے۔
اسٹیٹ لائف کے2014میں کیے گئے آڈٹ میںانکشاف ہواکہ انتظامیہ نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرائے اور یوٹیلٹی چارجز کی مد میں 33کروڑ 35لاکھ روپے کی وصولیاں نہیں کیں، اس معاملے کی اطلاع انتظامیہ کو اکتوبر 2015میں ہوئی۔ اس ضمن میں فروری2016 کو ہونے والے اجلاس میں انتظامیہ نے کروڑوں روپے واجبات کی عدم وصولی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 33کروڑ میں سے اب بھی 21کروڑ 14لاکھ روپے کی وصولیاں باقی ہیں۔