گولڈ جیولری کی برآمد طریقہ کار میں معمولی تبدیلی سے تباہ

بطور زیور برآمد ہونیوالی قیمتی دھات واپسی پر امپورٹ قرار دینے سے سونے کی درآمد بڑھ گئی

واپسی پر سونا اسی روز کلیئر کرنے کی سفارش ایف بی آرنے ردی کی ٹوکری میں ڈال دی۔ فوٹو: فائل

پاکستان سے زیورات کی شکل میں برآمد ہونے والا سونا وطن واپسی پر جنرل امپورٹ قرار دیے جانے سے پاکستان میں سونے کی درآمد بڑھ گئی ہے۔

خصوصی اسکیم کے تحت ڈیوٹی فری بنیاد پر سونا وطن لانے والے ایکسپورٹرز کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے انکوائریوں اور نوٹسز کا سامنا ہے، مئی 2011 میں وزارت تجارت کی جانب سے سونے کی واپسی کو گڈز ڈکلیریشن کے بجائے بیگج ڈکلیریشن کے تحت اسی روز کلیئر کرنے کی سفارش ایف بی آر نے ردی کی ٹوکری کی نذر کردی جس سے سونے کے زیورات کی تیاری اور ایکسپورٹ میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔

ایڈیشنل کلکٹر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی نے 6 نومبر 2009 کو ایک اسٹینڈنگ آرڈر S1/Misc/2009/JIAPکے ذریعے انٹرسٹمنٹ (حوالگی) اسکیم کے ذریعے وطن واپس لائے جانے والے سونے کی کلیئرنس کے لیے گڈز ڈکلیریشن (جی ڈی) کی شرط لازم کردی، یہ اسٹینڈنگ آرڈر مجاز حکام کی منظوری کے بغیر صرف کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کیلیے جاری کیے گئے تھے جس کے بعد سے اب تک سونے کے زیورات کے ایکسپورٹزر خود اپنا سونا کلیئر کرانے کیلیے کسٹم کے طویل اور پیچیدہ طریقہ کار اور فائلوں کو متحرک رکھنے کیلیے متوازی نظام کی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں جی ڈی کی شرط کے بعد وطن واپس آنے والے سونے کی کلیئرنس میں ایک ہفتے سے زائد تاخیر کا سامنا ہے جس سے زیورات کی تیاری اور ایکسپورٹ کا کاروبار بری طرح متاثر ہورہا ہے۔




دوسری جانب برآمدی سونے کی وطن واپسی پر اسے جنرل امپورٹ قرار دیے جانے سے پاکستان میں سونے کی درآمد کے اعدادوشمار میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے، انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے سونے کی کلیئرنس کیلیے جی ڈی فائل کرنے والے برآمد کنندگان کو درآمد کنندگان قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف انکوائریاں شروع کر دی ہیں جس سے تنگ آکر بیشتر ایکسپورٹرز نے سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ بند کردی ہے اور ملک کو زرمبادلہ کے حصول میں نقصان کا سامنا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سونے کے زیورات کی صنعت کو درپیش اس اہم اور دیرینہ مسئلے کے حل کیلیے 15 مارچ 2012 کو سیکریٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی صدارت میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں کسٹم اور سول ایوی ایشن اتھارٹی حکام، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں طویل غور اور بحث کے بعد مسئلے کے حل کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس نے متعدد اجلاسوں کے بعد مئی 2012 میں سونے کے کلیئرنس بیگیج ڈکلیریشن کے بجائے ۔

گڈز ڈکلیریشن کے تحت کیے جانے کو سونے کے زیورات کی تیاری اور ایکسپورٹ کیلیے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے گڈز ڈکلیریشن کے شرط ختم کرنے کی سفارش کی تاہم 7 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ایف بی آر نے وفاقی وزارت تجارت کی اس سفارش کو کوئی اہمیت نہیں دی اور سونے کی وطن واپسی پر دشوار ترین مراحل کا سامنا ہے۔

سونے کی درآمد کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2012 سے نومبر 2012 کے دوران 7 ارب 11 کروڑ روپے کا سونا درآمد کیا گیاجو مالی سال 2011-12 کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.32 ارب روپے زائد ہے، صرف نومبر کے ماہ میں 298 کلو گرام سونا درآمد کیا گیا، اس کے مقابلے میں سونے کے زیورات کی برآمدات میں افزائش کی شرح محدود ہے۔
Load Next Story