امڈتے طوفانوں سے نمٹنے کی تیاری
عالم اسلام کو دہشت گردی کے عفریت نے شکنجہ میں جکڑ رکھا ہے
، فوٹو؛ پی پی آئی
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ قومی مفاد ہر چیز پر مقدم ہے ، جنگ نہیں چاہتے ، تمام مسائل مذاکرات سے حل کیے جانے چاہئیں ، حافظ سعید کی نظر بندی کا فیصلہ پالیسی فیصلہ ہے جو ریاستی اداروں نے مل کر کیا ہے ، ان کی نظر بندی سے متعلق آیندہ ایک دو روز میں وضاحت ہوجائے گی، پاک افغان سرحد پر ایف سی کے مزید 29 ونگز بنائے گئے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ملکی داخلی صورتحال ، پاک افغان تعلقات، دہشتگردی سے نمٹنے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظر بندی سمیت کراچی آپریشن، بلاگرز کی گمشدگی و بازیابی،اخباری لیکس اور بھارتی حکام کے بیانات کے تناظر میں پاکستان کی آیندہ پالیسیوں کی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی۔
یہ بریفنگ کثیر جہتی مفاہیم کی حامل تھی جو ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال، نئی ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ پرخطر اقدامات سے پیدا ہونے والے نئے پیچیدہ حالات و حقائق کے سیاق و سباق میں ریاستی ڈاکٹرائن کی معروضی پیشرفت کی مظہر ہے اور اس بات کی ضرورت تھی کہ سیاسی و عسکری قیادت امریکا اورمختلف سمتوں سے یقینی طور پر اٹھتے اور امڈتے طوفانوں سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرلے، کیونکہ بھارت اپنا پورا زور لگا رہا ہے کہ وہ امریکی حاشیہ برداری اور پاکستان کے پڑوسی افغاستان سے مل کر پاکستان کے گرد الزامات اور گھناؤنے پراپیگنڈہ سے گھیرا تنگ کرے تاہم پاک فوج کی طرف سے کرارا جواب دیا گیا ہے، اب ٹرمپ کے اقدامات کے اثرات و مضمرات کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
ادھر موقع ملتے ہی بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے بڑھک ماری کہ پاکستان سے دراندازی روکنے کے لیے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارت کی طرف سے سرجیکل سڑائیکس اپنی علاقائی خودمختاری پر بار بار حملوںکا منہ توڑ جواب تھا، ساتھ ہی بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابل بھروسہ اقدامات کرے۔ بھارتی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں خیال آرائی تھی کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ کے خلاف تازہ کارروائی ماضی میں کی گئی پاکستانی کارروائیوں سے مختلف نہیں، علاوہ ازیں بھارتی وزیر مملکت داخلہ امور کرن ریجی جیو نے پاکستان پر مستقل دباؤ ڈالنے کا بیان جاری کیا ہے ،چنانچہ ان بیانات کے آئینہ میں پاکستان کو مخالفین کے عزائم سے خبردار رہنا چاہیے، سب سے بڑا خطرہ ٹرمپ ازم کا ہے۔
جو ''بل ان دا چائنا شاپ'' کے مصداق اپنے حلیفوں سے بھی نبرد آزمائی کی دیوانگی میں مبتلا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان دی، آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہم امن و امان کے بہتر ماحول میں سانس لے رہے ہیں، امن کی فضا وقت کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں میں تمام اداروں کا حصہ ہے، قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے 84 فیصد شہری اپنے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں، کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ بچے کچے دہشت گردوں کا بھی صفایا کیا جاسکے۔
دریں اثنا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے، پالیسی واضح ہے پاکستانی سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دینگے، انھوں نے کہا کہ آپریشنز کے بعد دہشت گردوں کو کسی صورت واپس نہیں آنے دیں گے۔ قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے منگل کو یہاں ایوان وزیراعظم میں ملاقات کی جس کے دوران علاقائی اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا اور خطے اورسرحدی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جب کہ آپریشن ضرب عضب سمیت مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کی پالیسیاں اور پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات پر بھی غور کیا گیا۔
ارباب اختیار کو پیداشدہ ملکی و عالمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی معاملہ فہمی، تدبر و حکمت اور ہمہ جہتی سیاسی بریک تھرو کے لیے نتیجہ خیز ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، پاک امریکا تعلقات کو اس کی تاریخ کے اعصاب شکن امتحان کا سامنا ہے، پاکستان کے خلاف ''بدی کا محور'' غیر محسوس طور پر تشکیل پا چکا ہے۔
عالم اسلام کو دہشتگردی کے عفریت نے شکنجہ میں جکڑ رکھا ہے، امریکا برصغیر سمیت پوری دنیا کی معیشت ، سیاست اور سفارت کاری کو تہ و بالا کرنے کے لیے پیش قدمی کا عندیہ دے چکا ہے، پاکستان کے خلاف مطالبات کی امریکی فہرست کافی لمبی ہوسکتی ہے، سامراج مسلمانوں کو جنگوں کے ذریعے بربادی کے گرداب میں دھکیلنے پر تلا ہے، لہٰذا مسلم دنیا استعماری طاقتوں کو باور کرائے کہ امن انسانیت کا سب سے بڑا تحفہ ہے اور پاکستان نے جنگ نہیں مذاکرات کی بات کرکے گیند جنگ بازوں کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔
ملکی داخلی صورتحال ، پاک افغان تعلقات، دہشتگردی سے نمٹنے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظر بندی سمیت کراچی آپریشن، بلاگرز کی گمشدگی و بازیابی،اخباری لیکس اور بھارتی حکام کے بیانات کے تناظر میں پاکستان کی آیندہ پالیسیوں کی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی۔
یہ بریفنگ کثیر جہتی مفاہیم کی حامل تھی جو ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال، نئی ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ پرخطر اقدامات سے پیدا ہونے والے نئے پیچیدہ حالات و حقائق کے سیاق و سباق میں ریاستی ڈاکٹرائن کی معروضی پیشرفت کی مظہر ہے اور اس بات کی ضرورت تھی کہ سیاسی و عسکری قیادت امریکا اورمختلف سمتوں سے یقینی طور پر اٹھتے اور امڈتے طوفانوں سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرلے، کیونکہ بھارت اپنا پورا زور لگا رہا ہے کہ وہ امریکی حاشیہ برداری اور پاکستان کے پڑوسی افغاستان سے مل کر پاکستان کے گرد الزامات اور گھناؤنے پراپیگنڈہ سے گھیرا تنگ کرے تاہم پاک فوج کی طرف سے کرارا جواب دیا گیا ہے، اب ٹرمپ کے اقدامات کے اثرات و مضمرات کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
ادھر موقع ملتے ہی بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے بڑھک ماری کہ پاکستان سے دراندازی روکنے کے لیے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھارت کی طرف سے سرجیکل سڑائیکس اپنی علاقائی خودمختاری پر بار بار حملوںکا منہ توڑ جواب تھا، ساتھ ہی بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابل بھروسہ اقدامات کرے۔ بھارتی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں خیال آرائی تھی کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ کے خلاف تازہ کارروائی ماضی میں کی گئی پاکستانی کارروائیوں سے مختلف نہیں، علاوہ ازیں بھارتی وزیر مملکت داخلہ امور کرن ریجی جیو نے پاکستان پر مستقل دباؤ ڈالنے کا بیان جاری کیا ہے ،چنانچہ ان بیانات کے آئینہ میں پاکستان کو مخالفین کے عزائم سے خبردار رہنا چاہیے، سب سے بڑا خطرہ ٹرمپ ازم کا ہے۔
جو ''بل ان دا چائنا شاپ'' کے مصداق اپنے حلیفوں سے بھی نبرد آزمائی کی دیوانگی میں مبتلا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان دی، آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہم امن و امان کے بہتر ماحول میں سانس لے رہے ہیں، امن کی فضا وقت کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں میں تمام اداروں کا حصہ ہے، قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے 84 فیصد شہری اپنے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں، کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ بچے کچے دہشت گردوں کا بھی صفایا کیا جاسکے۔
دریں اثنا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے، پالیسی واضح ہے پاکستانی سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دینگے، انھوں نے کہا کہ آپریشنز کے بعد دہشت گردوں کو کسی صورت واپس نہیں آنے دیں گے۔ قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے منگل کو یہاں ایوان وزیراعظم میں ملاقات کی جس کے دوران علاقائی اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا اور خطے اورسرحدی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جب کہ آپریشن ضرب عضب سمیت مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کی پالیسیاں اور پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات پر بھی غور کیا گیا۔
ارباب اختیار کو پیداشدہ ملکی و عالمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی معاملہ فہمی، تدبر و حکمت اور ہمہ جہتی سیاسی بریک تھرو کے لیے نتیجہ خیز ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، پاک امریکا تعلقات کو اس کی تاریخ کے اعصاب شکن امتحان کا سامنا ہے، پاکستان کے خلاف ''بدی کا محور'' غیر محسوس طور پر تشکیل پا چکا ہے۔
عالم اسلام کو دہشتگردی کے عفریت نے شکنجہ میں جکڑ رکھا ہے، امریکا برصغیر سمیت پوری دنیا کی معیشت ، سیاست اور سفارت کاری کو تہ و بالا کرنے کے لیے پیش قدمی کا عندیہ دے چکا ہے، پاکستان کے خلاف مطالبات کی امریکی فہرست کافی لمبی ہوسکتی ہے، سامراج مسلمانوں کو جنگوں کے ذریعے بربادی کے گرداب میں دھکیلنے پر تلا ہے، لہٰذا مسلم دنیا استعماری طاقتوں کو باور کرائے کہ امن انسانیت کا سب سے بڑا تحفہ ہے اور پاکستان نے جنگ نہیں مذاکرات کی بات کرکے گیند جنگ بازوں کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔