وزیراعظم سے ہاتھ ملانے کی خواہش

آج ہم بڑے خوش ہیں اتنے زیادہ خوش ہیں کہ ہم عش عش کرنا بھی بھول گئے

barq@email.com

آج ہم بڑے خوش ہیں اتنے زیادہ خوش ہیں کہ ہم عش عش کرنا بھی بھول گئے اور منہ سے بے اختیار خوش خوش کی آواز نکل رہی ہے کیوں کہ زندگی میں پہلی بار ہمیں ایک ایسا خط کسی نے بھیجا ہے کہ طبیعت مچل گئی، اب تک جو بھی قیامت کے نامے ہمارے نام آتے تھے ان میں رونا ہی رونا ہوتا تھا کیوں کہ امریکا کے اخلاق حسنہ، آئی ایم ایف کے قرض حسنہ اور حکومتوں کی خدمات کہنہ سے ہر آنکھ میں ناسور، ہر دل میں سوراخ اور ہر دماغ میں فتور نے اتنا پانی بھر دیا ہے کہ آنسوؤں کے سوا کچھ ٹپکتا ہی نہیں، ایسے میں کسی ایسے خط کا ملنا جو زعفران سے کم نہیں انتہائی خوشی کی بات ہے۔ خط کوئی لمبا چوڑا نہیں ہے، نہ ہی اس میں لکھنے والے نے کوئی لمبی چوڑی خواہش ظاہر کی، انتہائی بلکہ کنجوسی کی حد تک کم الفاظ میں ایک پڑھنے والے نے اپنی ایک چھوٹی سی ننھی منی سی بلکہ معصوم سی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

عبدالرب نامی ایک اس پڑھنے والے نے لکھا ہے کہ مجھے اپنے وزیراعظم سے مصافحہ کرنے کی شدید خواہش ہے اس سلسلے میں وزیراعظم کو بڑے خطوط بھی لکھے بلکہ مسلسل لکھتا رہتا ہوں لیکن جواب سے محروم ہوں۔ اب آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اپنے کالم میں صرف ایک سطر لکھ دیں کہ علاقہ مانسہرہ سے عبدالرب کو ملاقات اور مصافحے کا شرف عطاء کیا جائے۔ دراصل اس کیس میں ہماری دل چسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم پر بھی ایک کٹھن زمانہ ایسا گزرا ہے کہ ہم اسی طرح اس قتالہ عالم، حسن آبنوسی اور حسینہ حبش کنڈولیزا رائس کے ساتھ مصافحہ کرنے کے لیے بے تاب ہوا کرتے تھے اور وہ ظالم ستمگر دنیا میں اپنا مصافحہ بانٹتی پھرتی تھی لیکن پیاسے کی قسمت میں صرف اخبار چاٹنا لکھا تھا۔

اپنے اس ہم مرض، ہم خیال اور ہم ارمان کے بارے میں تو پتہ نہیں لیکن ہم اس وقت حامد کرزئی اور دیگر حکمرانوں سے بڑے جلتے تھے بلکہ جی چاہتا تھا کہ ان کے وہ ہاتھ کسی طرح کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیں جن کو اس رشک چمن سے مصافحہ کرنے کا شرف حاصل تھا، آپ سے اب کیا پردہ کرزئی اور دیگر حکمران اپنے کیفر کردار تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ہم نے قرض ادھار لے کر ایسے اجرتی بھی ہائر کر لیے تھے جو ان حکمرانوں کے ہاتھ... خیر چھوڑیئے وہ ''رات'' بھی گئی اور رات کی بات بھی گئی چنانچہ ہمیں اپنے اس ''ہمدرد'' سے حد درجہ ہمدردی ہے اس لیے حتی المقدور اس کی رہبری و رہنمائی کریں گے۔ ہمارے خیال میں وزیراعظم تک پہنچنا تو اب محال ہے کیوں کہ ایک پشتو ٹپہ میں اس کی صراحت موجود ہے کہ

پتنگہ خاورے دے پہ سر شوے


شمع لہ جوڑ شو پہ شیشو کے مکانونہ

یعنی اے پروانے تم تواب اپنے آپ کو خاک بسری سمجھ لو، کہ شمع کے لیے اب شیشوں کے مکان بن گئے ہیں اور تمہاری رسائی سے بہت دور ہو گئی ہے، لیکن ایک متبادل راستہ ہمارے پاس ہے اور وہی اپنے اس ہم مرض، ہم درد اور ہم سخن کو سمجھائے دیتے ہیں، وزیراعظم تک پہنچنا تو بالکل بھی ناممکنات میں سے نہیں، چاہے ایک سطرتو کیا ستر ستر سطروں پر مبنی ستر کالم ہی کیوں نہ لکھ ماریں کیوں کہ وہ زمانے اب ماضی بن کر رہ گئے جب وہ ہمارا کالم پڑھتے تھے بلکہ چھوٹے میاں بھی پڑھا کرتے تھے کیوں کہ یہ تو باقاعدہ زندگی کا ''نصاب'' ہے کہ ہائی کلاسز کے طلباء ''مڈل'' کا نصاب نہیں پڑھتے، کالج کے طالب علم ہائی کلاسز کی کتابیں کس لیے پڑھیں اور یونی ورسٹی کے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی والوں کوکیا پڑی ہے کہ نیچے کے نصاب کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں، چھت پر پہنچ جانے والے ''سیڑھیوں'' سے کوئی ناطہ نہیں رکھتے، اس لیے ہماری سطروں اور کالموں سے تو کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا البتہ ایک طریقہ ہے جو ہم اختیار کرتے کرتے رہ گئے تھے۔

وزیراعظم سے بہت سارے مسلم لیگی ممتاز رہنماء ہاتھ ملاتے رہتے ہیں یعنی یہ شرف ان کو حاصل ہے آپ بھی ایسے کچھ مسلم لیگی ممتاز رہنماؤں کو ڈھونڈ لیں اتنی مشکل نہیں ہے آج کل ابھی پارٹی حکومت میں ہے اس لیے ممتاز مسلم لیگی رہنماء ایک ڈھونڈو ہزار مل جاتے ہیں، بس انھی میں سے کچھ جتنے زیادہ ہوں اچھا ہے ان کے وہ ہاتھ نہایت عقیدت و احترام سے حاصل کریں اور جتنی مرتبہ چاہیں دن میں شرف مصافحہ حاصل کر لیا کریں، مکمل تسلی تو شاید نہ ہو سکے لیکن ''اصل'' میسر ہونے میں بھی ابھی زیادہ دن نہیں رہے ہیں، ویسے مزید رہنمائی کے طور پر ہم ان کو یہ اشارہ بھی دیتے ہیں کہ آج کل ان سے ہاتھ ملانے والا ایک مقامی ممتاز مسلم لیگی رہنماء اس قرب و جوار میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ جتنا وہ ہے اور ہاتھ ملانے کے لیے تقریباً ہر ''مقام'' پر دستیاب بلکہ اگر آپ اسے اس مقامی مسلم لیگی رہنماء تک اپنی یہ خواہش پہنچا دیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مقام سے اڑ کر آپ کے مقام تک پہنچے اور آپ کو مصافحے سے ''امیر'' کر دیں۔ ہم تو صادق عاشق ہیں اس لیے اپنے اس پڑھنے والے کی خواہش مصافحہ کو بھی ''عشق و محبت'' کا معاملہ سمجھ رہے ہیں، لیکن آخر میں ایک ''شبہ'' سا دم ہلا رہا ہے کہ کہیں اس کی یہ خواہش لالچ پر مبنی تو نہیں ہے کہیں اس نے سن لیا ہو کہ اس ''سنگ پارس'' کو چھونے سے اس کے پاس بھی دھن دولت کے ڈھیر ہو جائیں گے، اگر ایسا ہے کہ یہ اپنی اپنی قسمت ہے بلکہ ہنر ہے، ہاتھوں یا ان کی لکیروں میں کچھ نہیں رکھا ہے بلکہ شاید اس ہاتھ کی لکیریں تمہارے ہاتھ پر ''الٹی'' چھپ جائیں۔

اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک انتہائی وہمی تھا ایک دن شکار پر جاتے ہوئے ایک کانے شخص کو دیکھا تو اسے بدشگونی سمجھ کر اس بے چارے کو زندان میں ڈالنے کا حکم دیا، اس دن توقع سے زیادہ شکار ملا تو اس نے واپس آکر اس آدمی کو رہا کر کے معذرت کی کہ تم تو آج میرے لیے بابرکت ثابت ہوئے ۔اس شخص نے کہا حضور میں تو آپ کے لیے سعد ثابت ہوا لیکن آپ کے دیدار نے مجھے جیل کی ہوا کھلائی۔
Load Next Story