بچت اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ یا اشک شوئی

پی پی دور کے مقابلے میں یہ شرح منافع اب بھی کم ہے جب کہ مہنگائی کا گراف بڑھ چکا ہے

فوٹو/فائل

ملک میں بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی خاطر حکومت نے شرح منافع میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے بچت اسکیموں کی شرح منافع میں 4 ماہ کے بعد 20 پوائنٹس کا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح منافع 7 اعشاریہ 54 فیصد ہوگئی ہے، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح منافع 6 فیصد کر دی گئی ہے یعنی اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ پر ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والوں کو اب 5 ہزار 800 کے بجائے 6 ہزار روپے ملیں گے، دوسری جانب ریگولر انکم سرٹیفکیٹ کی شرح منافع اب 6 اعشاریہ 54 فیصد ہوگئی ہے تاہم بہبود سیونگ اسکیم کی شرح منافع کو9 اعشاریہ 36 پر برقرار رکھا گیا ہے۔

حکومت کا بچت اسکیموں میں شرح منافع کی بڑھوتری کا فیصلہ صائب ہے لیکن اگر موازنہ کیا جائے تو یہ شرح منافع اب بھی نہایت کم ہے جو اشک شوئی ہے، جس کی جانب توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت نیشنل سیونگ اسکیم کے ریٹ پہلے ہی کافی کم ہوچکے تھے جس کے باعث اس میں سرمایہ کاری کا رجحان گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم رہا ہے۔ کم شرح نفع کے باعث وہ حضرات جو اپنی رقم کی حفاظت اور منافع کی غرض سے سرکاری بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرتے تھے دل برداشتہ ہوکر اپنا پیسہ نکالنے لگے تھے۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اوسط درجے کے ملازمین، ریٹائرڈ و پنشن یافتہ افراد، بیواؤں اور بزرگوں کی اکثریت کا گزارا صرف قومی بچت اسکیموں کے منافع پر ہوتا ہے، جب کہ گزشتہ عرصے میں وزیر خزانہ نے بچت اسکیموں پر شرح سود 4 فیصد کردیا تھا جس سے عوام براہ راست متاثر ہورہے تھے۔ پی پی دور کے مقابلے میں یہ شرح منافع اب بھی کم ہے جب کہ مہنگائی کا گراف بڑھ چکا ہے۔

حکومت کی ان سیونگ اسکیموں میں سرمایہ کاری کرکے غریب خاندان اپنی بچیوں کی شادیاں اور بیوائیں کوئی سرپرست نہ ہونے کے باوجود قابل عزت زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہیں، یہ شرح منافع ہی ان کی کل آمدنی ہوتی ہے۔ حکومت کو اس جانب فوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور قومی بچت کے منافع میں کم از کم اتنا اضافہ لازمی کرنا چاہیے کہ کسی اور آمدنی سے محروم یہ طبقہ صحیح معنوں میں بچت اسکیموں کے ثمرات سے محظوظ ہوسکے۔
Load Next Story