حافظ سعید کی نظر بندی

پاکستان کو بھارت نے ہمیشہ دہشت گرد ریاست قرر دلوانے کی ناکام کوششیں متعدد بار کی ہیں۔

پاکستان کو بھارت نے ہمیشہ دہشت گرد ریاست قرر دلوانے کی ناکام کوششیں متعدد بار کی ہیں ۔ فوٹو فائل

پاکستان نے دہشتگردی کے حوالے سے ایک طویل جدوجہد اورلازوال قربانیوں کی داستان رقم کی ہے، فرنٹ لائن اسٹیٹ اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے متعدد آپریشن ملک بھر میں کیے ، لیکن اس کے باوجود عالمی سپرپاور طاقتیں ڈومورکا مطالبہ دہراتی رہتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض تنظیمیں دہشتگردی میں ملوث ہیں اوران کے رہنما آزادانہ نقل وحمل ملک بھر میں کرتی ہیں جب کہ ان رہنماؤں کے مقدمات پاکستانی عدالتوں میں زیرسماعت بھی رہے ہیں اور انھیں ملکی قوانین کی روشنی میں ریلیف بھی ملا ہے، لیکن پاکستان کو بھارت نے ہمیشہ دہشت گرد ریاست قرر دلوانے کی ناکام کوششیں متعدد بار کی ہیں اور اب بھی وہ باز نہیں آرہا۔ گزشتہ روزاچانک جماعۃ الدعوۃ کے امیرپروفیسرحافظ محمد سعیدکو چارساتھیوں سمیت چھ ماہ کے لیے نظر بندکردیا ۔


وزارت داخلہ نے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو واچ لسٹ اور سکینڈ شیڈول میں شامل کردیا ہے،وزیرِداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد قراردی جانے والی تنظیم جماعۃ الدعوۃ کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اقدامات کیے جارہے ہیں، یہ جماعت 2010-11 سے زیرِنگرانی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی لسٹڈ ہے، لسٹنگ کے بعد کسی بھی ریاست کوکچھ اقدام کرنا ہوتے ہیں اور وہ نہیں ہوپائے تھے تاہم اب کچھ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ جب کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونیوالے حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قراردیا تھا۔وفاقی وزیرداخلہ کا یہ کہنا کہ ریاست کوکچھ اقدام کرنے تھے وہ نہیں ہوپائے ۔

یہ ہماری حکومتوں کا تغافل ہے کہ جب پانی سراونچا ہوجاتا ہے تو انھیں ہوش آتا ہے جب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ جب اقوام متحدہ ایک تنظیم کو دہشتگرد قرار دے کر پاکستان سے پابندی کا مطالبہ کرچکی تھی تو اس وقت اگر اقدامات کرلیے جاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ سفارتی سطح پر سفارت کاری ہماری صفر ہے، ساٹھ ہزار سے قیمتی انسانی جانیں اورعوام کی محبوب لیڈر بینظیر سمیت متعدد سیاسی وعسکری قیادت کی قربانیاں ایک طرف اور دہشتگرد قرار دی جانے والی تنظیم سے رعایت برتنے کا بھاری الزام ایک طرف ۔یہ تضاد جگ ہنسائی کا سبب بنا ہے۔آخرکب تک ہماری حکومتیں اپنے فرائض سے غفلت برتتی رہیں گی؟ یہ چلن تو نہیں اقوام عالم میں اپنا مقام بنانے کے۔حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنے کردار کو اقوام عالم کے سامنے نمایاں کرے اور یہ بتایا جائے کہ یہ خطہ دہشتگردوں کے لیے جنت نہیں جہنم ہے۔
Load Next Story