ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے غیرقانونی ہائیڈرنٹس کا نوٹس لے لیا
واٹربورڈ سے ضروری دستاویزات مانگ لی، رپورٹ کی تیاری شروع کردی
واٹربورڈ سے ضروری دستاویزات مانگ لی، رپورٹ کی تیاری شروع کردی۔ فوٹو: فائل
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں ٹینڈرنگ کے عمل کے بغیر ہائیڈرنٹس چلانے اور اس مد میں ہونیوالے کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس سلسلے میں واٹربورڈ کو ضروری دستاویزات فراہم کرنے کو کہا ہے جبکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اس سلسلے میں اپنی ایک رپورٹ کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی انتظامیہ کو ایک خط موصول ہوا ہے جس میں واٹربورڈ کے ایم ڈی مصباح الدین فرید کو متوجہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹرانسپرنسی انڑنیشنل کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ واٹربورڈ ٹینڈرنگ اور قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر شہر میں واٹرہائیڈرنٹس چلارہا ہے، ادارے کی انتظامیہ کا یہ عمل خلاف ضابطہ ہے جس کو قانون کے دائرے میں لانا ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ واٹربورڈ کے تحت سرکاری طور پر شہر میں 20ہائیڈرنٹس کام کررہے ہیں واٹربورڈ کی انتظامیہ نے ''کمال ہمت'' کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ہائیڈرنٹس کو بغیر کسی ٹینڈرنگ کے چلارہا ہے جس سے واٹربورڈ کو کروڑوں روپے ماہانہ کا نقصان ہورہا ہے تاہم واٹربورڈ کے کرپٹ افسران کو ان غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ''ثمرات'' مکمل طور پر حاصل ہورہے ہیں جس کے باعث واٹربورڈ کی انتظامیہ چاہتی ہی نہیں ہے کہ ٹینڈرنگ کی جائے، اگر ان ہائیڈرنٹس کو ٹینڈرنگ کرکے چلایا جائے تو ادارے کو کم سے کم پانچ کروڑ وںروپے ماہانہ حاصل ہوسکتے ہیں جو کہ سالانہ 60کروڑ روپے بنتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو ان ہائیڈرنٹس سے ادارے کو کروڑ روپے ماہانہ کا نقصان ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف ہائیڈرنٹس مافیا کے باعث کراچی کے شہری پانی کے مصنوعی بحران کا شکار ہیں، افسوس اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں پانی کا بحران ہوتا ہے انھی علاقوں میں قائم ہائیڈرنٹس سے ٹینکروں کے ذریعے پانی مہنگے داموں فروخت ہورہا ہوتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ ان ہائیڈرنٹس پر مانیٹرنگ کا بھی کوئی نظام موجود نہیںجس کے باعث ہائیڈرنٹس مافیا کو کھلی چھوٹ حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے کراچی کے شہریوں کو لوٹے اور کراچی کے شہریوں کا پرسان حال نہیں۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی انتظامیہ کو ایک خط موصول ہوا ہے جس میں واٹربورڈ کے ایم ڈی مصباح الدین فرید کو متوجہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹرانسپرنسی انڑنیشنل کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ واٹربورڈ ٹینڈرنگ اور قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر شہر میں واٹرہائیڈرنٹس چلارہا ہے، ادارے کی انتظامیہ کا یہ عمل خلاف ضابطہ ہے جس کو قانون کے دائرے میں لانا ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ واٹربورڈ کے تحت سرکاری طور پر شہر میں 20ہائیڈرنٹس کام کررہے ہیں واٹربورڈ کی انتظامیہ نے ''کمال ہمت'' کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ہائیڈرنٹس کو بغیر کسی ٹینڈرنگ کے چلارہا ہے جس سے واٹربورڈ کو کروڑوں روپے ماہانہ کا نقصان ہورہا ہے تاہم واٹربورڈ کے کرپٹ افسران کو ان غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ''ثمرات'' مکمل طور پر حاصل ہورہے ہیں جس کے باعث واٹربورڈ کی انتظامیہ چاہتی ہی نہیں ہے کہ ٹینڈرنگ کی جائے، اگر ان ہائیڈرنٹس کو ٹینڈرنگ کرکے چلایا جائے تو ادارے کو کم سے کم پانچ کروڑ وںروپے ماہانہ حاصل ہوسکتے ہیں جو کہ سالانہ 60کروڑ روپے بنتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو ان ہائیڈرنٹس سے ادارے کو کروڑ روپے ماہانہ کا نقصان ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف ہائیڈرنٹس مافیا کے باعث کراچی کے شہری پانی کے مصنوعی بحران کا شکار ہیں، افسوس اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں پانی کا بحران ہوتا ہے انھی علاقوں میں قائم ہائیڈرنٹس سے ٹینکروں کے ذریعے پانی مہنگے داموں فروخت ہورہا ہوتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ ان ہائیڈرنٹس پر مانیٹرنگ کا بھی کوئی نظام موجود نہیںجس کے باعث ہائیڈرنٹس مافیا کو کھلی چھوٹ حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے کراچی کے شہریوں کو لوٹے اور کراچی کے شہریوں کا پرسان حال نہیں۔