مزار قائد کے قریب بلند عمارتوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات
مزار پر سیکیورٹی انتظامات تسلی بخش ہیں، نہال ہاشمی کی مزار قائد پر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
مزار پر سیکیورٹی انتظامات تسلی بخش ہیں، نہال ہاشمی کی مزار قائد پر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو۔ فوٹو: راشد اجمیری/فائل
KARACHI:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ کی ذیلی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی میں مزار قائد کے احاطے کے اطراف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر پرعائد پابندی کو نظر انداز کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
جمعہ کے دن سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ کی ذیلی کمیٹی کنوینر سینیٹر نہال ہاشمی نے مزار قائد پر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات بتائی کہ بلند عمارتوں کی تعمیر پر عائد پابندی کو نظر انداز کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر مزار قائد کے ریذیڈنٹ انجینئر محمد عارف نے اجلاس کو مزار قائد کی تزئین و آرائش، آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
اجلاس میں سینیٹر کریم احمد خواجہ،سینیٹر اشوک کمار، قائد اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی، میئر کراچی وسیم اختر، سیکریٹری نیشنل ہسٹری اینڈ لیٹریری ہریٹیج انجینئرعامر حسن، بورڈ کے ممبران اور سیکیورٹی اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
دوسری جانب سینیٹر نہال ہاشمی نے بتایا کہ قائد اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے ممبران کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے 3سال سے اس کا اجلاس نہیں بلا یا گیا جس کا وزیر اعظم محمد نواز شریف نے نوٹس لیا اور بورڈ کے ممبران مکمل کرنے کے بعد اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزار قائد سے ملحقہ اراضی پر عوام کی سیر و تفریح اور قائد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کیلیے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور اس کا پی سی 2 منظور ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض میڈیا چینل ریٹنگ بڑھانے کیلیے مزار قائد کے احاطے سے من گھڑت اور منفی پروگرام نشر کر رہے ہیں جس سے عوام کی دل آزاری ہوتی ہے۔
نہال ہاشمی نے بتایا کہ اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ کمیٹی سینیٹ میں شفارشات پیش کرے گی کہ مزار قائد کے احاطے میں سیاسی جماعتوں کے جلسے جلسوںاور ٹی وی چینلزکی طرف سے ریٹنگ بڑھانے کیلیے مزار سے منفی کوریج پر پابندی عائد کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ مزار قائد کے احاطے میں قانون کے مطابق ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بلند و بالاعمارتوں کی تعمیر پر پابندی ہے تاہم اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مزار قائد کی حرمت اور خوبصورتی کو بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ قائد اعظم کی زندگی ہم سب کیلیے رول ماڈل ہے،انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو صدیوں کے دوران بانی پاکستان محمد علی جناح سے بڑا لیڈر پیدا نہیں ہوا۔
سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ دنیا کا جغرافیہ بدل دیا اور ہم چاہتے ہیں، محمد علی جناح کی قربانیوں سے آئندہ نسل کو بھی روشناس ہونا چاہیے۔ نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارلمنٹ میں ہنگامہ آرائی کر رہی ہے انہیں کیس سپریم کورٹ میں لڑنا چاہیے نہ کہ ہنگامہ آرائی کی طرف جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا گورنر سندھ کی تعیناتی کیلیے مختلف نام زیر غور ہیں جلد اعلان کر دیا جائے گا، پی ٹی آئی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارلیمنٹ میںہنگامہ آرائی کر رہی ہے، گورنر سندھ کی تعیناتی جلد کر دی جائے گی تاہم مزار پر سیکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ کی ذیلی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی میں مزار قائد کے احاطے کے اطراف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر پرعائد پابندی کو نظر انداز کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
جمعہ کے دن سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ کی ذیلی کمیٹی کنوینر سینیٹر نہال ہاشمی نے مزار قائد پر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات بتائی کہ بلند عمارتوں کی تعمیر پر عائد پابندی کو نظر انداز کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر مزار قائد کے ریذیڈنٹ انجینئر محمد عارف نے اجلاس کو مزار قائد کی تزئین و آرائش، آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
اجلاس میں سینیٹر کریم احمد خواجہ،سینیٹر اشوک کمار، قائد اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی، میئر کراچی وسیم اختر، سیکریٹری نیشنل ہسٹری اینڈ لیٹریری ہریٹیج انجینئرعامر حسن، بورڈ کے ممبران اور سیکیورٹی اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
دوسری جانب سینیٹر نہال ہاشمی نے بتایا کہ قائد اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے ممبران کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے 3سال سے اس کا اجلاس نہیں بلا یا گیا جس کا وزیر اعظم محمد نواز شریف نے نوٹس لیا اور بورڈ کے ممبران مکمل کرنے کے بعد اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزار قائد سے ملحقہ اراضی پر عوام کی سیر و تفریح اور قائد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کیلیے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور اس کا پی سی 2 منظور ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض میڈیا چینل ریٹنگ بڑھانے کیلیے مزار قائد کے احاطے سے من گھڑت اور منفی پروگرام نشر کر رہے ہیں جس سے عوام کی دل آزاری ہوتی ہے۔
نہال ہاشمی نے بتایا کہ اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ کمیٹی سینیٹ میں شفارشات پیش کرے گی کہ مزار قائد کے احاطے میں سیاسی جماعتوں کے جلسے جلسوںاور ٹی وی چینلزکی طرف سے ریٹنگ بڑھانے کیلیے مزار سے منفی کوریج پر پابندی عائد کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ مزار قائد کے احاطے میں قانون کے مطابق ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بلند و بالاعمارتوں کی تعمیر پر پابندی ہے تاہم اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مزار قائد کی حرمت اور خوبصورتی کو بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ قائد اعظم کی زندگی ہم سب کیلیے رول ماڈل ہے،انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو صدیوں کے دوران بانی پاکستان محمد علی جناح سے بڑا لیڈر پیدا نہیں ہوا۔
سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ دنیا کا جغرافیہ بدل دیا اور ہم چاہتے ہیں، محمد علی جناح کی قربانیوں سے آئندہ نسل کو بھی روشناس ہونا چاہیے۔ نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارلمنٹ میں ہنگامہ آرائی کر رہی ہے انہیں کیس سپریم کورٹ میں لڑنا چاہیے نہ کہ ہنگامہ آرائی کی طرف جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا گورنر سندھ کی تعیناتی کیلیے مختلف نام زیر غور ہیں جلد اعلان کر دیا جائے گا، پی ٹی آئی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارلیمنٹ میںہنگامہ آرائی کر رہی ہے، گورنر سندھ کی تعیناتی جلد کر دی جائے گی تاہم مزار پر سیکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش ہیں۔