کراچی میں خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین ناپید

ماہرین اطفال سمیت نجی اسپتالوںکی انتظامیہ نے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سے خسرہ سے بچائوکی ویکسین مانگ لی

حفاظتی ویکسین حاصل کرنے کے لیے ای پی آئی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر مظہر خمیسانی، کراچی میں خسرہ سے بچائو کی مہم5 سے20جنوری تک جاری رہے گی۔ فوٹو: فائل

کراچی میں خسرہ سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین ناپید ہوگئی جبکہ ادویات کی مارکیٹ میں بچوں میں خسرہ، روبیلاوائرس اورممزکی کمبائن ویکسین کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے بعد متعدد ماہرین اطفال سمیت دیگر نجی اسپتالوں کی انتظامیہ نے بچوںکے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سے خسرہ سے بچاؤکی ویکسین مانگ لی۔

ادھر ماہرین طب کا کہنا ہے کہ سردیوں میں خسرہ کاوائرس شدت سے پھیلتا ہے،کراچی میں بھی بچے خسرہ کے مرض میں رپورٹ ہورہے ہیں، بچوںکوتیسرا حفاظتی ٹیکہ لگوانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ بچے خسرے کی وبا سے مزید محفوظ ہوجاتے ہیں، تفصیلات کے مطابق کراچی کی ادویات کی مارکیٹ میں بچوں میں خسرہ کے مرض سے بچائوکی حفاظتی ویکسین کی قلت پیداہوگئی ماہرین اطفال کے مطابق خسرہ سے بچاؤکی ویکسین کافی عرصے سے ناپید ہے لیکن متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں نے خسرہ ،ممزاور روبیلا وائرس(ایم ایم آر) سے بچائوکی کمبائن ویکسین متعارف کرائی تھی مگر یہ ویکسین بھی ناپید ہوگئی ہے۔

اس سے قبل خسرہ سے بچاؤکی حفاظتی ویکسین سنگل ڈوز میں لگائی جاتی تھی جواب بندکردی گئی ہے لیکن سنگل ڈوز ویکسین صرف بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کے قومی پروگرام میں دستیاب ہے جو مختلف سرکاری اسپتالوں میں بچوں کو لگائی جارہی ہے، پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر اقبال میمن کے مطابق خسرہ کامرض سرد موسم میں شدت سے پھیلتا ہے اس سے بچاؤ کا پہلاحفاظتی ٹیکہ9ماہ جبکہ دوسرا ٹیکہ 18ماہ تک لگوایاجاسکتا ہے لیکن دوسرا ٹیکہ 10سال کے بچوں کو بھی لگایاجا سکتا ہے، دریں اثنا ای پی آئی کے پروگرام ڈاکٹر مظہر خمیسانی نے ماہرین اطفال سے کہا ہے کہ خسرہ سے بچائو کی حفاظتی ویکیسن حاصل کرنے کیلیے ای پی آئی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


 



واضح رہے کہ کراچی میں سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال ناگن چورنگی میں بچوں کو بدھ سے خسرہ سے بچائو کے ٹیکے لگانا شروع کردیے گئے ہیں جبکہ کراچی میں اس بیماری سے بچائو کی مہم 5جنوری سے شروع کی جائے گی جو کہ20 جنوری تک جاری رہے گی،عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کے شہری علاقوں میں صرف 65 فیصد حفاظتی ٹیکوں کے کورس کرائے جاتے ہیں جن کو بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میںیہ شرح 80 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ صوبے میں یونین کونسل کی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے مراکز بڑھائے جائیں تاکہ بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکا جاسکے،دوسری جانب وزیر صحت سندھ ڈاکٹر صغیر احمد کا کہنا ہے کہ رواں سال خسرہ سے سات ہزار سے زائد بچے متاثر ہوئے جبکہ صرف نومبر اور دسمبر کے مہینے میں ڈھائی ہزار سے زائد بچے خسرہ سے متاثر ہوئے ہیں۔
Load Next Story