گوجرانوالہ ینگ ڈاکٹرز کا سینئرز پر تشدد ہڑتال بھی کردی
ایم ایس سول اسپتال کے دفتر اور صحافیوں پر بھی حملہ کیا، ہڑتال کے باعث ایک مریض چل بسا
ایم ایس سول اسپتال کے دفتر اور صحافیوں پر بھی حملہ کیا، ہڑتال کے باعث ایک مریض چل بسا فوٹو فائل
PARIS:
ینگ ڈاکٹرز نے گوجرانوالہ میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال کے ایم ایس کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور سینئر ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
بعد ازاں پولیس نے توڑپھوڑ کرنیوالے ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا جس پر وائے ڈی اے نے پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں کے آئوٹ ڈورز میں ہڑتال کردی۔ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث سیکڑوں مریض آؤٹ ڈورزمیں اور بعد ازاں رات ان ڈور میں ہڑتال کے باعث ذلیل و خوار ہوتے رہے، اس موقع پرتکلیف میں مبتلا مریض اور انکے لواحقین ڈاکٹروں کو بددعائیں دیتے رہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہڑتالی ڈاکٹرز کو فی الفور نوکریوں سے فارغ کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کو ایم ایس سول ہسپتال گوجرانوالہ ڈاکٹر انور امان اور سینئر ڈاکٹر محمد اشفاق نے تھانہ سول لائن میں ینگ ڈاکٹرز کے صدر ڈاکٹر کاشف بلال، ڈاکٹر احتشام اور ڈاکٹر ذوہیب سمیت 20 ڈاکٹرز کیخلاف دفتر میں توڑ پھوڑ اور تشدد کا مقدمہ درج کروایا تھا، اس رنجش پر ینگ ڈاکٹرز نے منصوبہ بناکر گزشتہ روز سول اسپتال کے ایم ایس آفس پر دھاوا بول دیا اور ایم ایس ڈاکٹر انور امان کو کرسی سے اٹھا کر پٹخ ڈالا جبکہ سینئر ڈاکٹر سہیل بٹ، سابق سیکریٹری پی ایم اے ڈاکٹر مبشر راٹھور، ڈاکٹر سرفراز کھوکھر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کرکے ینگ ڈاکٹرز کے صدر کاشف بلال، احتشام، زوہیب، کاشف بشیر، وسیم اور طارق کو گرفتار کر لیا۔
ینگ ڈاکٹرز کی گرفتاری کے بعد وائی ڈی اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر جاوید آہیر اسپتال پہنچے اور حکم دیا کہ جب تک گرفتار ڈاکٹروں کو رہا نہیں کیا جاتا وہ یہیں پر رہیں گے اور اگر رہا نہ کیا گیا تو پنجاب میں ان ڈور، آئوٹ ڈور سروسزبند کر دیں گے اس دوران جب میڈیا کی طرف سے ڈاکٹروں کے رویئے کے بارے میں صدر وائی ڈی اے پنجاب سے پوچھا گیا تو ینگ ڈاکٹرز نے جواب دینے کے بجائے صحافیوں پر حملہ کر دیا جس سے ایکسپریس نیوز کے رپورٹر ڈاکٹر شہزاد اکرم سمیت 17 صحافی زخمی ہو گئے۔
دریں اثنا ینگ ڈاکٹروں نے صحافیوں پر حملہ کے دوران جب تشدد کا نشانہ بنایا تو جواب میں صحافیوں نے جب احتجاج کیا تو ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے فائرنگ اور پتھرائو کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق تھانہ سول لائن میں تین الگ الگ مقدمات قائم کردیئے گئے، جن میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر سمیت 45 ڈاکٹرز کوایف آئی آر میں نامزد کیا گیا۔ دوسری طرف گوجرانوالہ میں ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے حملہ کیخلاف 100 کے قریب سینئر ڈاکٹرز نے صدر پی ایم اے تحسین مظہر شیخ کی قیادت میں یوم سیاہ منایا۔
ینگ ڈاکٹرز نے گوجرانوالہ میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال کے ایم ایس کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور سینئر ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
بعد ازاں پولیس نے توڑپھوڑ کرنیوالے ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا جس پر وائے ڈی اے نے پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں کے آئوٹ ڈورز میں ہڑتال کردی۔ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث سیکڑوں مریض آؤٹ ڈورزمیں اور بعد ازاں رات ان ڈور میں ہڑتال کے باعث ذلیل و خوار ہوتے رہے، اس موقع پرتکلیف میں مبتلا مریض اور انکے لواحقین ڈاکٹروں کو بددعائیں دیتے رہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہڑتالی ڈاکٹرز کو فی الفور نوکریوں سے فارغ کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کو ایم ایس سول ہسپتال گوجرانوالہ ڈاکٹر انور امان اور سینئر ڈاکٹر محمد اشفاق نے تھانہ سول لائن میں ینگ ڈاکٹرز کے صدر ڈاکٹر کاشف بلال، ڈاکٹر احتشام اور ڈاکٹر ذوہیب سمیت 20 ڈاکٹرز کیخلاف دفتر میں توڑ پھوڑ اور تشدد کا مقدمہ درج کروایا تھا، اس رنجش پر ینگ ڈاکٹرز نے منصوبہ بناکر گزشتہ روز سول اسپتال کے ایم ایس آفس پر دھاوا بول دیا اور ایم ایس ڈاکٹر انور امان کو کرسی سے اٹھا کر پٹخ ڈالا جبکہ سینئر ڈاکٹر سہیل بٹ، سابق سیکریٹری پی ایم اے ڈاکٹر مبشر راٹھور، ڈاکٹر سرفراز کھوکھر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کرکے ینگ ڈاکٹرز کے صدر کاشف بلال، احتشام، زوہیب، کاشف بشیر، وسیم اور طارق کو گرفتار کر لیا۔
ینگ ڈاکٹرز کی گرفتاری کے بعد وائی ڈی اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر جاوید آہیر اسپتال پہنچے اور حکم دیا کہ جب تک گرفتار ڈاکٹروں کو رہا نہیں کیا جاتا وہ یہیں پر رہیں گے اور اگر رہا نہ کیا گیا تو پنجاب میں ان ڈور، آئوٹ ڈور سروسزبند کر دیں گے اس دوران جب میڈیا کی طرف سے ڈاکٹروں کے رویئے کے بارے میں صدر وائی ڈی اے پنجاب سے پوچھا گیا تو ینگ ڈاکٹرز نے جواب دینے کے بجائے صحافیوں پر حملہ کر دیا جس سے ایکسپریس نیوز کے رپورٹر ڈاکٹر شہزاد اکرم سمیت 17 صحافی زخمی ہو گئے۔
دریں اثنا ینگ ڈاکٹروں نے صحافیوں پر حملہ کے دوران جب تشدد کا نشانہ بنایا تو جواب میں صحافیوں نے جب احتجاج کیا تو ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے فائرنگ اور پتھرائو کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق تھانہ سول لائن میں تین الگ الگ مقدمات قائم کردیئے گئے، جن میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر سمیت 45 ڈاکٹرز کوایف آئی آر میں نامزد کیا گیا۔ دوسری طرف گوجرانوالہ میں ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے حملہ کیخلاف 100 کے قریب سینئر ڈاکٹرز نے صدر پی ایم اے تحسین مظہر شیخ کی قیادت میں یوم سیاہ منایا۔