کینیڈا کا سانحہ‘ ٹرمپ ازم کا شاخسانہ
کینیڈا کے شہر کیوبیک کی مسجد میں3مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے6 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
کینیڈا کے شہر کیوبیک کی مسجد میں3مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے6 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ فوٹو فائل
کینیڈا کے شہر کیوبیک کی مسجد میں3مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے6 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ اس وقت کی گئی جب مسجد میں نماز عشا ادا کی جا رہی تھی ۔ حملے کے وقت مسجد میں 62 افراد موجود تھے ،5 شدید زخمی ہیں ،12کو معمولی زخم آئے ، 39 نمازی حملہ کے دوران بچ نکلے ، گزشتہ سال جون میں بھی کیوبک کی اسی مسجد کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے اندر خنزیر کا سر پھینکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ماسک پہنے ہوئے تھے ۔
حملے کے محرکات اور نوعیت اگرچہ کیوبک کے صوبائی حالات کے تناظر میں مقامی دہشتگردی کی واردات جیسی ہے تاہم اسے امریکی سیاسی صورتحال کے فال آؤٹ اور صدر ٹرمپ کے جارحانہ ، مسلم مخالف بیانیے اور سفاکانہ اقدامات کا شاخسانہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ امریکی صدارت کے عہدہ پر براجمان ہوتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابتدائی اقدامات سے نہ صرف امریکی انتظامیہ میں داخلی بھونچال آیا ہے بلکہ پورا یورپ،ایشیا ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں شدید اضطراب اور احتجاجی صدائیں بلند ہورہی ہیں، مسلم دنیا ششدر رہ گئی ہے جب کہ امریکی میڈیا اور نو منتخب صدر میں ٹھن گئی ہے ۔کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مسجد پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی قراردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ''ہم مسلمانوں کے خلاف اس دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہں جو عبادت گاہ اور پناہ کے مرکز پر کیا گیا۔ ادھر نیم خودمختار فرانسیسی بولنے والے علاقے کیوبیک کے وزیراعظم فلپ کوئیلاغ نے بھی پریس بریفنگ میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، یہ ملک آپ کا گھرہے اور ہم سب کیوبیک کے شہری ہیں۔
یاد رہے کینیڈا نے ٹرمپ کے تارکین وطن کے نکالے اور ان کی امریکا میں داخلہ کے حوالے سے جن اقدامات کا اعلان کیا اسے کینیڈین وزیراعظم ٹروڈو نے بھی ناپسند کیا ، تاہم مغرب کے لیے دہشتگردی کے اس واقعے کو سیاق وسباق کی توسیع سے دیکھنا لازم ہے، ایک طرف کینیڈا کی مسجد میں دہشگردانہ واردات ہوئی، اسلام دشمن طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور دلآزاری پر مبنی آزادی اظہار و صحافت کے ذریعے عالم اسلام کو رنجیدہ کیا گیا ، پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی اور اس پر سینہ زوری بھی کی گئی، چنانچہ آج مغرب میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات انسانیت کے لیے چیلنج بن گئے ہیں اور صرف کینیڈا ہی نہیں بلکہ عالمی تہذیب دہشتگردی سے نمٹنے کے پروسیس میں ایک تکلیف دہ نئے سیکیورٹی بحران سے دوچار ہوگئی ہے اور حالیہ دہشت گردی ٹرمپ ازم کے خلاف عالمی احتجاجی لہر کے آئینہ میں غیر معمولی توجہ کی مستحق ہے۔
جس سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔کینیڈا ایک پر امن ، انسان دوست اور وسیع المشرب سماجی و سیاسی رواداری کا مرقع ہے، ہزاروں پاکستانی خاندان کینیڈا کی روادارانہ سیاسی ، سماجی و معاشی پالیسیوں کے طفیل امور حکومت میں شراکت دار ہیں۔ لیکن دہشتگردی کے تازہ واقعات اور احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے بنیادی مسئلے کے سارے راستے ٹرمپ ازم اور امریکی انتظامیہ کے دھواں دھار فیصلوں اور جارحانہ اقدامات کے رد عمل سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی طرف جاتے ہیں۔
میئر لندن صادق خان نے کہا کہ ٹرمپ کا حکمنامہ سفاک ہے، او آئی سی نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلے سے دہشتگردی کا پرچار کرنے والوں کی شوکت میں اضافہ ہوگا، یورپی یونین کی ترجمان نے کہا کہ اپنے شہریوں سے کوئی امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے۔ عراقی حکومت نے کہا کہ ٹرمپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ، یمن نے کہا ہے کہ امیگریشن پابندیوں کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے سے انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہی بات وزیر داخلہ چوہدری نثار نے عمران خان کی جانب سے پاکستانیوںکوامریکا کاویزا نہ دینے کے بیان پرکہا ہے کہ ویزا دینے یا نہ دینے کا معاملہ نہیں، امریکا کے اسلام دشمن اقدامات سے دہشت گردوں کوفائدہ پہنچے گا، دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے علاوہ ، عالمی تنظیموں ،کارپوریٹ اداروں ، عالمی کاروباری مراکز ، ملٹی نیشنل کمپنیوں ، سرکردہ ڈیموکریٹ اور ریبپلکن ارکان کانگریس نے بھی ٹرمپ کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے ۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر باب کروکرجو ٹرمپ کے حامی رہے ہیں انھوں نے بھی ٹرمپ کے حکمنامے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'صدارتی حکم بڑے خراب طریقے سے نافذ کیا گیا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ صدارتی حکم نامے کے خلاف مختلف امریکی شہروں اور ایئرپورٹس پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، صدر ٹرمپ نے اپنے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں داخلے پر پابندیوں کا ہدف مسلمان نہیں، میڈیا میرے فیصلوں کو غلط رنگ دے رہا ہے،جب کہ بات یہاں تک محدود نہیں ۔ ٹرمپ کو ہمہ گیر یو ٹرن ہی بچا سکتا ہے۔
حملے کے محرکات اور نوعیت اگرچہ کیوبک کے صوبائی حالات کے تناظر میں مقامی دہشتگردی کی واردات جیسی ہے تاہم اسے امریکی سیاسی صورتحال کے فال آؤٹ اور صدر ٹرمپ کے جارحانہ ، مسلم مخالف بیانیے اور سفاکانہ اقدامات کا شاخسانہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ امریکی صدارت کے عہدہ پر براجمان ہوتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابتدائی اقدامات سے نہ صرف امریکی انتظامیہ میں داخلی بھونچال آیا ہے بلکہ پورا یورپ،ایشیا ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں شدید اضطراب اور احتجاجی صدائیں بلند ہورہی ہیں، مسلم دنیا ششدر رہ گئی ہے جب کہ امریکی میڈیا اور نو منتخب صدر میں ٹھن گئی ہے ۔کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مسجد پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی قراردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ''ہم مسلمانوں کے خلاف اس دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہں جو عبادت گاہ اور پناہ کے مرکز پر کیا گیا۔ ادھر نیم خودمختار فرانسیسی بولنے والے علاقے کیوبیک کے وزیراعظم فلپ کوئیلاغ نے بھی پریس بریفنگ میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، یہ ملک آپ کا گھرہے اور ہم سب کیوبیک کے شہری ہیں۔
یاد رہے کینیڈا نے ٹرمپ کے تارکین وطن کے نکالے اور ان کی امریکا میں داخلہ کے حوالے سے جن اقدامات کا اعلان کیا اسے کینیڈین وزیراعظم ٹروڈو نے بھی ناپسند کیا ، تاہم مغرب کے لیے دہشتگردی کے اس واقعے کو سیاق وسباق کی توسیع سے دیکھنا لازم ہے، ایک طرف کینیڈا کی مسجد میں دہشگردانہ واردات ہوئی، اسلام دشمن طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور دلآزاری پر مبنی آزادی اظہار و صحافت کے ذریعے عالم اسلام کو رنجیدہ کیا گیا ، پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی اور اس پر سینہ زوری بھی کی گئی، چنانچہ آج مغرب میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات انسانیت کے لیے چیلنج بن گئے ہیں اور صرف کینیڈا ہی نہیں بلکہ عالمی تہذیب دہشتگردی سے نمٹنے کے پروسیس میں ایک تکلیف دہ نئے سیکیورٹی بحران سے دوچار ہوگئی ہے اور حالیہ دہشت گردی ٹرمپ ازم کے خلاف عالمی احتجاجی لہر کے آئینہ میں غیر معمولی توجہ کی مستحق ہے۔
جس سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔کینیڈا ایک پر امن ، انسان دوست اور وسیع المشرب سماجی و سیاسی رواداری کا مرقع ہے، ہزاروں پاکستانی خاندان کینیڈا کی روادارانہ سیاسی ، سماجی و معاشی پالیسیوں کے طفیل امور حکومت میں شراکت دار ہیں۔ لیکن دہشتگردی کے تازہ واقعات اور احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے بنیادی مسئلے کے سارے راستے ٹرمپ ازم اور امریکی انتظامیہ کے دھواں دھار فیصلوں اور جارحانہ اقدامات کے رد عمل سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی طرف جاتے ہیں۔
میئر لندن صادق خان نے کہا کہ ٹرمپ کا حکمنامہ سفاک ہے، او آئی سی نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلے سے دہشتگردی کا پرچار کرنے والوں کی شوکت میں اضافہ ہوگا، یورپی یونین کی ترجمان نے کہا کہ اپنے شہریوں سے کوئی امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے۔ عراقی حکومت نے کہا کہ ٹرمپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ، یمن نے کہا ہے کہ امیگریشن پابندیوں کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے سے انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہی بات وزیر داخلہ چوہدری نثار نے عمران خان کی جانب سے پاکستانیوںکوامریکا کاویزا نہ دینے کے بیان پرکہا ہے کہ ویزا دینے یا نہ دینے کا معاملہ نہیں، امریکا کے اسلام دشمن اقدامات سے دہشت گردوں کوفائدہ پہنچے گا، دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
واقعہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے علاوہ ، عالمی تنظیموں ،کارپوریٹ اداروں ، عالمی کاروباری مراکز ، ملٹی نیشنل کمپنیوں ، سرکردہ ڈیموکریٹ اور ریبپلکن ارکان کانگریس نے بھی ٹرمپ کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے ۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر باب کروکرجو ٹرمپ کے حامی رہے ہیں انھوں نے بھی ٹرمپ کے حکمنامے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'صدارتی حکم بڑے خراب طریقے سے نافذ کیا گیا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ صدارتی حکم نامے کے خلاف مختلف امریکی شہروں اور ایئرپورٹس پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، صدر ٹرمپ نے اپنے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں داخلے پر پابندیوں کا ہدف مسلمان نہیں، میڈیا میرے فیصلوں کو غلط رنگ دے رہا ہے،جب کہ بات یہاں تک محدود نہیں ۔ ٹرمپ کو ہمہ گیر یو ٹرن ہی بچا سکتا ہے۔