کرکٹ میں شکست تنظیم نو کی ضرورت

آسڑیلیا میں کھیلی جانے والی پانچ میچز کی ون ڈے سیریز میں ایک اور شکست پاکستان کا مقدر بن گئی

KARACHI:
آسڑیلیا میں کھیلی جانے والی پانچ میچز کی ون ڈے سیریز میں ایک اور شکست پاکستان کا مقدر بن گئی۔ کینگروز نے آخری ون ڈے 57 رنز سے جیت کر سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی۔ آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 369 رنز کا ہدف دیا تھا لیکن گرین شرٹس 312 تک محدود رہی۔ بلاشبہ یہ ایک اچھا اسکور ہے لیکن ٹیم کی کارکردگی کا مجموعی تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کو تنظیم نو کی حد درجہ ضرورت ہے۔

کرکٹ بائی چانس کا فارمولا اپنی جگہ درست لیکن جس طرح مسلسل شکست پاکستانی ٹیم کی ساتھی بنی ہوئی ہے، اس تناظر میں صاف ظاہر ہے کہ خامی ہمارے اندر ہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک وقت میں دنیا کی نمبر ون کرکٹ ٹیم کا درجہ رکھنے والا ملک اس قدر تیزی سے زوال پذیر ہے؟ حالیہ شکست کے باوجود ون ڈے رینکنگ میں پاکستان اپنی آٹھویں پوزیشن بچانے میں کامیاب رہا لیکن ورلڈ کپ میں کوالیفائنگ راؤنڈز میں جانے کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ یہ عجب صورتحال ہے کہ پاکستانی ٹیم ہمیشہ مشکل اور ناموافق حالات میں ہمت ہار بیٹھتی ہے، لیکن کھلاڑیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر جگہ انھیں ''گھر'' جیسا ماحول نہیں مل سکتا۔


تسلیم کہ آسٹریلیا کرکٹ ٹیم بہت مشاق اور سپر فٹ ہے لیکن دوران میچ جس طرح کی فاش غلطیاں ہمارے کھلاڑیوں سے سرزد ہوتی ہیں وہ قابل قبول نہیں، ہمیشہ کی طرح ناقص فیلڈنگ پر کبھی توجہ نہیں دی جاتی، مذکورہ میچ میں بھی پاکستانی فیلڈرز کے ہاتھوں کیچ ڈراپ ہوتے رہے جس نے میزبان ٹیم کو ایک بڑا اسکور کرنے میں مہمیز فراہم کی۔ شکست کی جتنی ذمے داری کھلاڑیوں پر عائد ہوتی ہے، اتنا ہی قصور کوچز اور ٹیم سلیکٹرز کا بھی ہے۔ کتنے ہی باصلاحیت کھلاڑی ایک عرصے سے ٹیم سے باہر اپنی باری کے منتظر ہیں جب کہ 'ان فٹ' اور زیادہ عمر کے کھلاڑی ہر اہم میچ میں اپنی ناقص کارکردگی کے باوجود شامل ہوتے ہیں۔ ان اسباب کا جائزہ لینا ہوگا کہ کہیں کرکٹ کی یہ فیلڈ بھی 'سیاست' کی نذر تو نہیں ہورہی؟ نیز 20 کروڑ کی آبادی سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

بلاشبہ 'پاکستان سپر لیگ' کے ذریعے نیا ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے لیکن صائب ہوگا کہ پاکستان بھر کی کرکٹ اکیڈمیوں اور عام کھیل کے میدانوں میں ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی کاوشیں کی جائیں۔ حکومتی سطح پرٹیلنٹ ہنٹ کے پروگرام منعقد کیے جائیں اور ان لوگوں کو بھی مواقع فراہم کیے جائیں جن کی پہنچ کسی بڑے میڈیم تک نہیں ہوسکتی۔ کرکٹ ٹیم کی تنظیم نو اور صحیح معنوں میں تربیت کے بعد ہی پاکستان کرکٹ کے میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتا ہے۔
Load Next Story