شاہ رخ نے میرے بچے کو ناحق مارا چھوڑینگے نہیں

میرے بیٹے نے شاہ زیب کو قتل نہیں کیا، آسٹریلیا واپس جا چکا ، سکندر جتوئی

میرے بیٹے نے شاہ زیب کو قتل نہیں کیا، آسٹریلیا واپس جا چکا ، سکندر جتوئی۔ فوٹو: فائل

کراچی میں قتل ہونے والے شاہ زیب خان کے والد اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ شاہ رخ جتوئی نے میرے بچے کو ناحق مارا۔

شاہ زیب نے ایسا کیا کیا تھا کہ اس کو قتل کرنے کی ٹھان لی۔ انھوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بڑی بہن کے ولیمے سے فارغ ہو کر شاہ زیب اپنی چھوٹی بہن کو فلیٹ کے دروازے پر چھوڑ کر بلڈنگ سے نیچے اترا ہی تھا تو سامنے والے فلیٹ میں رہنے والے تالپور لڑکوں کے نوکر نے میری بیٹی سے پوچھا کہ اس کو کون فلیٹ میں چھوڑ کر گیا ہے۔ بیٹی نے اس کو بتایا کہ میرا بھائی مجھے چھوڑ کر گیا ہے۔

اس کے بعد بیٹی نے مجھے اور شاہ زیب کو ساری بات بتائی۔ شاہ زیب نے نوکر کو ڈانٹا اور اس کو ایک ہاتھ بھی جڑ دیا۔ اتنی دیر میں میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ میں نے بیٹے سے کہا کہ وہ نوکر سے معافی مانگے ۔شاہ زیب کے معافی مانگنے سے معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ تاہم شاہ رخ نے کہا کہ مجھے کیوں ہاتھ لگایا ہے اور شاہ زیب کو پکڑنے لگا۔ دوستوں کے کہنے پر شاہ زیب وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ شاہ رخ نے وہاں چار ہوائی فائر کیے اور کہا کہ میں سکندر جتوئی کا بیٹا ہوں ، شاہ رخ میرا نام ہے میں اس کو آج نہیں تو کل مار دوں گا۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں بیٹھ کر شاہ زیب کے پیچھے چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد ہمیں پتہ چلا کہ شاہ زیب کا قتل ہو گیا ہے۔ اورنگزیب خان نے کہا کہ وہ شاہ زیب کے قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔




انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کو بھی شاہ زیب کے قتل کا نوٹس لینا چاہیے۔ واقعے کے ایک عینی شاہد نے بھی اورنگزیب خان کی بات کی تصدیق کی کہ شاہ رخ نے گلی کے کونے پر فائر کیے اور کہا کہ وہ سکندر جتوئی کا بیٹا ہے اس کا نام شاہ رخ ہے وہ شاہ زیب کو نہیں چھوڑے گا۔ شاہ زیب کے مبینہ قاتل شاہ رخ کے والد نے کہا کہ ہم شاہ زیب کے قتل کے قصوار نہیں ہیں۔ شاہ رخ آسٹریلیا سے ایم بی اے کر رہا ہے اور وہ آسٹریلیا واپس جا چکا ہے۔ سکندر جتوئی نے کہا کہ ان کا بیٹا رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے برگر لینے سی ویو گیا تھا۔ برگر کا بل بھی ہے اس پر ٹائم بھی لکھا ہوا ہے۔ وہ واپس آرہا تھا کہ کنٹری کلب کے قریب کچھ لڑکوں میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ اس کے پاس نہ اسلحہ تھا اور یہ کوئی محافظ ۔ ایک چھوٹا بچہ اس کے ساتھ تھا۔

شاہ زیب کے والد نے اس کو مکا مارا جس سے اس کی ناک سے خون نکلنے لگا۔ شا ہ زیب اور اس کے دوستوں نے بھی مارا تو وہ اس پر چیخا۔ اس کے بعد انھوں نے شاہ رخ سے معافی مانگی۔ کراچی میں اتنے قتل ہوتے ہیں۔ کیا کوئی قاتل اپنے باپ کا نام بتا کر جاتا ہے۔ مار کھانے کے بعد شاہ رخ گھر آیا اور اس کے بھائی اس کو ہسپتال لے گئے جہاں سے طبی امداد لینے کے بعد وہ اسی رات آسٹریلیا واپس چلا گیا۔

اگر ہم لڑنا چاہتے یا انتقام لینا چاہتے تو اس کے گھر جاتے۔ سراج تالپورآٹھ سال سے ان کا ہمسایہ ہے آپ ایف آئی آر پڑھیں ڈی ایس پی اورنگزیب کو سراج تالپور کے باپ کا نام نہیں معلوم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ شاہ زیب کی گاڑی سے گولیوں کے خول کیوں ملے۔ شاہ زیب کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کرایا گیا۔ ہم تو تباہ ہو گئے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کا جھگڑا کس کے ساتھ ہوا ہے۔ ہم نے جو بھی ریکارڈ دینا ہے وہ پولیس کو دینا ہے۔ ہم کہیں چھپ رہے ہیں اور کبھی کہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story