رینٹل پاور کیس جس کیخلاف کارروائی کیلیے کہا اسے وزیراعظم بنا دیا گیا چیف جسٹس
وزرا سمیت ذمے داروںکیخلاف کارروائی کاکہاتھا مگرکوئی ٹس سے مس نہیںہوا،مانا کہ یہ بااثرلوگ ہیں لیکن نظام کوچلنے دیں
حال یہ ہے کہ چیئرمین نیب کوبھی عملدرآمدکرانے کیلیے توہین عدالت کانوٹس دینا پڑتا ہے،نظرثانی کی پٹیشنز پرریمارکس. فوٹو: فائل
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رینٹل پاورمنصوبوں سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی ہے کہ سپریم کورٹ نے جس شخص کو ملک کے خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا انہیں وزیر اعظم بنا دیاگیا۔
چیف جسٹس نے کہا رینٹل پاورکیس عدالت کے احکام پر عمل نہ کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک شخص کے بارے میںکہا کہ ان کیخلاف کارروائی کی جائے لیکن انھیں ملک کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ رینٹل پاورکیس میں عدالت نے کمپنیوںکو ایڈوانس کی رقم کی ادائیگی پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کیلیے کہا تھا ذمہ داران میں وزراء بھی شامل تھے لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نیپرا کے وکیل پرویز احسن کی جنرل ایڈجرمنٹ کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ التوا کی درخواستوں پر بادل ناخواستہ سماعت ملتوی کرنا پڑتا ہے لیکن کیس ملتوی ہونے پر عدالت کو مورود الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا ملک میں بہت بااثر لوگ موجود ہیں لیکن خدا کے واسطے نظام کو چلنے دیا جائے ۔عدالت نے نندی پور اورچیچوکی ملیاں پاور پراجیکٹس کیس کی سماعت بھی بابر اعوان کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کر دی گئی۔آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں بھی ہمارے فیصلے پرعمل نہیں ہورہا، کتنے وزیروں کیخلاف فائنڈنگز آئیں مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا، مانا کہ یہ بااثرلوگ ہیں لیکن نظام کوچلنے دیں،حال یہ ہے کہ چیئرمین نیب کوبھی حکم پر عمل درآمدکرانے کیلیے توہین عدالت کا نوٹس دینا پڑتا ہے۔عدالت نے مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی۔
چیف جسٹس نے کہا رینٹل پاورکیس عدالت کے احکام پر عمل نہ کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک شخص کے بارے میںکہا کہ ان کیخلاف کارروائی کی جائے لیکن انھیں ملک کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ رینٹل پاورکیس میں عدالت نے کمپنیوںکو ایڈوانس کی رقم کی ادائیگی پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کیلیے کہا تھا ذمہ داران میں وزراء بھی شامل تھے لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نیپرا کے وکیل پرویز احسن کی جنرل ایڈجرمنٹ کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ التوا کی درخواستوں پر بادل ناخواستہ سماعت ملتوی کرنا پڑتا ہے لیکن کیس ملتوی ہونے پر عدالت کو مورود الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا ملک میں بہت بااثر لوگ موجود ہیں لیکن خدا کے واسطے نظام کو چلنے دیا جائے ۔عدالت نے نندی پور اورچیچوکی ملیاں پاور پراجیکٹس کیس کی سماعت بھی بابر اعوان کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کر دی گئی۔آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں بھی ہمارے فیصلے پرعمل نہیں ہورہا، کتنے وزیروں کیخلاف فائنڈنگز آئیں مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا، مانا کہ یہ بااثرلوگ ہیں لیکن نظام کوچلنے دیں،حال یہ ہے کہ چیئرمین نیب کوبھی حکم پر عمل درآمدکرانے کیلیے توہین عدالت کا نوٹس دینا پڑتا ہے۔عدالت نے مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی۔