شہدائے کربلا کا چہلم آج عقیدت و احترام سے منایا جائیگا
مرکزی جلوس حسینہ ایرانیان امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا
مرکزی جلوس حسینہ ایرانیان امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا،مختلف تنظیموں کے تحت پانی و شربت کی سبیلیں بھی لگائی جائیں گی فوٹو: اے ایف پی، فائل
حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کا چہلم آج(جمعرات) مذہبی عقیدت واحترام سے منایا جائے گا۔
شہر کے مختلف مقامات پر مجالس عزا منعقد ہوں گی، مرکزی مجلس نشترپارک میں صبح 10 بجے منعقد ہوگی جس سے ممتاز عالم دین علامہ طالب جوہری خطاب کریں گے بعد ختم مجلس نشترپارک سے علم و ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوگا جس کی قیادت بوتراب اسکائوٹس کریں گے، مرکزی جلوس کے شرکا نماز ظہرین ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ادا کریں گے، مرکزی جلوس حسینہ ایرانیان امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا، غازی اسکائوٹس، العباس اسکائوٹس اور بوتراب اسکائوٹس کے تحت نشترپارک اور اس کے اطراف استقبالیہ و طبی کیمپ لگائے جائیں گے۔
مختلف تنظیموں کے تحت پانی و شربت کی سبیلیں بھی لگائی جائیں گی، انتظامیہ نے چہلم امام حسین پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور شہر کے تمام حساس مقامات خصوصا مساجد و امام بارگاہوں کے اطراف اور جلوس کو جانے والے راستوں پر رینجرز و پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی، جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی، تحریک حسینیہ پاکستان کے مولانا اکرام حسین ترمذی، مرکزی تنظیم عزا کے سیکریٹری جنرل سلمان مجتبیٰ نقوی نے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چہلم امام حسینؓ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں۔
علاوہ ازیں حضرت امام حسین ؓ کے چہلم کے موقع پر (آج) جمعرات کو مرکزی جلوس کی سیکورٹی کے لیے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے،محکمہ داخلہ سندھ کے سیکورٹی پلان کے مطابق مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے لیے10ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ایم اے جناح روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بدھ کی شب12بجے کردیا گیا جبکہ جلوس کے داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے بند کردیا گیا ہے،جلوس کے راستوں میں آنے والی تمام مارکیٹوں اور دکانوں کو بھی پولیس نے رات گئے سیل کردیا۔
جلوس کے راستوں میں آنے والی رہائشی عمارتوں میں رہائش پذیر مکینوں کے کوائف بھی جمع کیے گئے ہیں اور ان مکینوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ جمعرات کو اپنے گھروں میں اہل خانہ کے علاوہ کسی رشتے دار کو نہ ٹھہرائیں جبکہ جلوس کی روانگی کے وقت بالکونیاں اور کھڑکیاں بند رکھیں، مرکزی جلوس میں شرکا کے داخلے کے لیے گرو مندر پر6داخلی راستے بنائیں گئے ہیں جہاں واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں اور جلوس میں شامل ہونے والے افراد کی جامہ تلاشی کے علاوہ دھماکا خیز مادے کی نشاندہی کرنے والے آلات سے تلاشی لی جائے گی۔
جلوس کے راستوں میں آنے والی اہم عمارتوں ہر100شارپ شوٹرز تعینات کیے جائیں گے، جلوس کی فضائی نگرانی دو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کی جائے گی اور ان ہیلی کاپٹرز سے فلم بندی بھی کی جائے گی،جلوس کے شرکا اور راستوں کی مانیٹرنگ کے لیے700سی سی ٹی وے کیمروں کی مدد سے پولیس اور کے ایم سی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے نگرانی کی جائے گی۔
شہر کے مختلف مقامات پر مجالس عزا منعقد ہوں گی، مرکزی مجلس نشترپارک میں صبح 10 بجے منعقد ہوگی جس سے ممتاز عالم دین علامہ طالب جوہری خطاب کریں گے بعد ختم مجلس نشترپارک سے علم و ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوگا جس کی قیادت بوتراب اسکائوٹس کریں گے، مرکزی جلوس کے شرکا نماز ظہرین ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ادا کریں گے، مرکزی جلوس حسینہ ایرانیان امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا، غازی اسکائوٹس، العباس اسکائوٹس اور بوتراب اسکائوٹس کے تحت نشترپارک اور اس کے اطراف استقبالیہ و طبی کیمپ لگائے جائیں گے۔
مختلف تنظیموں کے تحت پانی و شربت کی سبیلیں بھی لگائی جائیں گی، انتظامیہ نے چہلم امام حسین پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور شہر کے تمام حساس مقامات خصوصا مساجد و امام بارگاہوں کے اطراف اور جلوس کو جانے والے راستوں پر رینجرز و پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی، جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی، تحریک حسینیہ پاکستان کے مولانا اکرام حسین ترمذی، مرکزی تنظیم عزا کے سیکریٹری جنرل سلمان مجتبیٰ نقوی نے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چہلم امام حسینؓ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں۔
علاوہ ازیں حضرت امام حسین ؓ کے چہلم کے موقع پر (آج) جمعرات کو مرکزی جلوس کی سیکورٹی کے لیے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے،محکمہ داخلہ سندھ کے سیکورٹی پلان کے مطابق مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے لیے10ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ایم اے جناح روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بدھ کی شب12بجے کردیا گیا جبکہ جلوس کے داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے بند کردیا گیا ہے،جلوس کے راستوں میں آنے والی تمام مارکیٹوں اور دکانوں کو بھی پولیس نے رات گئے سیل کردیا۔
جلوس کے راستوں میں آنے والی رہائشی عمارتوں میں رہائش پذیر مکینوں کے کوائف بھی جمع کیے گئے ہیں اور ان مکینوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ جمعرات کو اپنے گھروں میں اہل خانہ کے علاوہ کسی رشتے دار کو نہ ٹھہرائیں جبکہ جلوس کی روانگی کے وقت بالکونیاں اور کھڑکیاں بند رکھیں، مرکزی جلوس میں شرکا کے داخلے کے لیے گرو مندر پر6داخلی راستے بنائیں گئے ہیں جہاں واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں اور جلوس میں شامل ہونے والے افراد کی جامہ تلاشی کے علاوہ دھماکا خیز مادے کی نشاندہی کرنے والے آلات سے تلاشی لی جائے گی۔
جلوس کے راستوں میں آنے والی اہم عمارتوں ہر100شارپ شوٹرز تعینات کیے جائیں گے، جلوس کی فضائی نگرانی دو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کی جائے گی اور ان ہیلی کاپٹرز سے فلم بندی بھی کی جائے گی،جلوس کے شرکا اور راستوں کی مانیٹرنگ کے لیے700سی سی ٹی وے کیمروں کی مدد سے پولیس اور کے ایم سی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے نگرانی کی جائے گی۔