انور مجید کے ملازمین بے گناہ قرار رینجرز نے پولیس رپورٹ چیلنج کردی
پولیس رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے، انسداد دہشت گردی عدالت میں رینجرزپراسیکیوٹرکے دلائل
اسلحہ کسی واردات میں استعمال نہیں ہوا، ملزمان کے خلاف شواہد نہیں ملے، پولیس کاموقف فوٹو؛ فائل
سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی اومنی گروپ کے انور مجید کے دفتر سے اسلحہ برآمدگی کیس کواے کلاس اور ملزمان کو بے گناہ قرار دیتے پر پولیس کی رپورٹ کو رینجرزحکام نے عدالت میں چیلنج کردیا۔
پولیس نے اومنی گروپ کے انور مجید کے دفتر سے اسلحہ برآمدگی کیس کو اے کلاس اور ملزمان کو بے گناہ قرار دینے سے متعلق اے کلاس کی رپورٹ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کی اورعدالت کو بتایا کہ انور مجید کی عمر 75سال ہے اوروہ دبئی میں مقیم ہیں، اومنی گروپ کے دفترسے ملنے والا اسلحہ کسی بھی واردات میں استعمال نہیں ہوا تاہم برآمد ہونے والے اسلحہ کی ایف ایس ایل بھی کرائی گئی ہے جب کہ حراست میں لیے گئے ملزمان کے خلاف کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے۔ ادھر پولیس نے مقدمے کی اے کلاس رپورٹ کو منظورکرنے کی استدعا کی۔
دوسری جانب رینجرز حکام کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے عدالت میں مقدمے کی اے کلاس کی رپورٹ کی شدید مخالفت کی اور اپنے دلائل میں عدالت کوبتایا کہ پولیس کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے، پولیس نے درست تفتیش نہیں کی تاہم عدالت نے رینجرز کے دلائل سننے کے بعد تفتیشی افسر و دیگر کو 18 فروری کو طلب کرلیا ہے۔
پولیس نے اومنی گروپ کے انور مجید کے دفتر سے اسلحہ برآمدگی کیس کو اے کلاس اور ملزمان کو بے گناہ قرار دینے سے متعلق اے کلاس کی رپورٹ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کی اورعدالت کو بتایا کہ انور مجید کی عمر 75سال ہے اوروہ دبئی میں مقیم ہیں، اومنی گروپ کے دفترسے ملنے والا اسلحہ کسی بھی واردات میں استعمال نہیں ہوا تاہم برآمد ہونے والے اسلحہ کی ایف ایس ایل بھی کرائی گئی ہے جب کہ حراست میں لیے گئے ملزمان کے خلاف کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے۔ ادھر پولیس نے مقدمے کی اے کلاس رپورٹ کو منظورکرنے کی استدعا کی۔
دوسری جانب رینجرز حکام کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے عدالت میں مقدمے کی اے کلاس کی رپورٹ کی شدید مخالفت کی اور اپنے دلائل میں عدالت کوبتایا کہ پولیس کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے، پولیس نے درست تفتیش نہیں کی تاہم عدالت نے رینجرز کے دلائل سننے کے بعد تفتیشی افسر و دیگر کو 18 فروری کو طلب کرلیا ہے۔