مردم شماری 2 لاکھ فوجی تعینات کرنے کی منظوری

آرمی چیف کا یہ فیصلہ مستحسن ہے جس کے بعد مردم شماری نہ ہونے سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی سدباب ہوسکے گا

۔ فوٹو: فائل

ملک میں 18 سال کے طویل تعطل کے بعد بالآخر مردم شماری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوتی نظر آ رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اب کسی بھی جانب سے عذر لنگ پیش کرکے مردم شماری مہم کو معطل نہیں کیا جاسکے گا۔ جن سیکیورٹی ایشوز کا بہانہ بنا کر اب تک حکومتیں مردم شماری کو موخر کراتی آرہی تھیں وہ بھی پاک فوج کے آرمی چیف نے رفع کردیا ہے، اس سلسلے میں شنید ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چھٹی مردم شماری میں مدد کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

آرمی چیف کا یہ فیصلہ مستحسن ہے جس کے بعد مردم شماری نہ ہونے سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی سدباب ہوسکے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فوج اب باقاعدہ طور پر ملک کی چھٹی مردم شماری کے لیے نگرانی میں شامل ہوگی جس کے لیے پاک فوج کے دو لاکھ جوان تعینات ہوں گے۔ پاک فوج مردم شماری میں دیگر اداروں کے افراد کے ساتھ تعاون کرے گی جب کہ فوج سیکیورٹی کی دوسری ذمے داریاں بھی ادا کرتی رہے گی۔

پاک فوج کثیر جہتی مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ملک و قوم کی بہتری کے لیے سرگرداں ہے۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن ضرب عضب جیسی عظیم مہم اور شہر قائد میں امن و امان کے قیام کے لیے''کراچی آپریشن'' جیسے اقدامات کے ساتھ سرحدوں پر ملک دشمن عناصر کی سرکوبی اور بھارتی چھیڑخانیوں کا راست جواب دینے کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

سابقہ جنرل راحیل شریف نے ملک و قوم کے استحکام کے لیے جن اقدامات کا آغاز کیا تھا نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نہ صرف اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ مزید جہات میں پیش قدمی کررہے ہیں۔ وفاقی حکومتیں ایک عرصے سے سیکیورٹی اور فوج کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر مردم شماری کو موخر کرتی آئی تھیں، حالانکہ چیف جسٹس کا استفسار منطقی تھا کہ اگر سیکیورٹی مسائل کے باوجود انتخابات ہوسکتے ہیں تو مردم شماری کیوں نہیں ہوسکتی، کہاں لکھا ہے مردم شماری کے لیے فوج کی نگرانی لازمی ہے۔ لیکن اب آرمی چیف نے دانشمندانہ فیصلہ لیتے ہوئے یہ قضیہ بھی نمٹا دیا ہے۔

یہ معاملہ خوش آئند ہے کہ مردم شماری جیسی اہم آئینی ذمے داری کو پورا کرنے کے لیے اب کسی قسم کا کوئی ابہام موجود نہیں ہے۔ آئین کے مطابق ہر دس سال بعد مردم شماری کا انعقاد لازم ہے کیونکہ آبادی سے متعلق صحیح اعداد و شمار کی روشنی میں ہی منصوبہ سازی میں مدد ملتی ہے۔


ارباب اختیار کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ گزشتہ 18 سال سے مردم شماری نہیں ہوئی جس کے باعث مسائل گنجلک ہوچکے ہیں، مگر حکومتی سطح پر 'سب ٹھیک ہے' کا ریکارڈ چل رہا ہے۔ جب کہ مردم شماری ملکی آبادی اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرائی جاتی ہے تاکہ قومی ترقی و خوشحالی کے اہداف سائنسی طریقہ کار کے تحت جمع شدہ ڈیٹا اور آبادی کے شفاف اعداد و شمار کے پیش نظر مکمل کیے جاسکیں، جب کہ مردم شماری کے انعقاد میں 18 سال کا طویل وقفہ حکمرانوں کے وژن کی ناپختگی اور سیاسی ارادہ کے فقدان کا پتہ دیتا ہے۔

یہ عجیب بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں مردم شماری سے اس لیے بھی گریزاں رہتی ہیں کہ کہیں اس سے ان کا ووٹ بینک نہ متاثر ہوجائے، اسی تناظر میں بعض مبصرین نے مردم شماری کے طول دینے کو کرپشن کے زمرے میں شمار کیا ہے۔ بظاہر مردم شماری کا انعقاد واضح دکھائی دے رہا ہے لیکن بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے تحفظات کو دور کیا جانا بھی ضروری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ایک خبر سامنے آئی تھی کہ 60 فیصد بلوچ شناختی کارڈز سے محروم ہیں، مردم شماری بلوچ قوم کو مزید محرومی سے دوچار کرے گی۔ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے بروقت نہ نمٹایا جاسکے۔

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں فوری شناختی کارڈز کی فراہمی کوئی عجب امر نہیں۔ جن علاقوں میں اب تک آبادی کے شناختی کارڈ نہیں بنائے گئے ہیں وہاں نادرا اپنے ایمرجنسی سینٹرز قائم کرکے یہ شکایت دور کرے۔ رہ گیا آئی ڈی پیز کی واپسی کا معاملہ تو اس سلسلے میں حکومت کو پہلے ہی جاگ جانا چاہیے تھا، اس سلسلے میں بھی صائب لائحہ عمل مرتب کیا جائے، جب تک آئی ڈی پیز اپنے علاقوں میں نہیں جارہے ان کا اندراج موجودہ رہائش پر رہتے ہوئے ہی ان کے آبائی علاقے میں ظاہر کرکے اعدادو شمار پر چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جاسکتا ہے۔

ادارہ شماریات مردم شماری و خانہ شماری کو مقرر کیے گئے وقت پر یقینی بنانے اور مردم شماری کی تیاری کے لیے تمام تر ضروری اقدامات جلد از جلد مکمل کرے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مردم شماری کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو مردم شماری کے عملے سے مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ بدانتظامی نے ملکی اداروں کو کمزور کیا ہے، تاہم مردم شماری ایک لازمی امر ہے، تمام صوبائی حکومتیں ٹاسک فورس بنا کر مردم شماری مہم کو طے شدہ مدت میں مکمل کرنے کی جانب اپنی توجہ مرکوز کریں۔

 
Load Next Story