انسانیت نامہ

قانون بناؤ اس کی زباں بندی کے لئے۔ ہر ایک کے جو دل میں آئے، کیسے کہہ سکتا ہے؟

ماردو! جلا دو! ہاں اِس کو، اُس کو اور اِن کو بھی۔ یہ والا نہیں وہ والا۔ گستاخی کی ہے، تمسخر اُڑایا ہے، مذہب کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں، اُن سب نے تذلیل کی ہے۔ انسانیت کی تذلیل کی ہے۔ فوٹو: فائل

رجعت پسندی: ماردو! جلا دو! گولی مار دو! ہاں اِس کو، اُس کو اور اِن کو بھی۔ یہ والا نہیں وہ والا۔ یہ والا مدد کرتا ہے اور چندہ دیتا ہے۔ گستاخی کی ہے، تمسخر اُڑایا ہے، مذہب کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں، اُن سب نے تذلیل کی ہے۔ انسانیت کی تذلیل کی ہے۔

انسانیت: ہیں! میری تذلیل؟ کس نے کی اور کیسے کی؟

رجعت پسندی: یہی جو آزادی والے ہیں۔ یہ کر رہے ہیں، ہم کو سب پتا ہے، ہم سب جانتے ہیں۔

انسانیت: اگر آپ سب جانتے ہیں تو کچھ مجھے بھی بتائیں اور سمجھائیں کہ آپ کا کام سمجھانا ہے۔

رجعت پسندی: مجھے میرا فرض نہ بتاؤ۔ تم کو گمراہ کیا جا رہا ہے، ایمان میں سوال نہیں ہوتا، تم اپنا ایمان پکا کرو۔ مار دو! جلا دو! ختم کردو!

انسانیت: میری تذلیل کرنے والوں کی نشاندہی تو کیجئے۔

رجعت پسندی: صدیوں سے بتا رہے ہیں لیکن افسوس تم کو سمجھ نہ آئی۔ تمہارے فائدے کی بات مگر تم کو سمجھ نہ آئی۔

انسانیت: اب نفع پہنچا دیں، دوبارہ بتا دیں۔

رجعت پسندی: اب راہِ حق پر لوٹی تم، مدرسہ کے لئے چندہ کا بندوبست کردینا۔ ویسے دین میں جان دینا بھی بڑا افضل ہے۔

انسانیت: یعنی انسانیت کو ہی مار دیا جائے؟ مروا دیا جائے؟

رجعت پسندی: ماردو! جلا دو! جان سے ماردو، یہ تذلیل ہے انسانیت کی۔

انسانیت: Help me please

رجعت پسندی: استغفراللہ! تم ملی ہوئی ہو اِن کے ساتھ۔

انسانیت: کس کے ساتھ؟ کچھ بتائیں تو۔

رجعت پسندی: میں نے استغفراللہ کہہ تو دیا۔ اب بھی کوئی حجت و دلیل باقی ہے؟

انسانیت: Oh my God!

آزادئ اظہار: یہ چیز ! That's more like it۔ میں تمہارے ساتھ ہوں، میں رہائی دلواؤں گی تمیں، بس الله کی جگہ God کہتی رہنا۔ یہ باز نہیں آتے، جاہل! پتھر کے زمانے کی سوچ والے، دنیا چاند پر پہنچ گئی یہ ابھی تک God کو الله کہتے ہیں۔

انسانیت: چاند پر کیا ہے؟

آزادئ اظہار: وہاں ناں بڑے خوبصورت اور جاذبِ نظر ''پتھر'' ہیں مگر ''گورے'' اُن کے صحرا کی طرح کالے نہیں۔ گورا تو اچھا ہوتا ہے چاہے قاتل ہی ہو۔

انسانیت: انسانوں کا قاتل؟

آزادئ اظہار: اوہ ہو! انسانوں کے قتلِ عام سے انسانیت کا کچھ نہیں بگڑتا، اگر کچھ ہو بھی جائے تو موم بتی جلا لیں گے۔ مگر وہ انسانیت کو ذلیل کرتے ہیں۔ بچاؤ! ہمارے ساتھ مل کر انسانیت بچاؤ! وہ ملے ہوئے ہیں۔

انسانیت: وہ کون؟


آزادئ اظہار: وہی جو قتل کی باتیں کرتے ہیں، وہی جو ہم کو بولنے نہیں دیتے، لکھنے نہیں دیتے۔

انسانیت: قلم آپ کے پاس ہے، نشر و اشاعت آپ کی محتاج اور جمہوریت آپ کی بدولت تو خاموش کیسے کراتے ہیں؟ اور کس سے ملے ہوئے ہیں؟

آزادئ اظہار: وہی جو اِس مملکت خداداد کے دعویدار ہیں۔

رجعت پسندی: ہا ہا ہا! وہ تو آپ سے ملے ہوئے ہیں۔ ہم کو مارا، ہمارے خاندان والوں کو مارا، مدارس پر بم پھوڑے اور اقرباء کو بھگایا۔ وہ تو حقیقتاً آپ کے ساتھی ہیں۔

انسانیت: مگر کون؟

آزادئ اظہار: تم کو نہیں معلوم؟ سب کو ہی معلوم ہے، آنکھیں بند نہ کریں، وہی جو اُن کو تحفظ دیتے ہیں۔

رجعت پسندی: بالکل غلط! دراصل، وہ آپ کو تحفظ دیتے ہیں۔

انسانیت: ماشاءاللہ! دونوں کو پالتے ہیں۔

رجعت پسندی: سبحان الله! دیکھی ہماری کرامت تم ہماری طرف واپس آگئی، عربی بول کر۔ اب ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ ماردو! جلادو! انسانیت کو بچاؤ!

انسانیت: مجھے کوئی بتائے گا کہ مجھے کیسے بچائیں گے اور کس سے بچائیں گے؟

آزادئ اظہار: آزادی سے، برابری سے، جو مرضی بولو، جیسے مرضی لکھو، جیسا من ہو ویسا تم کرو اور جو جی میں آئے وہ کہو۔

انسانیت: ملائیت کو بھی یہی حقوق ملیں گے؟

آزادئ اظہار: اوہ ہو! ذرا سوچئے!

انسانیت: کیا سوچوں؟

آزادئ اظہار: وہ تو جاہل ہے، اُس کو کچھ نہیں پتہ۔ اُس کا تو منہ بند ہونا چاہیئے، قانون بناؤ، اُس کی زباں بندی کے لئے۔ ہر ایک کے جو دل میں آئے، کیسے کہہ سکتا ہے؟ اِس طرح تو منافرت پھیلے گی، تشدد کو ہوا ملے گی اور عدم برداشت بڑھے گی۔

انسانیت: ہم تینوں اکٹھا نہیں ہوسکتے؟ ہم تو ہیں بھی مؤنث، آپ انسانیت پر اکٹھے ہوجائیں۔

رجعت پسندی: چار کی اجازت ہے، مجھ کو چار مؤنث کو اکٹھا کرنے کا اختیار ہے مگر ایک پر اکٹھے نہیں ہوسکتے۔

آزادئ اظہار: اکٹھا نہیں جدا، برابری پر الگ اور خود مختار۔

انسانیت: میں برابری کرلوں؟

آزادئ اظہار: ہاں جی ضرور مگر میری زبان بول کر، میری پوشاک پہن کر، میرے نظریات اپنا کر، اور موم بتی جلا کر۔ اگر ایسا نہیں تو انسانیت بھی جاہل ہے، اور جاہلوں کو برابری کا کوئی حق نہیں۔
انسانیت: ذرا سوچئے

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔

Load Next Story