خسرہ کی روک تھام کے لیے اقدامات کی ضرورت
خسرہ کی وبا سے سے سب سے زیادہ ضلع کشمور متاثر ہوا۔ یہ مرض بلوچستان کے علاقے سبی تک پھیل گیا۔
سندھ میں خسرہ سے ہلاک ہونے والے بچوںکی تعداد 240 تک جا پہنچی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
خسرہ کی وبا سندھ کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی بھی پہنچ گئی ، راولپنڈی کی ایک بچی انتقال کر گئی جب کہ سندھ میں مزید11بچے جاں بحق ہو گئے جب کہ خسرہ سے بچائو کی ویکسین ناپید ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے پھلگراں میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی ہے ، شہر اورگردونواح میں11بچے متاثر ہوئے ہیں،7میں خسرہ کی بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے ۔
وزارت صحت اور بعض طبی ادارے اس ضمن میں وباء کے پھوٹ پڑنے سے متعلق حقائق کو جھٹلا رہے ہیں ، جب کہ صورتحال کی سنگینی کو ادارک کرنے کے بجائے سرکاری محکمے اپنی مجرمانہ غفلت کی نئی نئی تاویلیں پیش کررہے ہیں، ڈینگی اور پولیو کے بعد اب خسرہ نے سر اٹھایا ہے۔ یہ کس قسم کی گڈ گورننس ہے جہاں جعلی دوائوں کے باعث شہری اور بچے ہلاک ہورہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مریم یونس نے کہا ہے کہ پاکستان میں خسرہ سے اب تک 300 سے زائد ہوچکی ہیں۔
پاکستان دنیا کے چند ان ممالک میں سے ہے جہاں عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے تعاون سے بچوں کو خناق،خسرہ، پولیوسمیت ہیپاٹائٹس ، تپ دق ، انفلوئنزا وغیرہ کی روک تھام اور خاتمے کے لیے ویکسین اور ٹیکوںکی مہمیں جاری ہیں۔ خسرہ سمیت پولیو اور دیگر وبائی امراض کے دوبارہ پھیلنے کی وجوہات میں ناکافی اقدامات اور امیونائزیشن کوریج کی کمی بھی ہے۔ خسرہ کے مرض میں مبتلا راولپنڈی کی دو سالہ عظمیٰ گذشتہ رات انتقال کر گئی ۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں بھی ایک بچے میں خسرہ کے مرض کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ نواحی علاقے پھلگراں میں 6 بچوں ، چراہ میں2 اور راولپنڈی کے ایک بچے میں خسرہ کی تصدیق ہوئی ہے ۔اس کے علاوہ گلگت سے اسلام آباد لایا جانے والا ایک بچہ بھی پمز میں جب کہ تین مزید بچے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے چلڈرن اسپتال میں زیرعلاج ہیں ۔ضلع ملتان میں خسرہ کے 10 جب کہ میلسی میں 4کیس رپورٹ ہوئے ۔ سندھ میں خسرہ سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 240 تک جا پہنچی ہے ۔
یہ دردناک اعداد وشمار ہیں ۔ زیادہ تر بچے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خسرہ سے سب سے زیادہ ضلع کشمور متاثر ہوا۔ یہ مرض بلوچستان کے علاقے سبی تک پھیل گیا،لاڑکانہ میں محکمہ صحت کو 3لاکھ 97 ہزار بچوں کو ویکسین دیے جانے کا ہدف دیا گیا ہے، 3 دن میں ایک لاکھ 13ہزار بچوں کو خسرے سے بچائو کے حفاظتی ٹیکے لگا دیے گئے ہیں، بلوچستان کے علاقے میں خسرہ کے مرض کی شکایات کے بعد ویکسی نیشن کا سلسلہ شہری و دیہی علاقوں میں شروع کردیا گیا ہے اور 9 ماہ سے 10سال تک کے بچوں کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے،خانہ بدوشوں کے علاقے میں 18بچوں میں خسرے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت کے شعبے کو قبائلی علاقوں میں مزاحمت کا سامنا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کوخسرہ سمیت تمام وبائی امراض سے بچانے کے لیے جاری مہموں کومنطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے ۔
وزارت صحت اور بعض طبی ادارے اس ضمن میں وباء کے پھوٹ پڑنے سے متعلق حقائق کو جھٹلا رہے ہیں ، جب کہ صورتحال کی سنگینی کو ادارک کرنے کے بجائے سرکاری محکمے اپنی مجرمانہ غفلت کی نئی نئی تاویلیں پیش کررہے ہیں، ڈینگی اور پولیو کے بعد اب خسرہ نے سر اٹھایا ہے۔ یہ کس قسم کی گڈ گورننس ہے جہاں جعلی دوائوں کے باعث شہری اور بچے ہلاک ہورہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مریم یونس نے کہا ہے کہ پاکستان میں خسرہ سے اب تک 300 سے زائد ہوچکی ہیں۔
پاکستان دنیا کے چند ان ممالک میں سے ہے جہاں عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے تعاون سے بچوں کو خناق،خسرہ، پولیوسمیت ہیپاٹائٹس ، تپ دق ، انفلوئنزا وغیرہ کی روک تھام اور خاتمے کے لیے ویکسین اور ٹیکوںکی مہمیں جاری ہیں۔ خسرہ سمیت پولیو اور دیگر وبائی امراض کے دوبارہ پھیلنے کی وجوہات میں ناکافی اقدامات اور امیونائزیشن کوریج کی کمی بھی ہے۔ خسرہ کے مرض میں مبتلا راولپنڈی کی دو سالہ عظمیٰ گذشتہ رات انتقال کر گئی ۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں بھی ایک بچے میں خسرہ کے مرض کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ نواحی علاقے پھلگراں میں 6 بچوں ، چراہ میں2 اور راولپنڈی کے ایک بچے میں خسرہ کی تصدیق ہوئی ہے ۔اس کے علاوہ گلگت سے اسلام آباد لایا جانے والا ایک بچہ بھی پمز میں جب کہ تین مزید بچے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے چلڈرن اسپتال میں زیرعلاج ہیں ۔ضلع ملتان میں خسرہ کے 10 جب کہ میلسی میں 4کیس رپورٹ ہوئے ۔ سندھ میں خسرہ سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 240 تک جا پہنچی ہے ۔
یہ دردناک اعداد وشمار ہیں ۔ زیادہ تر بچے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خسرہ سے سب سے زیادہ ضلع کشمور متاثر ہوا۔ یہ مرض بلوچستان کے علاقے سبی تک پھیل گیا،لاڑکانہ میں محکمہ صحت کو 3لاکھ 97 ہزار بچوں کو ویکسین دیے جانے کا ہدف دیا گیا ہے، 3 دن میں ایک لاکھ 13ہزار بچوں کو خسرے سے بچائو کے حفاظتی ٹیکے لگا دیے گئے ہیں، بلوچستان کے علاقے میں خسرہ کے مرض کی شکایات کے بعد ویکسی نیشن کا سلسلہ شہری و دیہی علاقوں میں شروع کردیا گیا ہے اور 9 ماہ سے 10سال تک کے بچوں کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے،خانہ بدوشوں کے علاقے میں 18بچوں میں خسرے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت کے شعبے کو قبائلی علاقوں میں مزاحمت کا سامنا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کوخسرہ سمیت تمام وبائی امراض سے بچانے کے لیے جاری مہموں کومنطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے ۔